انسان بردار اور خودکار لڑاکا طیاروں میں اوّلین مقابلہ 2021 میں ہوگا
وہ وقت جلد ہی آنے والا ہے جب خودکار اور انسان بردار لڑاکا طیارے فضاؤں میں آمنے سامنے ہوں گے
مکمل آٹوپائلٹ سسٹم سے لیس ’’کراٹوس ایکس کیو 58 اے ویکیری‘‘ لڑاکا ڈرون۔ (فوٹو: امریکی فضائیہ)
عسکری محاذ پر مصنوعی ذہانت (اے آئی) کے میدان میں پیچھے رہ جانے والے امریکا نے ایک بار پھر آگے بڑھنے کی کوششیں شروع کردی ہیں جن کے تحت خودکار لڑاکا طیاروں کا دُوبدو فضائی مقابلہ (ایریئل ڈاگ فائٹ) ایسے لڑاکا طیاروں سے کروایا جائے گا جو مکمل طور پر خودکار اور خودمختار ہوں گے۔
یہ انکشاف گزشتہ دنوں امریکی محکمہ دفاع کے ''جوائنٹ آرٹیفیشل انٹیلی جنس سینٹر'' (JAIC) کے سربراہ، لیفٹیننٹ جنرل جان شاناہان نے اپنے ایک انٹرویو میں کیا۔
https://www.youtube.com/watch?v=pAA0HdB7zqE
تقریباً ایک گھنٹے طویل یہ انٹرویو ''مچل انسٹی ٹیوٹ فار ایئرو اسپیس اسٹڈیز'' کے پروگرام ''ایئرو اسپیس نیشن'' میں کیا گیا۔
جنرل شاناہان نے اس انٹرویو میں عسکری طیاروں میں مصنوعی ذہانت کے استعمال سے متعلق جہاں بہت سی دوسری باتیں کیں، وہیں انہوں نے یہ بھی بتایا کہ ان کے مرکز میں مکمل خودکار و خود مختار لڑاکا طیاروں پر کام بہت ''ترقی یافتہ'' مرحلے میں داخل ہوچکا ہے اور جلد ہی ہمیں میدانِ جنگ میں بھی ''مسلح مصنوعی ذہانت'' دکھائی دے گی۔
انہوں نے امریکی فضائیہ کی ''ایئرفورس ریسرچ لیبارٹری'' (AFRL) میں اہداف کی خودکار شناخت کے حوالے سے مصنوعی ذہانت پر تحقیق کرنے والے ایک سینئر سائنسداں ڈاکٹر اسٹیون راجرز سے ای میل پر ہونے والے تبادلہ خیال کا تذکرہ کرتے ہوئے کہا کہ اگلے سال جولائی تک خودکار لڑاکا طیاروں کا فضا میں انسان بردار لڑاکا طیاروں سے باقاعدہ مقابلہ (ڈاگ فائٹ) کروانے کی تیاریاں جاری ہیں۔
البتہ، انہوں نے یہ نہیں بتایا کہ اس مقابلے میں انسان بردار لڑاکا طیاروں کے مقابلے پر کسی پرانے اور روایتی لڑاکا طیارے کو مصنوعی ذہانت سے لیس کیا جائے گا یا پھر مکمل آٹوپائلٹ سسٹم والے ''کراٹوس ایکس کیو 58 اے ویکیری'' لڑاکا ڈرون ہی میں کچھ ردّ و بدل کیا جائے گا، جسے بنیادی طور پر انسان بردار ایف 35 یا ایف 22 ریپٹر لڑاکا طیاروں کے ہمراہ خودکار پرواز کےلیے تیار کیا گیا ہے۔
ہوسکتا ہے کہ انسان اور مصنوعی ذہانت کے درمیان فضائی ''ڈاگ فائٹ'' میں کچھ تاخیر ہوجائے لیکن یوں لگتا ہے جیسے مکمل خودکار اور خودمختار لڑاکا طیارے بھی اگلے چند سال میں فضائی افواج کا حصہ بننا شروع ہوجائیں گے۔
نوٹ: اس خبر کا مرکزی مواد ''نیو اٹلس'' پر شائع ہونے والی ایک حالیہ رپورٹ سے اخذ کیا گیا ہے۔
یہ انکشاف گزشتہ دنوں امریکی محکمہ دفاع کے ''جوائنٹ آرٹیفیشل انٹیلی جنس سینٹر'' (JAIC) کے سربراہ، لیفٹیننٹ جنرل جان شاناہان نے اپنے ایک انٹرویو میں کیا۔
https://www.youtube.com/watch?v=pAA0HdB7zqE
تقریباً ایک گھنٹے طویل یہ انٹرویو ''مچل انسٹی ٹیوٹ فار ایئرو اسپیس اسٹڈیز'' کے پروگرام ''ایئرو اسپیس نیشن'' میں کیا گیا۔
جنرل شاناہان نے اس انٹرویو میں عسکری طیاروں میں مصنوعی ذہانت کے استعمال سے متعلق جہاں بہت سی دوسری باتیں کیں، وہیں انہوں نے یہ بھی بتایا کہ ان کے مرکز میں مکمل خودکار و خود مختار لڑاکا طیاروں پر کام بہت ''ترقی یافتہ'' مرحلے میں داخل ہوچکا ہے اور جلد ہی ہمیں میدانِ جنگ میں بھی ''مسلح مصنوعی ذہانت'' دکھائی دے گی۔
انہوں نے امریکی فضائیہ کی ''ایئرفورس ریسرچ لیبارٹری'' (AFRL) میں اہداف کی خودکار شناخت کے حوالے سے مصنوعی ذہانت پر تحقیق کرنے والے ایک سینئر سائنسداں ڈاکٹر اسٹیون راجرز سے ای میل پر ہونے والے تبادلہ خیال کا تذکرہ کرتے ہوئے کہا کہ اگلے سال جولائی تک خودکار لڑاکا طیاروں کا فضا میں انسان بردار لڑاکا طیاروں سے باقاعدہ مقابلہ (ڈاگ فائٹ) کروانے کی تیاریاں جاری ہیں۔
البتہ، انہوں نے یہ نہیں بتایا کہ اس مقابلے میں انسان بردار لڑاکا طیاروں کے مقابلے پر کسی پرانے اور روایتی لڑاکا طیارے کو مصنوعی ذہانت سے لیس کیا جائے گا یا پھر مکمل آٹوپائلٹ سسٹم والے ''کراٹوس ایکس کیو 58 اے ویکیری'' لڑاکا ڈرون ہی میں کچھ ردّ و بدل کیا جائے گا، جسے بنیادی طور پر انسان بردار ایف 35 یا ایف 22 ریپٹر لڑاکا طیاروں کے ہمراہ خودکار پرواز کےلیے تیار کیا گیا ہے۔
ہوسکتا ہے کہ انسان اور مصنوعی ذہانت کے درمیان فضائی ''ڈاگ فائٹ'' میں کچھ تاخیر ہوجائے لیکن یوں لگتا ہے جیسے مکمل خودکار اور خودمختار لڑاکا طیارے بھی اگلے چند سال میں فضائی افواج کا حصہ بننا شروع ہوجائیں گے۔
نوٹ: اس خبر کا مرکزی مواد ''نیو اٹلس'' پر شائع ہونے والی ایک حالیہ رپورٹ سے اخذ کیا گیا ہے۔