معیشت اور ریاست

کورونا وائرس کی وجہ سے ملک میں معاشی صورت حال خراب ہو رہی ہے


Editorial March 25, 2020
چھوٹی کارخانہ داری کو فروغ دیا جاتا تو شوگر ملز کارٹل بنا کر من مانی نہ کرتیں فوٹو: فائل

کورونا وائرس کی وجہ سے ملک میں معاشی صورت حال خراب ہو رہی ہے، ایسے موقع پر ملک چلانے والوں کی فہم و فراست کا بھی امتحان ہے۔

آج یہ بات ثابت ہو گئی ہے کہ اگر پاکستان کے زرعی شعبے کو ترقی یافتہ بنانے کی کوشش کی جاتی تو آج ہمیں خوراک میں خود کفالت حاصل ہوتی، ہمارا کسان خوشحال ہوتا جس کے نتیجے میں دیہات میں بسنے والا زرعی مزدور شہروں کا رخ نہ کرتا ، اسے گاؤں میں ہی روز گار ملتا ۔ اسی طرح صنعتی پالیسی بناتے وقت 'ملک کی ضروریات اور اس کے جغرافیے اور زمینی ماحول کو سامنے رکھ کر کارخانے لگانے کی اجازت دی جاتی تو اس سے زراعت بھی پھیلتی اور ملکی صنعت بھی ترقی کرتی۔

آج حالت یہ ہے کہ دالیں 'سبزیاں اور پھل تک بیرون ملک سے منگوائے جا رہے ہیں، اس کی وجہ یہ ہے کہ ملکی زراعت کو تباہ کر دیا گیا ہے' ایسی صنعتیں لگائی گئی ہیں جن کی پاکستان کے عوام کو ضرورت نہیں ۔ اگر ملک میں چھوٹی کارخانہ داری کو فروغ دیا جاتا تو آج شوگر ملز اور سیمنٹ ملز کارٹل بنا کر من مانی نہ کرتی، اسی طرح صحت اور تعلیم کو نجی تحویل میں دے کر کاروباری درجہ نہ دیا جاتا تو آج سرکاری اسکولز' کالجز اور یونیورسٹیاں ماضی کے معیار کے مطابق بلکہ اس سے بڑھ کر نتائج دے رہی ہوتی، ریاست نے چونکہ سب کچھ کاروباری افراد کے حوالے کر دیا تو اس کا نتیجہ آج یہ ہے کہ ریاست کے پاس اپنے عوام پر خرچ کرنے کے لیے پیسے نہیں ہیں۔

مقبول خبریں