خاک میں کیا صورتیں ہوں گی کہ پنہاں ہوگئیں

عظیم المرتبت دینی، علمی و ادبی شخصیات کا تسلسل سے محض چند دنوں میں رخت سفر اختیار کرنا، ہمارا عظیم قومی و ملی نقصان ہے


Editorial June 23, 2020

کراچی میں عظیم المرتبت دینی، علمی و ادبی شخصیات کا تسلسل سے محض چند دنوں میں رخت سفر اختیار کرنا، ہمارا عظیم قومی و ملی نقصان ہے، جو خلاء ان شخصیات کے جانے سے پیدا ہوا ہے، وہ کبھی پر نہیں ہوسکے گا۔ پہلی شخصیت جو ہم سے جدا ہوئی وہ مفتی محمد نعیم کی ہے جو جامعہ بنوریہ کے مہتمم ہونے کے ساتھ ممتاز دینی اسکالر بھی تھے۔

سولہ برس تک انھوں نے جامعہ بنوریہ میں بطور استاد خدمات انجام دیں۔ مفتی محمد نعیم سات جلدوں پر مشتمل تفسیر روح القرآن، شرح مقامات، نماز مدلل اور دیگر کتب کے مصنف تھے، اس کے ساتھ ہی وہ وفاق المدارس العربیہ پاکستان کی مجلس شوریٰ کے متحرک رکن تھے۔ مدارس کے نصاب سے لے کر ان کی رجسٹریشن کے معاملے پر جب بھی تحریک شروع ہوئی، وہ اس کا ایک سرگرم حصہ رہے۔

ان کے پاس غیر ملکی سفارت کار بھی آتے تھے اور ان کے مدرسے میں میڈیا کو بھی فلم، فوٹو گرافی اور طلبہ کے انٹرویوز کی اجازت ہوتی تھی۔ مفتی نعیم مذہبی معاملات کے علاوہ سیاسی و سماجی مسائل پر بھی میڈیا کے ٹاک شوز میں اپنا موقف بیان کرتے تھے۔ ان کی دینی وملی خدمات بلاشبہ کبھی بھلائی نہیں جا سکیں گی۔علم کا ایک اور باب اختتام پذیر ہوا، یہ تھے علامہ طالب جوہری، شاعر، ذاکر، مؤرخ اور فلسفی، انھوں نے قرآن کی تفسیر سمیت شاعری اور مذہب پر کتابیں بھی تحریر کی تھیں۔

کئی برسوں تک پی ٹی وی پر بطور ذاکر واقعہ کربلا کی یاد میں خصوصی مجالس 'شامِ غریباں' پڑھا کرتے تھے۔ شام غریباں آپ کے ساتھ منسوب سی ہو گئی تھی۔ یوں سمجھ لیجیے ہر شیعہ سُنی گھر میں شام غریباں آپ کے بغیر ادھوری تھی۔ وہ اپنے انداز خطابت کی وجہ سے پاکستان سمیت دیگر ممالک میں بھی مقبول تھے۔دبستان کراچی کی ایک توانا آواز بھی اب ہمارے درمیان نہیں رہی۔

منظر ایوبی کا نصف صدی پر محیط علمی وادبی سفر اردو ادب کا سرمایہ ہے۔ پروفیسر ہونے کے ساتھ ساتھ منظر ایوبی ایک بہترین شاعر، مصنف اور نقاد بھی تھے۔ انھوں نے1959 میں جامعہ کراچی سے اردو میں ایم اے کی سند حاصل کی اور 1961 میں محکمہ تعلیم سندھ میں شمولیت اختیار کی۔ 1994 میں سینئر پروفیسر کی حیثیت سے ریٹائر ہوئے۔ متعدد کتابیں لکھیں جن میں تکلم(1981) اور مزاج (1987) کافی معروف ہیں۔ ان کی شاعری کو ادبی حلقوں میں مقبولیت حاصل تھی۔

روزنامہ ایکسپریس کے کالم نگار اور سابق ڈپٹی ڈائریکٹر محکمہ اطلاعات سندھ لیاقت علی راجپربھی اس دارفانی سے کوچ کرگئے، ان کا آبائی تعلق لاڑکانہ سے تھاانھوں نے اردو کے ساتھ انگریزی میں بھی مضامین لکھے۔ تحقیق کا میدان ان کا پسندیدہ قلمی مشغلہ تھا، جس خوبصورت انداز میں انھوں نے سندھ کی تاریخ وثقافت کو اپنی علمی کاوشات میں سمویا وہ ان ہی کا خاصہ تھی، وہ سندھ کے سچے عاشق تھے۔

مقبول خبریں