سندھ حکومت نے کراچی کو اے ٹی ایم مشین بنا دیا وسیم اختر

وسیم اختر چار برسوں میں ارباب اختیار کو لکھے گئے خط دکھاتے ہوئے رو پڑے جن پر کوئی جواب موصول نہیں ہوا تھا

سپریم کورٹ بلدیاتی نظام سے متعلق ہماری پٹیشن کو نمٹائے، وسیم اختر کا مطالبہ (فوٹو : فائل)

میئر کراچی وسیم اختر نے اپنی الوداعی پریس کانفرنس میں کہا ہے کہ وڈیرہ ذہنیت کے حامل لوگ خود مختار بلدیاتی نظام نہیں چاہتے جس کے باعث کراچی کے شہری گزشتہ 4 سال سے سندھ حکومت کی مجرمانہ غفلت کا نشانہ بنے ہوئے ہیں۔

میئر کراچی وسیم اختر نے بلدیہ عظمیٰ کراچی کے دفتر میں اپنی چار سالہ کارکردگی کے حوالے سے پریس کانفرنس میں کراچی کے مسائل کے حل نہ ہونے کی وجہ سندھ حکومت کو قرار دیتے ہوئے کہا کہ وڈیرانہ ذہنیت رکھنے والے اختیارات نچلی سطح تک منتقل نہیں کرنا چاہتے۔ سندھ حکومت نے کراچی کو کمانے کی مشین بنادیا ہے۔

میئر وسیم اختر نے کہا کہ وزیر اعظم عمران خان نے این ڈی ایم اے کو کراچی بھیج دیا، میں کہتا ہوں وہ خود یہاں آکر صورتحال دیکھیں، سیاست کو چھوڑیں یہاں لوگ مر رہے ہیں اور بد ترین حالت میں زندگی گزار رہے ہیں۔

وسیم اختر نے سپریم کورٹ سے بلدیاتی نظام کے حوالے سے دائر ان کی پٹیشن پر سماعت کی اپیل کرتے ہوئے کہا کہ سپریم کورٹ میں بلدیاتی اختیارات کے حوالے سے ہماری پٹیشن کا فیصلہ ہی کراچی کے مسائل کی اصل کنجی ہے، عدلیہ کی ذمہ داری ہے کہ جلد ازجلد اس حوالے سے ہماری پٹیشن کو نمٹائے۔

میئر کراچی نے مزید کہا کہ 4 سال تک SLGA-2013 میں ترمیم کے لئے مکمل جنگ لڑی ہے اگر میں آواز نہ اٹھاتا تو پورا ملک اور دنیا ہماری طرف متوجہ نہ ہوتی، ہم بلدیاتی نظام کو مضبوط کرنے کے لئے بھر پور جنگ لڑ رہے ہیں۔


کراچی کے مسائل حل نہ ہونے میں خود کو بری الذمہ قرار دیتے ہوئے میئر کراچی کا کہنا تھا کہ بطور میئر جو محکمے مجھے کے ایم سی میں ملے انہیں چار سال میں فعال بنایا، اگر کسی کو ناکامی نظر آتی ہے تو یہ میری نہیں بلکہ سندھ حکومت اور آئین کے آرٹیکل 140-A کی ناکامی ہے۔

وسیم اختر کا مزید کہنا تھا کہ 4 سال سے صوبائی اے ڈی پی کے لئے اسکیمیں بھیج رہا ہوں ایک بھی منظور نہیں ہوئی یہ کراچی دشمنی نہیں تو کیا ہے؟ جب سے میئر بنا ہوں مجھے صرف ایک مرتبہ سپریم کورٹ کی ہدایت پر نالوں کی صفائی کے لئے 50 کروڑ روپے جاری ہوئے ہیں باقی سب جھوٹ ہے۔

کراچی میں نئے ضلع کے قیام پر سندھ حکومت کو کڑی تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے میئر کراچی نے کہا کہ یہ لوگ اس شہر کو تقسیم کرنے کے در پے ہیں، اب معاملہ سیاست سے اوپر جاچکا، اس نا انصافی پر کراچی کے شہری سیاسی وابستگیاں چھوڑ کر متحد ہوجائیں۔

انہوں نے کہا کہ چارسال تک تمام ارباب اختیار کو کراچی اور کے ایم سی کے مسائل پر خط لکھے کسی ایک کا جواب نہیں آیا اس کے باوجود حوصلہ نہیں ہارا، ہمیں جو محکمے ملے بس انہی میں بہتری لانے کی کوشش کرتے رہے۔ اس موقع پر وہ خطوط دکھاتے ہوئے رو پڑے اور غصے سے خطوط کو پھینک دیا۔

قبل ازیں میئر کراچی وسیم اختر نے 2016 سے 2020 میں تک کے ایم سی کو ملنے والے فنڈز، ترقیاتی و غیر ترقیاتی کاموں کی تفصیلات سے صحافیوں کو آگاہ کیا۔ اس موقع پر ڈپٹی میئر کراچی سید ارشد حسن، سٹی کونسل میں پارلیمانی لیڈر اسلم شاہ آفریدی، سٹی کونسل کی مختلف کمیٹیوں کے چیئر مین اور چیئر پرسنز کے علاوہ محکمہ جاتی سربراہان بھی موجود تھے۔

Load Next Story