بنگلہ دیش میں ایونٹس حتمی فیصلہ آئندہ ماہ آئی سی سی کے اجلاس میں ہوگا
دبئی میں موجود چیئرمین پی سی بی کونسل کو پاکستانی تحفظات سے آگاہ کریں گے
تیزی سے بگڑتی صورتحال میں خاص طور پر گرین شرٹس کی شرکت مشکوک ہو گئی ہے۔
بنگلہ دیش میں پاکستان کیخلاف مظاہرے نے ایشیا کپ اور ورلڈ ٹوئنٹی20 چیمپئن شپ پر خدشات کے سائے مزید گہرے کر دیے۔
تیزی سے بگڑتی صورتحال میں خاص طور پر گرین شرٹس کی شرکت مشکوک ہو گئی، پی سی بی حکام صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں، ایونٹس کے مستقبل کے بارے میں حتمی فیصلہ25 جنوری کو شروع ہونے والے آئی سی سی ایگزیکٹیو بورڈ کے اجلاس میں ہوگا۔تفصیلات کے مطابق چٹاگانگ میں بم دھماکے کے بعد ویسٹ انڈین انڈر 19 ٹیم دورہ ادھورا چھوڑ کر وطن واپس چلی گئی تھی، حالات میں بہتری سے قبل ہی عبدالقادرملا کو سزائے موت دیدی گئی، پاکستان میں اس کیخلاف قرارداد منظور کیے جانے کے بعد بنگلہ دیش میں شدید رد عمل سامنے آیا، ان واقعات کی وجہ سے فروری میں شیڈول ایشیا کپ اور بعد ازاں ورلڈ ٹوئنٹی 20 چیمپئن شپ پر چھائے خدشات کے بادل مزید گہرے ہوگئے، تیزی سے بگڑتی صورتحال نے پی سی بی کو بھی فکر مندی میں مبتلا کردیا۔
حکومت کے ساتھ بورڈ حکام بھی حالات پر نظر رکھے ہوئے ہیں،گیند اب آئی سی سی اور اے سی سی کے کورٹ میں ہے، گذشتہ چار برسوں سے پاکستان سیکیورٹی صورتحال کی وجہ سے ورلڈ کپ سمیت کئی ٹیموں کی میزبانی سے محروم رہا ہے، بنگلہ دیش کے حالات بھی عالمی ایونٹس کیلیے سازگار نظر نہیں آتے، پاکستان مخالف مظاہرے اب بھی جاری ہیں، پی سی بی ایڈہاک کمیٹی کے چیئرمین نجم سیٹھی ان دنوں دبئی میں موجود ہیں،وہاں وہ آئی سی سی اور اے سی سی کے نمائندوں کو اپنے تحفظات سے آگاہ کریں گے۔ذرائع کے مطابق دیگر رکن ممالک بھی اسی قسم کی تشویش میں مبتلا ہیں، اس حوالے سے سب کی رائے حاصل کرنے کے بعد حتمی فیصلہ 25سے 27جنوری تک شیڈول آئی سی سی کے ایگزیکٹیو بورڈ اجلاس میں ہوگا۔
تیزی سے بگڑتی صورتحال میں خاص طور پر گرین شرٹس کی شرکت مشکوک ہو گئی، پی سی بی حکام صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں، ایونٹس کے مستقبل کے بارے میں حتمی فیصلہ25 جنوری کو شروع ہونے والے آئی سی سی ایگزیکٹیو بورڈ کے اجلاس میں ہوگا۔تفصیلات کے مطابق چٹاگانگ میں بم دھماکے کے بعد ویسٹ انڈین انڈر 19 ٹیم دورہ ادھورا چھوڑ کر وطن واپس چلی گئی تھی، حالات میں بہتری سے قبل ہی عبدالقادرملا کو سزائے موت دیدی گئی، پاکستان میں اس کیخلاف قرارداد منظور کیے جانے کے بعد بنگلہ دیش میں شدید رد عمل سامنے آیا، ان واقعات کی وجہ سے فروری میں شیڈول ایشیا کپ اور بعد ازاں ورلڈ ٹوئنٹی 20 چیمپئن شپ پر چھائے خدشات کے بادل مزید گہرے ہوگئے، تیزی سے بگڑتی صورتحال نے پی سی بی کو بھی فکر مندی میں مبتلا کردیا۔
حکومت کے ساتھ بورڈ حکام بھی حالات پر نظر رکھے ہوئے ہیں،گیند اب آئی سی سی اور اے سی سی کے کورٹ میں ہے، گذشتہ چار برسوں سے پاکستان سیکیورٹی صورتحال کی وجہ سے ورلڈ کپ سمیت کئی ٹیموں کی میزبانی سے محروم رہا ہے، بنگلہ دیش کے حالات بھی عالمی ایونٹس کیلیے سازگار نظر نہیں آتے، پاکستان مخالف مظاہرے اب بھی جاری ہیں، پی سی بی ایڈہاک کمیٹی کے چیئرمین نجم سیٹھی ان دنوں دبئی میں موجود ہیں،وہاں وہ آئی سی سی اور اے سی سی کے نمائندوں کو اپنے تحفظات سے آگاہ کریں گے۔ذرائع کے مطابق دیگر رکن ممالک بھی اسی قسم کی تشویش میں مبتلا ہیں، اس حوالے سے سب کی رائے حاصل کرنے کے بعد حتمی فیصلہ 25سے 27جنوری تک شیڈول آئی سی سی کے ایگزیکٹیو بورڈ اجلاس میں ہوگا۔