پاکستانی شاہین سری لنکن ٹائیگرز پر جھپٹنے کو تیار
ایک یا 100 سے جیتیں اہمیت یکساں ہی ہوتی ہے،سلسلہ برقرار رکھنے کیلیے پُراعتماد ہوں،واٹمور
بلاول بھٹی اور جنید خان میں سے کسی ایک کی جگہ انور علی کو مل سکتی ہے۔گیٹی امیجز:فائل
پاکستان اور سری لنکا کے درمیان دوسرا ون ڈے انٹرنیشنل جمعے کو دبئی میں کھیلا جائے گا، پاکستانی شاہین پھر ٹائیگرزپر جھپٹنے کو تیار ہیں، مشکل سے ہاتھ آنے والی فتح نے بھی گرین شرٹس کے حوصلے بلند کردیے۔
ناقابل اعتبار بیٹنگ لائن ٹیم مینجمنٹ کے دل میں وسوسے ڈال رہی ہے، بلاول بھٹی اور جنید خان میں سے کسی ایک کی جگہ انور علی کو مل سکتی ہے، بیٹنگ ٹریک کی صورت میں ٹاس جیت کر پہلے کھیلنے والی ٹیم فائدے میں رہے گی، اوس کے بھی بدستور خطرہ ثابت ہونے کا امکان ہے۔ کوچ ڈیو واٹمور نے کہاکہ ایک یا 100 سے جیتیں، فتح کی یکساں اہمیت ہوتی ہے، پہلا معرکہ سر کرنے پر خوش اور یہ سلسلہ برقرار رکھنے کیلیے پُراعتماد ہوں۔ دوسری جانب سری لنکا سورنگا لکمل کی جگہ نوان کولاسیکرا کو میدان میں اتار سکتا ہے، کپتان انجیلو میتھیوز نے کہا کہ ہم میچ ہارے ہیں ہمت نہیں، اس بار بھی کم بیک کریں گے۔
تفصیلات کے مطابق پاکستان اور سری لنکا کے درمیان پہلا ون ڈے جس انداز میں ختم ہوا اس سے دونوں سائیڈز کے حوصلے بڑھ گئے ہیں، گرین شرٹس کو اپنے بیٹسمینوں کی پرفارمنس پر زیادہ خوشی ہے، حفیظ کی فارم میں واپسی ہوئی تاہم ٹیم کیلیے خاص طور پر اچھی خبر شرجیل خان اور صہیب مقصود کا عمدہ کھیل ہے، دونوں نے ٹیم کے اسکور کو 300 سے اوپر پہنچانے میں اہم کردار ادا کیا، شرجیل نے کیریئر کے پہلے ون ڈے میں 61 اور صہیب نے 73 رنز اسکور کیے، دوسری جانب سری لنکا کے لیے لوئر آرڈر کی مار دھاڑ زیادہ اطمینان بخش رہی، سیکوگے پرسنا اور سچترا سینانائیکے آخر میں چھکوں چوکوں کی برسات نہ کرتے تو ٹیم 280 کے اندر ہی آئوٹ ہوتی دکھائی دے رہی تھی، دونوں ٹیموں کیلیے بولنگ کا نہ چل پانا حیران کن تھا، اس شعبے میں اگلے میچز میں بہتری درکار ہوگی۔
پہلے ون ڈے میں ٹاس جیت کر بیٹنگ کا انتخاب کرتے ہوئے مصباح نے کہا تھا کہ اوس مسئلہ نہیں بنے گی اور ایسا ہی ہوا، مگر یہ میچ دبئی میں کھیلا جارہا ہے جہاں پر ٹوئنٹی 20 میچز میں اوس کی وجہ سے بولرز کیلیے گیند پر گرفت مضبوط رکھنا مشکل ہوگیا تھا۔ اگر اس بار بھی وکٹ بیٹنگ کے لیے تیار کی گئی تو پھر ٹاس جیتنے والی ٹیم بیٹ سنبھالنے کو ہی ترجیح دے گی۔ اگرچہ پاکستان نے پہلا میچ جیتا مگر بولرز کی ناقص کارکردگی کی وجہ سے ایک تبدیلی کے امکان کو رد نہیں کیا جاسکتا، پہلے معرکے میں جنید خان سب سے مہنگے ثابت ہوئے مگر انھوں نے 2 وکٹیں بھی لیں جبکہ بلاول بھٹی نے بھی بہت زیادہ رنز دیے، ان دونوں میں سے کسی ایک کی جگہ انور علی کو میدان میں اتارا جاسکتا ہے۔
دوسری جانب سری لنکا کی جانب سے پہلے میچ میں نوان کولاسیکرا کو باہر بٹھانے کو پراسرار قرار دیا جارہا ہے، وہ گذشتہ 2 برس سے محدود اوورز کے میچز میں کافی کامیاب ثابت ہوئے، دوسرے میچ میں لکمل کی جگہ انھیں کھلایا جاسکتا ہے۔ پاکستانی اسٹار شاہد آفریدی یو اے ای کے شائقین کی امیدوں کا محور ہوں گے، انھوں نے دیگر ٹیموں کی بانسبت سری لنکا کے خلاف زیادہ بہتر پرفارم کیا ہے، انھوں نے آئی لینڈرز کے خلاف اب تک62 وکٹیں اور 8 مرتبہ ففٹی پلس اسکور کیا۔ پاکستانی کوچ ڈیو واٹمور نے کہاکہ کسی بھی سیریز کا آغاز فتح کے ساتھ ہونا ہمیشہ سے ہی خوش کن ہوتا ہے، اس سے باقی میچز کیلیے حوصلے بلند ہوجاتے ہیں، آخر میں میچ کے سنسنی خیز ہونے کے بارے میں واٹمور نے کہا کہ چاہے ایک یا 100 رنز سے ملے، فتح ہمارے لیے ہر حال میں اہم ہے۔
ناقابل اعتبار بیٹنگ لائن ٹیم مینجمنٹ کے دل میں وسوسے ڈال رہی ہے، بلاول بھٹی اور جنید خان میں سے کسی ایک کی جگہ انور علی کو مل سکتی ہے، بیٹنگ ٹریک کی صورت میں ٹاس جیت کر پہلے کھیلنے والی ٹیم فائدے میں رہے گی، اوس کے بھی بدستور خطرہ ثابت ہونے کا امکان ہے۔ کوچ ڈیو واٹمور نے کہاکہ ایک یا 100 سے جیتیں، فتح کی یکساں اہمیت ہوتی ہے، پہلا معرکہ سر کرنے پر خوش اور یہ سلسلہ برقرار رکھنے کیلیے پُراعتماد ہوں۔ دوسری جانب سری لنکا سورنگا لکمل کی جگہ نوان کولاسیکرا کو میدان میں اتار سکتا ہے، کپتان انجیلو میتھیوز نے کہا کہ ہم میچ ہارے ہیں ہمت نہیں، اس بار بھی کم بیک کریں گے۔
تفصیلات کے مطابق پاکستان اور سری لنکا کے درمیان پہلا ون ڈے جس انداز میں ختم ہوا اس سے دونوں سائیڈز کے حوصلے بڑھ گئے ہیں، گرین شرٹس کو اپنے بیٹسمینوں کی پرفارمنس پر زیادہ خوشی ہے، حفیظ کی فارم میں واپسی ہوئی تاہم ٹیم کیلیے خاص طور پر اچھی خبر شرجیل خان اور صہیب مقصود کا عمدہ کھیل ہے، دونوں نے ٹیم کے اسکور کو 300 سے اوپر پہنچانے میں اہم کردار ادا کیا، شرجیل نے کیریئر کے پہلے ون ڈے میں 61 اور صہیب نے 73 رنز اسکور کیے، دوسری جانب سری لنکا کے لیے لوئر آرڈر کی مار دھاڑ زیادہ اطمینان بخش رہی، سیکوگے پرسنا اور سچترا سینانائیکے آخر میں چھکوں چوکوں کی برسات نہ کرتے تو ٹیم 280 کے اندر ہی آئوٹ ہوتی دکھائی دے رہی تھی، دونوں ٹیموں کیلیے بولنگ کا نہ چل پانا حیران کن تھا، اس شعبے میں اگلے میچز میں بہتری درکار ہوگی۔
پہلے ون ڈے میں ٹاس جیت کر بیٹنگ کا انتخاب کرتے ہوئے مصباح نے کہا تھا کہ اوس مسئلہ نہیں بنے گی اور ایسا ہی ہوا، مگر یہ میچ دبئی میں کھیلا جارہا ہے جہاں پر ٹوئنٹی 20 میچز میں اوس کی وجہ سے بولرز کیلیے گیند پر گرفت مضبوط رکھنا مشکل ہوگیا تھا۔ اگر اس بار بھی وکٹ بیٹنگ کے لیے تیار کی گئی تو پھر ٹاس جیتنے والی ٹیم بیٹ سنبھالنے کو ہی ترجیح دے گی۔ اگرچہ پاکستان نے پہلا میچ جیتا مگر بولرز کی ناقص کارکردگی کی وجہ سے ایک تبدیلی کے امکان کو رد نہیں کیا جاسکتا، پہلے معرکے میں جنید خان سب سے مہنگے ثابت ہوئے مگر انھوں نے 2 وکٹیں بھی لیں جبکہ بلاول بھٹی نے بھی بہت زیادہ رنز دیے، ان دونوں میں سے کسی ایک کی جگہ انور علی کو میدان میں اتارا جاسکتا ہے۔
دوسری جانب سری لنکا کی جانب سے پہلے میچ میں نوان کولاسیکرا کو باہر بٹھانے کو پراسرار قرار دیا جارہا ہے، وہ گذشتہ 2 برس سے محدود اوورز کے میچز میں کافی کامیاب ثابت ہوئے، دوسرے میچ میں لکمل کی جگہ انھیں کھلایا جاسکتا ہے۔ پاکستانی اسٹار شاہد آفریدی یو اے ای کے شائقین کی امیدوں کا محور ہوں گے، انھوں نے دیگر ٹیموں کی بانسبت سری لنکا کے خلاف زیادہ بہتر پرفارم کیا ہے، انھوں نے آئی لینڈرز کے خلاف اب تک62 وکٹیں اور 8 مرتبہ ففٹی پلس اسکور کیا۔ پاکستانی کوچ ڈیو واٹمور نے کہاکہ کسی بھی سیریز کا آغاز فتح کے ساتھ ہونا ہمیشہ سے ہی خوش کن ہوتا ہے، اس سے باقی میچز کیلیے حوصلے بلند ہوجاتے ہیں، آخر میں میچ کے سنسنی خیز ہونے کے بارے میں واٹمور نے کہا کہ چاہے ایک یا 100 رنز سے ملے، فتح ہمارے لیے ہر حال میں اہم ہے۔