پی سی بی اور فیصل آباد وولفز کے مابین معاوضوں پر تنازع
ٹی 20 چیمپئنز لیگ میں شرکت کرنے والی ٹیم کے کھلاڑیوں نے چیک واپس کردیے
بورڈ نے 5 کروڑ 35 لاکھ وصول کیے، ہر کرکٹر کو صرف 6 لاکھ 70 ہزار روپے دیے گئے۔ فوٹو: فائل
پی سی بی اور فیصل آباد وولفز کے مابین معاوضوں پر تنازع کھڑا ہوگیا، ٹوئنٹی20چیمپئنز لیگ میں شرکت کرنے والی ٹیم کے کھلاڑیوں نے چیک واپس کردیے۔
ان کا کہنا ہے کہ بورڈ نے5کروڑ 35لاکھ روپے وصول کرنے کے باوجود ہر کرکٹر کو صرف 6لاکھ 70ہزار روپے دیے۔ تفصیلات کے مطابق شعیب ملک کی قیادت میں جنوبی افریقہ میں ٹوئنٹی20چیمپئنز لیگ 2012 میں شرکت کرنے والے سیالکوٹ اسٹالینز نے کم معاوضے دیے جانے کا شکوہ کرتے ہوئے کہا تھا کہ بورڈ حکام نے 5 لاکھ ڈالر وصول کرنے کے باوجود ان کی حق تلفی کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی، رواں سال بھارت میں شیڈول ایونٹ کے پہلے رائونڈ سے باہر ہونے والے پاکستان کی ڈومیسٹک چیمپئن سائیڈ فیصل آباد وولفز بھی ملنے والی رقم سے خوش نہیں، ٹیم ذرائع کا کہنا ہے کہ بورڈ کو اس بار بھی 5لاکھ ڈالر یعنی 5کروڑ 35لاکھ کے قریب پاکستانی روپے موصول ہوئے لیکن ان کو فی کس صرف 6لاکھ 75ہزار روپے دیے گئے،کم از کم آدھی رقم تو کھلاڑیوں میں تقسیم کردی جاتی۔
ذرائع کے مطابق بعض پلیئرز نے پی سی بی کی طرف سے بھجوائے جانے والے چیک بھی واپس کردیے ہیں۔ دوسری طرف چیف آپریٹنگ آفیسر سبحان احمد کا کہنا ہے کہ پوری رقم نہیں ملی، ایک لاکھ ٹیکس کی مد میں کاٹ لیے گئے، ہم نے کھلاڑیوں کے معاوضے میں کٹوتی نہیںکی۔ ذرائع کے مطابق ملک میں انٹرنیشنل کرکٹ نہ ہونے کی وجہ سے پی سی بی ریجنل، ڈومیسٹک مقابلوں اور ڈیولپمنٹ منصوبوں کے اخراجات کیلیے ٹیموں کے ٹورز سے حاصل ہونے والی آمدنی پر انحصار کرتا ہے، اسی لیے ایک تناسب کے مطابق ہی کھلاڑیوں کو ادائیگی کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔
ان کا کہنا ہے کہ بورڈ نے5کروڑ 35لاکھ روپے وصول کرنے کے باوجود ہر کرکٹر کو صرف 6لاکھ 70ہزار روپے دیے۔ تفصیلات کے مطابق شعیب ملک کی قیادت میں جنوبی افریقہ میں ٹوئنٹی20چیمپئنز لیگ 2012 میں شرکت کرنے والے سیالکوٹ اسٹالینز نے کم معاوضے دیے جانے کا شکوہ کرتے ہوئے کہا تھا کہ بورڈ حکام نے 5 لاکھ ڈالر وصول کرنے کے باوجود ان کی حق تلفی کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی، رواں سال بھارت میں شیڈول ایونٹ کے پہلے رائونڈ سے باہر ہونے والے پاکستان کی ڈومیسٹک چیمپئن سائیڈ فیصل آباد وولفز بھی ملنے والی رقم سے خوش نہیں، ٹیم ذرائع کا کہنا ہے کہ بورڈ کو اس بار بھی 5لاکھ ڈالر یعنی 5کروڑ 35لاکھ کے قریب پاکستانی روپے موصول ہوئے لیکن ان کو فی کس صرف 6لاکھ 75ہزار روپے دیے گئے،کم از کم آدھی رقم تو کھلاڑیوں میں تقسیم کردی جاتی۔
ذرائع کے مطابق بعض پلیئرز نے پی سی بی کی طرف سے بھجوائے جانے والے چیک بھی واپس کردیے ہیں۔ دوسری طرف چیف آپریٹنگ آفیسر سبحان احمد کا کہنا ہے کہ پوری رقم نہیں ملی، ایک لاکھ ٹیکس کی مد میں کاٹ لیے گئے، ہم نے کھلاڑیوں کے معاوضے میں کٹوتی نہیںکی۔ ذرائع کے مطابق ملک میں انٹرنیشنل کرکٹ نہ ہونے کی وجہ سے پی سی بی ریجنل، ڈومیسٹک مقابلوں اور ڈیولپمنٹ منصوبوں کے اخراجات کیلیے ٹیموں کے ٹورز سے حاصل ہونے والی آمدنی پر انحصار کرتا ہے، اسی لیے ایک تناسب کے مطابق ہی کھلاڑیوں کو ادائیگی کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔