کورونا کے خلاف جنگ اور بلدیاتی نظام
دنیا بھر میں مقامی حکومتیں کورونا وائرس بحران میں سب سے آگے ہیں تاہم پاکستان میں یہ کسی حد تک اپنے شہریوں سے دور ہیں
ملک میں مقامی حکومتیں کورونا وائرس سے نمٹنے میں پیش پیش نہیں، فوٹو: فائل
ISLAMABAD:
کورونا وائرس نے ملکی بلدیاتی نظام کے ڈھول کا پول کس بے دردی کے ساتھ بے نقاب کیا ہے، اس کی داستان گزشتہ 5 ماہ کی ملک گیر ہلاکتوں اور متاثرہ کورونا مریضوں کی بے چارگی کے سیاق وسباق میں کسی تعارف کی محتاج نہیں۔
ایک بے حقیقت کورونا وائرس نے جو تباہی مچائی اس نے ترقی یافتہ ممالک سمیت پاکستان جیسے تمام ترقی پذیر ملکوں کے نظام صحت کے انفرا سٹرکچر کی بے ثباتی کی تاریخ قوم کے سامنے رکھ دی ہے لیکن صحت کی سہولتوں کے لیے ایک مہلک وبا سے نمٹنے میں عوام نے افراتفری، انتشار، بد نظمی کا جو منظر دیکھا ہے اس کی وجوہ کی ایک جھلک اقوام متحدہ کے ادارہ ترقیات کی حالیہ رپورٹ سے عیاں ہے جس میں انکشاف کیا گیا ہے کہ پاکستان کی بلدیاتی حکومتوں کا شہریوں سے کوئی رابطہ نہیں۔
اقوام متحدہ کے ترقیاتی پروگرام (یو این ڈی پی) کا کہنا ہے کہ دنیا بھر میں مقامی حکومتیں موجودہ کورونا وائرس بحران میں سب سے آگے ہیں تاہم پاکستان میں یہ کسی حد تک اپنے شہریوں سے دور ہیں۔ ایک انگریزی اخبار کی رپورٹ کے مطابق یو این ڈی پی نے اپنے پہلے کووڈ19- پاکستان سو شو اکنامک امپیکٹ اسیسمنٹ اینڈ رسپانس پلان میں کہا کہ اس کی وجہ سے ریاست اور معاشرے کے درمیان رابطہ کمزور ہوگیا ہے اور اس سے ملک میں پسماندگی، برادری پر مشتمل شکایات، تنازعات اور معاشرتی لچک پیدا ہوئی ہے۔ اس رپورٹ میں مزید کہا گیا کہ پاکستان میں وبائی مرض پر خاطر خواہ ردعمل دینے کی کوششوں کے باوجود نتائج ناقص ہیں۔
اس تجزیاتی تناظر میں اگر شہر قائد کے ماضی کے حقیقی کردار، اس کی بلدیاتی شناخت، عوام کے معیار مدنیت و شہریت کے اشاریے پر نظر اور صوبوں میں مقامی حکومتوں کی معلوم کارکردگی پر ایک اجمالی نظر ڈالی جائے تو پاکستان کے تمام صوبائی اور ضلعی انتظامیہ کے مجموعی روشن چہرے کی دھندلی سی اک تصویر نظر آتی ہے جو وقت کے ہمرکاب اور عوام کو دہلیز پر سہولتیں پہنچانے کی ڈائنامزم اور زندگی کی بنیادی شہری سہولتوں کی فراہمی میں فعالیت کے جملہ سرکاری، حکومتی اور ریاستی اقدامات اور بندوبست کی نشاندہی کرتی ہے۔
شہریوں کو معلوم تھا کہ مقامی حکومت ان کے دکھ درد، روزمرہ کے مسائل اور دشواریوں کو آسانی میں بدلنے کے لیے کتنی مخلص اور ایثار پسند ہے تاہم اس وقت زمینی صوررتحال یہ ہے کہ سندھ، پنڈی، اسلام آباد سمیت لاہور، خیبر پختونخوا، بلوچستان میں بلدیاتی نظام کا شکستہ ڈھانچہ بے روح ملتا ہے، جب کہ انھی مقامی خود اختیاراتی حکومتوں نے اپنی کارکردگی سے وفاقی اور صوبائی حکومتوں کو زبردست انتظامی کمک مہیا کی، سیاسی گراس روٹ لیول پر آیندہ کی نوجوان سیاسی قیادت کی فراہمی میں ارتقائی کڑی اور تسلسل کا فریضہ انجام دیا، پولرائزیشن کو کنٹرول کیا۔
عوام کے اندر سے مستقبل کے سیاسی، سماجی اور فکری امکانات کی آبیاری ہوئی، ایک مکمل میونسلپٹی کلچر موجود تھا، شہری حدود نظامت میں قانون کی حکمرانی کا ایک مثالی سسٹم شہریوں کی زندگی سے جڑا ہوا تھا، مثلاً تاریخ کے طالب علم یا ہمارے سیاسی اکابرین اور موجودہ حکومت کراچی کے پہلے ہندو بابائے شہر (میئر) جمشید نسروانجی مہتا کا 7 جنوری1886سے لے کر اگست1952کے شہر قائد کراچی کی مقامی حکومت کا شاندار تاریخی جائزہ لے سکتے ہیں، جمشید نسروانجی کو سیاسی اکابرین کے ساتھ ایک نمایاں سماجی مقام حاصل تھا، وہ ماڈرن کراچی کے سنہرے خواب دیکھنے والے اعلیٰ منتظم اور میئر تھے، ان کے دور کا کراچی ماحولیات کے حوالہ سے ایشیا کا صاف ستھرا شہر کہلاتا تھا، میونسپل ادارے میئر کو جوابدہ تھے۔
انتظامی شفافیت میں حکام اور مقامی حکومتی اہلکاروں کو بلاشبہ فرشتوں کی اعانت حاصل نہ تھی، یہی لوگ شہر کے سیاہ وسفید کے مالک تھے اور وہ اپنی ذمے داری انتہائی اخلاص، احساس فرض اور دیانتداری سے انجام دیا کرتے، شہر کی سڑکیں روز دھلا کرتی تھیں، انسان تو انسان حیوانات کے علاج کے لیے شفا خانے،اسپتال قائم تھے، ان میں ڈاکٹر موجود رہتے، ادویات میسر تھیں، اونٹ، گھوڑے گدھے، بکریوں کے ریوڑ، گائے بھیسنوں کے لیے پینے کا صاف پانی فراہم کیا جاتا تھا، کراچی میں ان کے لیے سڑک کے کنارے '' پیالو '' اور پنجاب میں میونسپل اداروں نے ''ہودی'' تعمیر کیے تھے۔
قانون کا احترام تھا، پولیس اہلکار قانون پر سختی سے پابندی کراتے، تعلیم، صحت، کھیل کود اور فنون لطیفہ کی سہولتیں موجود تھیں، بچوں کو متعدی امراض سے بچاؤ کے ایسے ٹیکے لگائے جاتے کہ ان کے نشانات آج بھی شہریوں کے ہاتھوں پر کندہ نظر آتے ہیں، یہ ٹیکے واقعتاً وبائی امراض کے خلاف مزاحمت کی بے مثال دیوار ثابت ہوئے، جمشید نسروانجی اور ان کے بعد آنے والے میئر صاحبان نے ان کی روایت کا تسلسل جاری رکھا، پاکستان میں میونسپلٹیز کثیر المقاصد اقدامات کے مظہر تھے، ایک ہمہ وقت حاضر سسٹم تھا جسے اوپر سے نیچے تک شفافیت کی ڈور سے باندھا گیا تھا، کتنی آبادی تھی؟ مگر کہاں گیا وہ بلدیاتی نظام؟ کیا ہوئیں جمشید نسروانجی کی اصلاحات اور حسن انتظام کا عظیم انتظامی اثاثہ؟
آج اربوں کھربوں کی باتیں ہیں، مقامی حکومتیں کورونا وائرس سے نمٹنے میں پیش پیش نہیں، اختیارات کی تقسیم کا فلسفہ زمیں بوس ہے، میئر کراچی کورونا کے کسی گیم پلان میں نظر نہیں آتے، ہمارے ممبران قومی وصوبائی اسمبلی، سینیٹرز عمل سے عاری، ٹائیگر فورس کا کچھ مصرف سامنے نہیں آیا، حکومت اور اپوزیشن میں لفظوں کی گولہ باری جاری، قوم کو درپیش کورونا کا چیلنج چشم کشا ہے، مگر کورونا کے عفریت سے لڑنے کے لیے جس عزم اور سیاسی اتحاد کی ضرورت ہے وہ صرف لفظی بازیگری تک محدود ہے۔
عالمی طرز عمل کے مطابق پاکستان میں مقامی حکومتوں کو آئینی مینڈیٹ حاصل ہے کہ وہ کورونا وائرس جیسے ایمرجنسی اور وبائی صورتحال میں ایکٹیو سٹیک ہولڈر بنیں۔ ان کا ایک مشترکہ کام یہ ہے کہ کسی بھی آگ، سیلاب، طوفانی آفت، زلزلہ، وبائی بیماری یا دیگر قدرتی آفات کی صورت میں امدادی سرگرمیوں میں متعلقہ حکام کی مدد کریں اور ہنگامی منصوبہ بندی اور ریلیف فراہم کریں۔
مختصر یہ کہ فی الحال منتخب بلدیاتی حکومتیں خیبرپختونخوا، پنجاب اور بلوچستان میں موجود نہیں ہیں جب کہ فعال بلدیاتی حکومتیں اپنے آئینی کردار کی پاسداری کے لیے صرف سندھ اور اسلام آباد میں موجود ہیں جب کہ تینوں صوبوں میں 2019 میں صوبائی حکومتوں نے بلدیاتی حکومت کو ختم کردیا تھا۔ سوال یہی ہے کہ اہل سیاست مقامی حکومت اور بلدیاتی اداروں کی اہمیت کا کب ادراک کریں گے؟حکمران کورونا کے خلاف لکڑی کی تلواروں سے اس جنگ میں کیسے سرخرو ہونگے؟
کورونا وائرس نے ملکی بلدیاتی نظام کے ڈھول کا پول کس بے دردی کے ساتھ بے نقاب کیا ہے، اس کی داستان گزشتہ 5 ماہ کی ملک گیر ہلاکتوں اور متاثرہ کورونا مریضوں کی بے چارگی کے سیاق وسباق میں کسی تعارف کی محتاج نہیں۔
ایک بے حقیقت کورونا وائرس نے جو تباہی مچائی اس نے ترقی یافتہ ممالک سمیت پاکستان جیسے تمام ترقی پذیر ملکوں کے نظام صحت کے انفرا سٹرکچر کی بے ثباتی کی تاریخ قوم کے سامنے رکھ دی ہے لیکن صحت کی سہولتوں کے لیے ایک مہلک وبا سے نمٹنے میں عوام نے افراتفری، انتشار، بد نظمی کا جو منظر دیکھا ہے اس کی وجوہ کی ایک جھلک اقوام متحدہ کے ادارہ ترقیات کی حالیہ رپورٹ سے عیاں ہے جس میں انکشاف کیا گیا ہے کہ پاکستان کی بلدیاتی حکومتوں کا شہریوں سے کوئی رابطہ نہیں۔
اقوام متحدہ کے ترقیاتی پروگرام (یو این ڈی پی) کا کہنا ہے کہ دنیا بھر میں مقامی حکومتیں موجودہ کورونا وائرس بحران میں سب سے آگے ہیں تاہم پاکستان میں یہ کسی حد تک اپنے شہریوں سے دور ہیں۔ ایک انگریزی اخبار کی رپورٹ کے مطابق یو این ڈی پی نے اپنے پہلے کووڈ19- پاکستان سو شو اکنامک امپیکٹ اسیسمنٹ اینڈ رسپانس پلان میں کہا کہ اس کی وجہ سے ریاست اور معاشرے کے درمیان رابطہ کمزور ہوگیا ہے اور اس سے ملک میں پسماندگی، برادری پر مشتمل شکایات، تنازعات اور معاشرتی لچک پیدا ہوئی ہے۔ اس رپورٹ میں مزید کہا گیا کہ پاکستان میں وبائی مرض پر خاطر خواہ ردعمل دینے کی کوششوں کے باوجود نتائج ناقص ہیں۔
اس تجزیاتی تناظر میں اگر شہر قائد کے ماضی کے حقیقی کردار، اس کی بلدیاتی شناخت، عوام کے معیار مدنیت و شہریت کے اشاریے پر نظر اور صوبوں میں مقامی حکومتوں کی معلوم کارکردگی پر ایک اجمالی نظر ڈالی جائے تو پاکستان کے تمام صوبائی اور ضلعی انتظامیہ کے مجموعی روشن چہرے کی دھندلی سی اک تصویر نظر آتی ہے جو وقت کے ہمرکاب اور عوام کو دہلیز پر سہولتیں پہنچانے کی ڈائنامزم اور زندگی کی بنیادی شہری سہولتوں کی فراہمی میں فعالیت کے جملہ سرکاری، حکومتی اور ریاستی اقدامات اور بندوبست کی نشاندہی کرتی ہے۔
شہریوں کو معلوم تھا کہ مقامی حکومت ان کے دکھ درد، روزمرہ کے مسائل اور دشواریوں کو آسانی میں بدلنے کے لیے کتنی مخلص اور ایثار پسند ہے تاہم اس وقت زمینی صوررتحال یہ ہے کہ سندھ، پنڈی، اسلام آباد سمیت لاہور، خیبر پختونخوا، بلوچستان میں بلدیاتی نظام کا شکستہ ڈھانچہ بے روح ملتا ہے، جب کہ انھی مقامی خود اختیاراتی حکومتوں نے اپنی کارکردگی سے وفاقی اور صوبائی حکومتوں کو زبردست انتظامی کمک مہیا کی، سیاسی گراس روٹ لیول پر آیندہ کی نوجوان سیاسی قیادت کی فراہمی میں ارتقائی کڑی اور تسلسل کا فریضہ انجام دیا، پولرائزیشن کو کنٹرول کیا۔
عوام کے اندر سے مستقبل کے سیاسی، سماجی اور فکری امکانات کی آبیاری ہوئی، ایک مکمل میونسلپٹی کلچر موجود تھا، شہری حدود نظامت میں قانون کی حکمرانی کا ایک مثالی سسٹم شہریوں کی زندگی سے جڑا ہوا تھا، مثلاً تاریخ کے طالب علم یا ہمارے سیاسی اکابرین اور موجودہ حکومت کراچی کے پہلے ہندو بابائے شہر (میئر) جمشید نسروانجی مہتا کا 7 جنوری1886سے لے کر اگست1952کے شہر قائد کراچی کی مقامی حکومت کا شاندار تاریخی جائزہ لے سکتے ہیں، جمشید نسروانجی کو سیاسی اکابرین کے ساتھ ایک نمایاں سماجی مقام حاصل تھا، وہ ماڈرن کراچی کے سنہرے خواب دیکھنے والے اعلیٰ منتظم اور میئر تھے، ان کے دور کا کراچی ماحولیات کے حوالہ سے ایشیا کا صاف ستھرا شہر کہلاتا تھا، میونسپل ادارے میئر کو جوابدہ تھے۔
انتظامی شفافیت میں حکام اور مقامی حکومتی اہلکاروں کو بلاشبہ فرشتوں کی اعانت حاصل نہ تھی، یہی لوگ شہر کے سیاہ وسفید کے مالک تھے اور وہ اپنی ذمے داری انتہائی اخلاص، احساس فرض اور دیانتداری سے انجام دیا کرتے، شہر کی سڑکیں روز دھلا کرتی تھیں، انسان تو انسان حیوانات کے علاج کے لیے شفا خانے،اسپتال قائم تھے، ان میں ڈاکٹر موجود رہتے، ادویات میسر تھیں، اونٹ، گھوڑے گدھے، بکریوں کے ریوڑ، گائے بھیسنوں کے لیے پینے کا صاف پانی فراہم کیا جاتا تھا، کراچی میں ان کے لیے سڑک کے کنارے '' پیالو '' اور پنجاب میں میونسپل اداروں نے ''ہودی'' تعمیر کیے تھے۔
قانون کا احترام تھا، پولیس اہلکار قانون پر سختی سے پابندی کراتے، تعلیم، صحت، کھیل کود اور فنون لطیفہ کی سہولتیں موجود تھیں، بچوں کو متعدی امراض سے بچاؤ کے ایسے ٹیکے لگائے جاتے کہ ان کے نشانات آج بھی شہریوں کے ہاتھوں پر کندہ نظر آتے ہیں، یہ ٹیکے واقعتاً وبائی امراض کے خلاف مزاحمت کی بے مثال دیوار ثابت ہوئے، جمشید نسروانجی اور ان کے بعد آنے والے میئر صاحبان نے ان کی روایت کا تسلسل جاری رکھا، پاکستان میں میونسپلٹیز کثیر المقاصد اقدامات کے مظہر تھے، ایک ہمہ وقت حاضر سسٹم تھا جسے اوپر سے نیچے تک شفافیت کی ڈور سے باندھا گیا تھا، کتنی آبادی تھی؟ مگر کہاں گیا وہ بلدیاتی نظام؟ کیا ہوئیں جمشید نسروانجی کی اصلاحات اور حسن انتظام کا عظیم انتظامی اثاثہ؟
آج اربوں کھربوں کی باتیں ہیں، مقامی حکومتیں کورونا وائرس سے نمٹنے میں پیش پیش نہیں، اختیارات کی تقسیم کا فلسفہ زمیں بوس ہے، میئر کراچی کورونا کے کسی گیم پلان میں نظر نہیں آتے، ہمارے ممبران قومی وصوبائی اسمبلی، سینیٹرز عمل سے عاری، ٹائیگر فورس کا کچھ مصرف سامنے نہیں آیا، حکومت اور اپوزیشن میں لفظوں کی گولہ باری جاری، قوم کو درپیش کورونا کا چیلنج چشم کشا ہے، مگر کورونا کے عفریت سے لڑنے کے لیے جس عزم اور سیاسی اتحاد کی ضرورت ہے وہ صرف لفظی بازیگری تک محدود ہے۔
عالمی طرز عمل کے مطابق پاکستان میں مقامی حکومتوں کو آئینی مینڈیٹ حاصل ہے کہ وہ کورونا وائرس جیسے ایمرجنسی اور وبائی صورتحال میں ایکٹیو سٹیک ہولڈر بنیں۔ ان کا ایک مشترکہ کام یہ ہے کہ کسی بھی آگ، سیلاب، طوفانی آفت، زلزلہ، وبائی بیماری یا دیگر قدرتی آفات کی صورت میں امدادی سرگرمیوں میں متعلقہ حکام کی مدد کریں اور ہنگامی منصوبہ بندی اور ریلیف فراہم کریں۔
مختصر یہ کہ فی الحال منتخب بلدیاتی حکومتیں خیبرپختونخوا، پنجاب اور بلوچستان میں موجود نہیں ہیں جب کہ فعال بلدیاتی حکومتیں اپنے آئینی کردار کی پاسداری کے لیے صرف سندھ اور اسلام آباد میں موجود ہیں جب کہ تینوں صوبوں میں 2019 میں صوبائی حکومتوں نے بلدیاتی حکومت کو ختم کردیا تھا۔ سوال یہی ہے کہ اہل سیاست مقامی حکومت اور بلدیاتی اداروں کی اہمیت کا کب ادراک کریں گے؟حکمران کورونا کے خلاف لکڑی کی تلواروں سے اس جنگ میں کیسے سرخرو ہونگے؟