کراچی میں رہائشی عمارت گرنے سے جاں بحق افراد کی تعداد 8 ہوگئی
زخمیوں کو ملبے سے نکال کر اسپتال منتقل کیا جاچکا ہے، ریسکیو حکام
عمارت لیاری کے علاقے کھڈا مارکیٹ میں واقع تھی۔ (فوٹو، اسٹاف)
لیاری کے علاقے کھڈا مارکیٹ میں گزشتہ روز گرنے والی عمارت کے ملبے سے اب تک 2 خواتین سمیت 8 افراد کی لاشیں اور 10 زخمیوں کو نکالا جاچکا ہے۔
عمارت گرنے سے علاقے میں بھگدڑ مچ گئی اور خوف و ہراس کی فضا پھیل گئی۔ گنجان آباد علاقہ ہونے کے باعث ریسکیو ورکرز کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑا تاہم امدادی کارروائیاں جاری ہیں۔
نمائندہ ایکسپریس کے مطابق علاقہ مکینوں کا کہنا ہے کہ منہدم ہونے والی عمارت میں متعدد خاندان آباد تھے۔ مبلے سے 8 لاشیں نکال کر اسپتال منتقل کی جاچکی ہیں جب کہ مزید متعدد افراد دبے ہونے کا خدشہ ظاہر کیا جارہا ہے۔
ایس ایس پی سٹی مقدس حیدر کے مطابق عمارت خستہ حال ہو جانے کی وجہ سے مکینوں کو نوٹس دیے گئے تھے اور اتوار کو دن عمارت میں ایک اور دراڑ آنے کے باعث بھی کئی گھر خالی ہوگئے تھے۔ عینی شاہدین اور علاقہ مکینوں مطابق بعض فلیٹ خالی ہونے کے باوجود عمارت میں متعدد خاندان رہائش پذیر تھے۔
گنجان آبادی اور تنگ راستے ہونے کی وجہ سے امدادی کارروائیوں میں مشکلات درپیش ہیں اور مشینری کے جائے حادثہ پر پہنچنے میں دشواری کا سامنا کرنا پڑا۔
6 ماہ کے دوران عمارت گرنے کا تیسرا واقعہ
شہر میں گذشتہ 6 ماہ کے دوران عمارت گرنے کا یہ تیسرا واقعہ ہے۔اس سے قبل گلبہار اور ٹمبر مارکیٹ میں رہائشی عمارتوں کے واقعات پیش آئے تھے۔ سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کے ذرائع کے مطابق بیشتر مخدوش عمارتیں ضلع جنوبی میں واقع ہیں اور اتھارٹی شہر میں 250 سے زائد عمارتوں کو مخدوش قرار دے چکی ہے۔
عمارت گرنے سے علاقے میں بھگدڑ مچ گئی اور خوف و ہراس کی فضا پھیل گئی۔ گنجان آباد علاقہ ہونے کے باعث ریسکیو ورکرز کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑا تاہم امدادی کارروائیاں جاری ہیں۔
نمائندہ ایکسپریس کے مطابق علاقہ مکینوں کا کہنا ہے کہ منہدم ہونے والی عمارت میں متعدد خاندان آباد تھے۔ مبلے سے 8 لاشیں نکال کر اسپتال منتقل کی جاچکی ہیں جب کہ مزید متعدد افراد دبے ہونے کا خدشہ ظاہر کیا جارہا ہے۔
ایس ایس پی سٹی مقدس حیدر کے مطابق عمارت خستہ حال ہو جانے کی وجہ سے مکینوں کو نوٹس دیے گئے تھے اور اتوار کو دن عمارت میں ایک اور دراڑ آنے کے باعث بھی کئی گھر خالی ہوگئے تھے۔ عینی شاہدین اور علاقہ مکینوں مطابق بعض فلیٹ خالی ہونے کے باوجود عمارت میں متعدد خاندان رہائش پذیر تھے۔
گنجان آبادی اور تنگ راستے ہونے کی وجہ سے امدادی کارروائیوں میں مشکلات درپیش ہیں اور مشینری کے جائے حادثہ پر پہنچنے میں دشواری کا سامنا کرنا پڑا۔
6 ماہ کے دوران عمارت گرنے کا تیسرا واقعہ
شہر میں گذشتہ 6 ماہ کے دوران عمارت گرنے کا یہ تیسرا واقعہ ہے۔اس سے قبل گلبہار اور ٹمبر مارکیٹ میں رہائشی عمارتوں کے واقعات پیش آئے تھے۔ سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کے ذرائع کے مطابق بیشتر مخدوش عمارتیں ضلع جنوبی میں واقع ہیں اور اتھارٹی شہر میں 250 سے زائد عمارتوں کو مخدوش قرار دے چکی ہے۔