کورونا وائرسعوام قومی اداروں کا ساتھ دیں

یہ انفرادی ، خاندان ، کمیونٹی اور معاشرے کے طور پر مشکل اور سخت فیصلوں کا وقت ہے

۔لاک ڈاؤن کی وجہ سے نوجوان اور بزرگ زیادہ پریشان نظرآئے فوٹو: فائل

ہم بحیثیت قوم اس وقت ایک کڑی آزمائش سے گزر رہے ہیں، کورونا وائرس کے خلاف ہم حالت جنگ میں ہیں۔ گزشتہ روز ڈی جی آئی ایس پی آر میجرجنرل بابرافتخار نے کورونا وائرس سے بچاؤ کے لیے انفرادی حفاظت کو اجتماعی حفاظت قرار دیتے ہوئے عوام سے درخواست کی ہے کہ وہ فوج اور حکومت سے تعاون کریں اور گھروں تک محدود رہیں۔ ملک بھر میں کورونا وائرس کے نئے کیسز سامنے آنے کے بعد مریضوں کی تعداد تقریباً نوسو سے زائد ہوچکی ہے جب کہ سندھ بھر میں یہ تعداد 408تک جاپہنچی تاحال 7مریض جاں بحق اور 6 صحت یاب ہوچکے ہیں۔

وزارت ریلوے نے ملک بھر میں مسافر ٹرین آپریشن 31مارچ تک کے لیے مکمل طور پر بند کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ ہم ایک خطرناک ترین اسٹیج میں داخل ہورہے ہیں۔ پنجاب بھر میں بھی دو ہفتوں کے لیے باقاعدہ لاک ڈاؤن کا آغاز ہو گیا ہے اور صوبے ہر قسم کے مذہبی و سماجی اجتماعات پر پابندی ہے جب کہ ملکی و غیر ملکی فضائی آپریشن بھی مکمل بند ہے۔ہمیں اس بات کو سمجھنا چاہیے کہ اس وبا کی لپیٹ میں پوری دنیا آچکی ہے،اس وائرس کی ویکسین تیار ہونے میں ابھی بہت سارا وقت لگے گا۔ ایسی صورت حال میں آئسولیشن کوہرصورت میں اختیارکرنا ہے، اسی تناظر میں دیکھا جائے تو انفرادی نظم وضبط اور باہمی تعاون تمام اداروں کی کوششوں کو کامیاب کرے گا۔

یہ انفرادی ، خاندان ، کمیونٹی اور معاشرے کے طور پر مشکل اور سخت فیصلوں کا وقت ہے۔ دوسری جانب وزارت داخلہ کے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ ملک بھر میں فوج تعینات کردی گئی ہے اور وزارت داخلہ نے وفاق، پنجاب، سندھ، خیبر پختو نخوا، بلوچستان، گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر میں فوج تعیناتی کا نوٹیفکیشن جاری کردیا ہے۔ہمیں اس بات کو اچھی طرح ذہن نشین کرنا ہوگا کہ پاک فوج ہماری مدد کے لیے آئی ہے،کیونکہ وہ ایک منظم ادارہ ہے جو اپنے عوام کو کورونا وائرس سے بچانے کے لیے بھرپورحکمت عملی ترتیب دے رہا ہے۔

وفاقی اور صوبائی حکومتیں بھی جواقدامات کررہی ہیں وہ سب ہماری فلاح اورجانوں کے تحفظ کے لیے ہیں، لیکن مقام افسوس ہے کہ تاحال عوام الناس کی سطح پر اس مسئلے کو سنجیدگی سے نہیں لیا جارہا ہے، بالخصوص نوجوان طبقہ اس لاک ڈاؤن پر قطعی طور پر عمل نہیں کررہا ہے بلکہ وہ اسے سیروتفریح کا ذریعہ سمجھ رہا ہے، گھر میں رہ کر احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کے بجائے سڑکوں پر آوارہ گردی کرنے کو کسی بھی طور مثبت چلن قرار نہیں دیا جاسکتا، لاہور اور راولپنڈی سمیت صوبے بھر میں تمام سرکاری و نجی ادارے مکمل بند ہیں تاہم بینک، میڈیکل اسٹورز اور اشیائے ضروریہ کی دکانیں کھلی ہیں اور شہریوں کو وہاں سے خریداری کی اجازت ہے۔

لاہور میں اندرون شہر، بین الاضلاعی اور بین الصوبائی ٹرانسپورٹ بھی مکمل بند ہے جب کہ ڈبل سواری پر پابندی عائد ہے تاہم صرف فیملیز کو اس پابندی سے استثنیٰ ہے۔کورونا وائرس کے باعث کراچی سمیت سندھ بھر میں کیے گئے لاک ڈاؤن کی وجہ سے سڑکوں سے پبلک ٹرانسپورٹ غائب ہے جب کہ پولیس کا مختلف علاقوں میں گشت جاری ہے، اس کے علاوہ پولیس اور رینجرز کی نفری شہر کے مختلف مقامات پر بھی تعینات ہے۔ڈبل سواری پر پابندی عائد کردی گئی ہے ،آزاد کشمیر حکومت نے بھی 3 ہفتوں کے لیے لاک ڈاؤن کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ عوام غیرضروری سفر اور باہر نکلنے پر پابندی ہے۔


ہر قسم کی ٹرانسپورٹ بھی معطل رہے گی۔ وزیراعظم آزاد کشمیر راجہ فاروق حیدر کا کہنا ہے کہ انتہائی ناگزیر حالات میں گھروں سے نکلنے والے شناختی کارڈ رکھیں۔گزشتہ روز کورونا وائرس کے پیش نظر وزیراعظم نے بڑے معاشی ریلیف پیکیج کی منظوری دے دی اور اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ 70 لاکھ دیہاڑی دار افراد کو 3 ہزار روپے ماہانہ دیے جائیں گے، ایکسپورٹرز کے لیے 200 ارب روپے کا ریلیف پیکیج بھی منظور کرلیا گیا۔ یہ تو وہ حکومتی اقدامات ہیں جو وہ اپنی سطح پر اختیار کررہے ہیں لیکن دوسری جانب لاک ڈاون کا فائدہ اٹھا کر دکانداروں نے اشیا مہنگی بیچنا شروع کردی ہیں۔ اس انتہائی سنگین صورتحال میں ایسا عمل قانون کی نہ صرف کھلی خلاف ورزی ہے۔

لہٰذا مہنگائی کرنے والوں کے خلاف سخت ترین کارروائی کی جائے تاکہ عوام کو ریلیف مل سکے ۔ سبزی منڈ ی میں جو آڑھتی لاکھوں روپے کماتے ہیں انھیں بھی چاہیے کہ وہ اپنے طور پر سبزی منڈیوں میں اسپرے کرائیں اور تمام احتیاطی تدابیر کو اختیارکریں، ہر بات حکومت پر ڈال دینا درست عمل نہیں ہے۔ لاک ڈاؤن کے دوران لوگ گھروں سے باہر نکل رہے ہیں جن میں سے بیشتر خواتین، بزرگ، بچے، مرد اور نوجوان کھانے پینے کی اشیاکی خریداری کرتے ہوئے دکھائی دیے اور اس دوران بہت کم لوگوں نے ماسک کا استعمال کیا تھا جب کہ دکانداروں نے بھی ماسک پہنے کی ہدایت کو نظراندازکردیا۔

ملک کے مختلف علاقوں میں ماسک، سینی ٹائزر اور ٹشو پیپر کی منصوعی قلت پیدا کرکے منہ مانگی قیمت وصول کی جارہی ہے۔اس پر متعلقہ محکموں کو فوری ایکشن لینا چاہیے ۔لاک ڈاؤن کی وجہ سے نوجوان اور بزرگ زیادہ پریشان نظرآئے کیونکہ ان کو باہر گھومنے یا گپ شپ کی محفل نہیں مل رہی، لیکن اس وقت انھیں محفل آرائی کو ترک کرکے اپنی اور اپنے خاندان کی خاطر گھروں میں محدود ہونا چاہیے تاکہ قیمتی انسانی جانوں کو بچایا جاسکے، شہر میں پٹرول پمپس کھلے رہے تاہم ان پر رش کم رہا، لاک ڈاؤن کی وجہ سے روزانہ اجرت پر کام کرنے والے مزدور شدید پریشان نظر آئے۔ کراچی میں لاک ڈاؤن کے دوسرے دن اخبارات اور نجی چینلز سے وابستہ صحافیوں کے ساتھ ناروا سلوک کے واقعات بھی رونماہوئے، پولیس اہلکاروں نے صحافیوں کے ساتھ توہین آمیز برتاؤ کیا، حالانکہ وفاقی اورصوبائی حکومتوںاور وزارت داخلہ کی جانب صحافیوں کو پابندیوں سے مستثنیٰ قرار دیا گیا ہے۔

شناختی کارڈ اور پریس کارڈ دکھانے کے باوجود پیشہ وارانہ فرائض کی ادائیگی میں رکاوٹ ڈالنا افسوس ناک ہے۔ کراچی یونین آف جرنلٹس نے مطالبہ کیا ہے کہ ایسے واقعات کو نہ روکا گیا توصحافی احتجاجی عمل اختیارکرنے پر مجبور ہوجائیں گے۔ ایک خبر کے مطابق برطانوی ماہرینِ صحت نے خبردار کیا ہے کہ اگر کسی شخص میں ''حسِ شامّہ'' یعنی سونگھنے کی حس اچانک ختم ہوجائے تو یہ ممکنہ طور پر اس میں کورونا وائرس موجود ہونے کی علامت ہوسکتی ہے۔یہ انکشاف انھوں نے جنوبی کوریا، چین، فرانس، اٹلی اور امریکا میں کورونا وائرس کے متاثرین کی تفصیلات کا جائزہ لینے کے بعد کیا ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ نوول کورونا وائرس/ کووِڈ19 کے 30 فیصد مریضوں نے بیماری کی علامات ظاہر ہونے سے پہلے سونگھنے کی حس اچانک ختم ہوجانے کے بارے میں بتایا ہے۔اس بات کا باضابطہ اعلان برٹش رائنولوجیکل سوسائٹی کے صدر، پروفیسر کلیئر ہوپکنز اور برٹش ایسوسی ایشن آف اوٹو رائنو لیرائنگولوجی کے صدر نرمل کمار اپنے مشترکہ بیان میں کیا ہے۔ کورونا وائرس کی روک تھام کے لیے لاک ڈاؤن پر موثر عمل درآمد کی ضرورت ہے، لوگوں میں احتیاطی تدابیر کی آگہی کے لیے موثر مہم چلائی جائے، تاکہ عوام میں شعور بیدار ہوسکے۔ہمیں ایک سمجھ دارقوم ہونے کا ثبوت دیتے ہوئے تمام احتیاطی تدابیر کو اختیارکرنا چاہیے، اسی میں ہم سب کی بھلائی اور بقا ہے۔
Load Next Story