پاکستانی ویمن کبڈی ٹیم پہلی بار عالمی ایونٹ میں شریک
بین الاقوامی ایونٹ میں ملک کی نمائندگی کا موقع پانا خواب شرمندہ سچ ہونے کے مترادف ہے،کھلاڑیوں کے خیالات
بھارت میں اپنے ملک کیلیے بہترین صلاحیتیں بروئے کار لانا چاہوں گی،سعیدہ فریدہ۔ فوٹو: اے ایف پی
رواں ہفتے پاکستان کی 16کبڈی خواتین پلیئرز بھارت میں نئی تاریخ رقم کریں گی، قومی ویمنز ٹیم پہلی مرتبہ کسی عالمی ایونٹ میں شریک ہو رہی ہے، اسے پول میچز میں انگلینڈ، میکسیکو اور ڈنمارک کا سامنا کرنا ہوگا۔
میزبان بھارت ابتدائی مقابلوں میں امریکا، کینیا اور نیوزی لینڈ کیخلاف میدان سنبھالے گا۔ کبڈی کاکھیل بھارت اور پاکستان کے پنجاب صوبوں میں خاصا مقبول ہے، اسکواڈ میں شامل 24 سالہ سعیدہ فریدہ خانم نے بتایاکہ کھیل میں آنے کیلیے مجھے اپنے اہل خانہ کو قائل کرنے کیلیے کئی برس تک کوشش کرنا پڑی، انھوں نے کہا کہ بین الاقوامی ایونٹ میں ملک کی نمائندگی کا موقع پانا خواب شرمندہ سچ ہونے کے مترادف ہے، انھوں نے مزید کہاکہ میں بچپن سے ہی کھیلوں سے پاگل پن کی حد تک دلچسپی رکھتی تھی اور مجھے کئی مرتبہ ملکی ایونٹس کیلیے منتخب کیا جاچکا ہے، فیملی نے مجھے کالج یا یونیورسٹی کے ٹریننگ کیمپ سے باہر پریکٹس کی اجازت نہیں دی تھی، جب میں کبڈی ٹیم کیلیے منتخب ہوئی تو والدہ کو بتادیا تھا کہ میں ہر حال میں لاہور میں کیمپ کو جوائن کروں گی ۔
بہترین دفاعی کھلاڑی سمجھی جانے والی سعیدہ نے مزید کہا کہ لاہور کے پنجاب اسٹیڈیم میں ہم نے سخت فٹنس سیشن کیے، قومی ٹیم کی جرسی زیب تن کرنا میرا بچپن سے ہی خواب تھا اور اب میں بھارت میں جاکر اپنے ملک کیلیے بہترین صلاحیتیں بروئے کار لانا چاہوں گی، میں ثابت کرنا چاہوں گی کہ پاکستانی خواتین بھی دیگر ممالک کی پلیئرز کی طرح عمدہ پرفارم کرسکتی ہیں، نائب کپتان سمیرا ظہور نے کہا کہ ہم ایونٹ میں پاکستان کی نمائندگی کرتے ہوئے کامیابی پانے کی پوری کوشش کریں گے، کبڈی ٹیم کیلیے مختلف کھیلوں سے خواتین ٹیم کا چنائو کیاگیا،کچھ لڑکیاں ایتھلیٹکس سے آئیں جبکہ چند بنیادی طور پر ویٹ لفٹنگ کرتی ہیں۔
میزبان بھارت ابتدائی مقابلوں میں امریکا، کینیا اور نیوزی لینڈ کیخلاف میدان سنبھالے گا۔ کبڈی کاکھیل بھارت اور پاکستان کے پنجاب صوبوں میں خاصا مقبول ہے، اسکواڈ میں شامل 24 سالہ سعیدہ فریدہ خانم نے بتایاکہ کھیل میں آنے کیلیے مجھے اپنے اہل خانہ کو قائل کرنے کیلیے کئی برس تک کوشش کرنا پڑی، انھوں نے کہا کہ بین الاقوامی ایونٹ میں ملک کی نمائندگی کا موقع پانا خواب شرمندہ سچ ہونے کے مترادف ہے، انھوں نے مزید کہاکہ میں بچپن سے ہی کھیلوں سے پاگل پن کی حد تک دلچسپی رکھتی تھی اور مجھے کئی مرتبہ ملکی ایونٹس کیلیے منتخب کیا جاچکا ہے، فیملی نے مجھے کالج یا یونیورسٹی کے ٹریننگ کیمپ سے باہر پریکٹس کی اجازت نہیں دی تھی، جب میں کبڈی ٹیم کیلیے منتخب ہوئی تو والدہ کو بتادیا تھا کہ میں ہر حال میں لاہور میں کیمپ کو جوائن کروں گی ۔
بہترین دفاعی کھلاڑی سمجھی جانے والی سعیدہ نے مزید کہا کہ لاہور کے پنجاب اسٹیڈیم میں ہم نے سخت فٹنس سیشن کیے، قومی ٹیم کی جرسی زیب تن کرنا میرا بچپن سے ہی خواب تھا اور اب میں بھارت میں جاکر اپنے ملک کیلیے بہترین صلاحیتیں بروئے کار لانا چاہوں گی، میں ثابت کرنا چاہوں گی کہ پاکستانی خواتین بھی دیگر ممالک کی پلیئرز کی طرح عمدہ پرفارم کرسکتی ہیں، نائب کپتان سمیرا ظہور نے کہا کہ ہم ایونٹ میں پاکستان کی نمائندگی کرتے ہوئے کامیابی پانے کی پوری کوشش کریں گے، کبڈی ٹیم کیلیے مختلف کھیلوں سے خواتین ٹیم کا چنائو کیاگیا،کچھ لڑکیاں ایتھلیٹکس سے آئیں جبکہ چند بنیادی طور پر ویٹ لفٹنگ کرتی ہیں۔