کینجھر جھیل میں کشتی الٹنے سے کراچی کی 10 خواتین جاں بحق

جاں بحق ہونے والوں میں دو ماؤں سمیت ان کی تین تین بیٹیاں اور ڈیڑھ سالہ بچی شامل، دو خواتین اور ایک بچی کو بچالیا گیا

رشتے داروں اور اہل محلہ محمود آباد میں رہائش گاہ کے باہر جمع، رشتے دار دھاڑیں مار مار کر روتے رہے، خواتین شدت غم سے نڈھال (فوٹو : فائل)

کینجھر جھیل ٹھٹھہ میں سیاحوں سے بھری کشتی الٹ گئی نتیجے میں 10 خواتین ڈوب کر جاں بحق ہوگئیں جن میں دو ماؤں سمیت ان کی تین تین بیٹیاں اور ڈیڑھ سالہ بچی بھی شامل ہے جب کہ دو خواتین اور ایک بچی کو بچالیا گیا۔

ایکسپریس نیوز کے مطابق محمود آباد ہل ایریا کا رہائشی خاندان پکنک منانے کے لیے ٹھٹھہ میں واقع کینجھر جھیل گیا جہاں خاندان کے لوگ کشتی میں جھیل کی سیر کررہے تھے کہ اس دوران کشتی الٹ گئی نتیجے میں تمام خواتین سمندر میں ڈوب گئیں۔

اطلاع ملتے ہی ایدھی کے غوطہ خوروں نے موقع پر پہنچ کر سخت جدوجہد کے بعد 9 خواتین اور ایک بچی کی لاش کو نکال کر ٹھٹھہ مکلی سول اسپتال پہنچایا جنھیں بعدازاں کورنگی میں واقعے ایدھی سرد خانے منتقل کر دیا گیا۔

سرد خانے کے باہر متوفین کے ورثا نے بتایا کہ 3 بھائیوں عثمان غنی، یوسف خان اور عثمان علی کے اہل خانہ پیر کی صبح 8 بجے کے قریب کراچی سے روانہ ہوئے، مجموعی طور پر ایک ہی خاندان 28 افراد پکنک منانے کے لیے گئے تھے جس میں خواتین اور نوعمر بچیاں بھی شامل تھیں۔ اہل خانہ نے الزام عائد کیا کہ واقعے کے وقت ڈی سی اور انتظامیہ کا کوئی عملہ موجود نہیں تھا۔




جاں بحق ہونے والوں میں عثمان غنی کی اہلیہ 40 سالہ روبینہ اور ان کی بیٹیاں 19 سالہ عروج ، 11 سالہ ایمان اور 10 سالہ نمرہ شامل ہیں۔ اسی طرح یوسف خان کی اہلیہ 40 سالہ صبیحہ اور ان کی 3 بیٹیاں 16 سالہ شانزا و علیشہ (جڑواں) اور 21 سالہ سعدیہ شامل ہیں دیگر میں ڈیڑھ سالہ ماہم دختر آصف اور 30 سالہ عظمیٰ زوجہ محمد عامر شامل ہیں۔ بچ جانے والی خواتین میں نصرت اور رشیدہ سمیت ایک بچی شامل ہے۔

واقعے کے بعد متوفین کے رشتے داروں اور اہل محلہ کی بڑی تعداد ان کی رہائش گاہ جمع ہوگئی اس موقع پر کئی رقت آمیز مناظر دیکھنے میں آئے متوفین کے رشتے دار دھاڑیں مار مار کر اپنے پیاروں کو یاد کرتے رہے جنھیں علاقہ مکین دلاسا دیتے ہوئے دکھائی دیئے جبکہ رشتے خواتین شدت غم سے نڈھال ہوگئیں۔

اہل خانہ کا کہنا تھا کہ محمود آباد چینسر گوٹھ قبرستان میں تدفین کے لیے جگہ موجود نہیں ہے ہم اپنے پیاروں کی تدفین کہاں کریں؟ لہذا ہماری وزیر اعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ سے اپیل ہے کہ افسوس ناک واقعے میں جاں بحق ہونے والوں کو دفنانے کے لیے 10 قبروں کی جگہ ایک ہی ساتھ فراہم کر دی جائے تاکہ وہ اپنے پیاروں کو آخری آرام گاہ میں ایک ہی ساتھ سپرد خاک کرسکیں۔

دریں اثنا کینجھر جھیل کشتی حادثے میں لاپتہ افراد کو بچانے کے لیے پاک بحریہ نے بھی معاونت کی اور سول انتظامیہ کی درخواست پر پاک بحریہ کے غوطہ خور اور میڈیکل ٹیم سرچ اور ریسکیو آپریشن میں حصہ بنے رہے۔

Load Next Story