سابق لبنانی وزیراعظم کے قتل میں حزب اللہ کے ایک رکن پر جرم ثابت 3 بری
حزب اللہ کے دیگر تین ارکان اسد صابرا، حسن اونیسی اورحسن حبیب مہری کو عدم ثبوت کی بنا پر بری کر دیا گیا
عالمی ٹریبیونل نے حزب اللہ کے سلیم عیاش کو مجرم قرار دیدیا، فوٹو : فائل
لبنان کے سابق وزیراعظم رفیق حریری کے قتل کی تحقیقات کرنے والی اقوام متحدہ کے منظور شدہ ٹریبیونل نے حزب اللہ کے ایک رکن کو مجرم قرار دیدیا ہے جب کہ تین ملزمان کو عدم ثبوت کی بنا پر بری کردیا۔
بین الاقوامی رساں ادارے کے مطابق عالمی عدالت کے خصوصی ٹریبیونل نے ملزمان کی غیر موجودگی میں حزب اللہ کے رکن سلیم عیاش کو 2005 میں کار بم دھماکے میں سابق لبنانی وزیراعظم رفیق حریری کو قتل کرنے کا ذمہ دار قرار دیا ہے۔
عالمی ٹریبیونل نے قتل میں ملوث حزب اللہ کے دیگر تین ملزمان اسد صابرا، حسن اونیسی اورحسن حبیب مہری کو عدم ثبوت کی بنا پر بری کردیا۔ سلیم عیاش نامی ملزم کے موبائل فون کو قتل کی کارروائی میں استعمال کیا گیا۔
عالمی ٹریبیونل کے جج ڈیوڈ رے نے اپنے فیصلے میں مزید لکھا کہ عدالت سمجھتی ہے کہ شام اور حزب اللہ سیاسی مقاصد کے حصول کے لیے لبنان کے سابق وزیراعظم رفیق حریری اور ان کے چند سیاسی اتحادیوں کو راستے سے ہٹا سکتی ہیں لیکن اس بات کا کوئی ثبوت نہیں ملا۔
سابق وزیراعظم رفیق حریری کو لبنان میں 14 فروری 2015 کو خود کش کار بمبار حملے میں قتل کیا گیا تھا۔ شام اور حزب اللہ پر قتل میں ملوث ہونے کے الزامات کی سختی سے تردید کی تھی تاہم قتل کے 15 برس بعد حزب اللہ کے ایک رکن کو ملوث قرار دیدیا گیا۔
لبنان کے سابق وزیراعظم سعد حریری نے فیصلے پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ٹریبیونل کے فیصلے کو تسلیم کرتے ہیں اور مجرموں کو سزا پاتے دیکھنا چاہتے ہیں۔
بین الاقوامی رساں ادارے کے مطابق عالمی عدالت کے خصوصی ٹریبیونل نے ملزمان کی غیر موجودگی میں حزب اللہ کے رکن سلیم عیاش کو 2005 میں کار بم دھماکے میں سابق لبنانی وزیراعظم رفیق حریری کو قتل کرنے کا ذمہ دار قرار دیا ہے۔
عالمی ٹریبیونل نے قتل میں ملوث حزب اللہ کے دیگر تین ملزمان اسد صابرا، حسن اونیسی اورحسن حبیب مہری کو عدم ثبوت کی بنا پر بری کردیا۔ سلیم عیاش نامی ملزم کے موبائل فون کو قتل کی کارروائی میں استعمال کیا گیا۔
عالمی ٹریبیونل کے جج ڈیوڈ رے نے اپنے فیصلے میں مزید لکھا کہ عدالت سمجھتی ہے کہ شام اور حزب اللہ سیاسی مقاصد کے حصول کے لیے لبنان کے سابق وزیراعظم رفیق حریری اور ان کے چند سیاسی اتحادیوں کو راستے سے ہٹا سکتی ہیں لیکن اس بات کا کوئی ثبوت نہیں ملا۔
سابق وزیراعظم رفیق حریری کو لبنان میں 14 فروری 2015 کو خود کش کار بمبار حملے میں قتل کیا گیا تھا۔ شام اور حزب اللہ پر قتل میں ملوث ہونے کے الزامات کی سختی سے تردید کی تھی تاہم قتل کے 15 برس بعد حزب اللہ کے ایک رکن کو ملوث قرار دیدیا گیا۔
لبنان کے سابق وزیراعظم سعد حریری نے فیصلے پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ٹریبیونل کے فیصلے کو تسلیم کرتے ہیں اور مجرموں کو سزا پاتے دیکھنا چاہتے ہیں۔