بوسنیا کے صدر شفیق جعفرووچ کی پاکستان آمد
بوسنیا کے صدر شفیق جعفرووچ دورے کے دوران صدر پاکستان عارف علوی اور وزیراعظم عمران خان سے ملاقاتیں کریں گے
بوسنیا کے صدر شفیق جعفرووچ دورے کے دوران صدر پاکستان عارف علوی اور وزیراعظم عمران خان سے ملاقاتیں کریں گے۔ فوٹر:فائل
بوسنیا ہرزیگووینا کے صدر شفیق جعفرووچ دو روزہ دورے پر پاکستان پہنچ گئے۔
ایکسپریس نیوزکے مطابق بوسنیا ہرزیگووینا کے صدر شفیق جعفرووچ دو روزہ دورے پاکستان پہنچ گئے، وہ 17رکنی وفد کے ہمراہ پرواز ٹی کے 710 پر استنبول سے اسلام آباد پہنچے، صدر بوسنیا ہرزیگووینا وزیراعظم عمران خان کی دعوت پر دورہ کر رہے ہیں، اور دورے کے دوران صدر پاکستان عارف علوی اور وزیراعظم عمران خان سے ملاقاتیں کریں گے۔
صدر شفیق جعفرووچ کی وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی سے ملاقات
بوسنیا ہرزیگوینا کے صدر سے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے ملاقات کی، ملاقات میں دو طرفہ تعلقات ،خطے کی صورتحال سمیت باہمی دلچسپی کے امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے بوسنیا ہرزیگووینا کے صدر اور ان کے وفد کو پاکستان آمد پر خوش آمدید کہا، ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کے بوسنیا، ہرزیگووینا کے ساتھ خوشگوار برادرانہ تعلقات استوار ہیں، دونوں ممالک نے ضرورت کی ہر گھڑی میں ایک دوسرے کی مدد کی، پاکستان کی عوام، 2005 کے شدید زلزلے اور2010 کے سیلاب کے دوران بوسنیا ہرزیگووینا کی جانب سے فراہم کردہ مدد کو کبھی فراموش نہیں کریں گے۔
وزیرخارجہ کا کہنا تھا کہ پاکستان، بوسنیا کے ساتھ دو طرفہ تجارت، اقتصادیات، تعلیم، ثقافت اور عوامی رابطوں سمیت مختلف شعبوں میں تعاون کے فروغ کا خواہاں ہے، دونوں ممالک کے درمیان اعلیٰ سطحی وفود کے تبادلے سے دو طرفہ تعلقات مزید مستحکم ہوں گے۔
وزیر خارجہ نے،بوسنیا کے صدر کو بھارت کی جانب سے مقبوضہ جموں و کشمیر میں جاری انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں سے آگاہ کرتے ہوئے مقبوضہ کشمیر کے حوالے سے ان کے بیان کو سراہا، ان کا کہنا تھا کہ مقبوضہ جموں و کشمیر میں بھارت کی جانب سے انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کا سلسلہ جاری ہے، کشمیریوں کو بھارتی محاصرے اور جبر سے نجات دلانے کیلئے بوسنیا سمیت عالمی برادری کو آگے بڑھ کر اپنا کردار ادا کرنے کی ضرورت ہے۔
بوسنیا ہرزیگووینا کے صدر شفیق جعفرووچ کا کہنا تھا کہ پاکستان نے بوسنیا میں جنگ کے دوران اقوام متحدہ کے امن دستوں میں نمایاں طور پر شرکت کی جس پر میں پاکستان کا بہت شکرگزار ہوں۔ ہم سمجھتے ہیں کہ انسانی حقوق کے احترام کو مرکزی حیثیت دی جانی چاہیے اس لیے ہم نے کشمیر کے حوالے سے اپنے بیان میں زور دیا کہ مقبوضہ جموں و کشمیر میں انسانی حقوق کا احترام کیا جانا چاہیے اور مسئلہ کشمیر کو اقوام متحدہ سلامتی کونسل کی قراردادوں کی روشنی میں پر امن طریقے سے حل کیا جانا چاہیے۔
صدر بوسنیا کا کہنا تھا کہ مجھے پاکستان آ کر، آپ سے ملکر اور تبادلہ ء خیال کر کے بہت خوشی محسوس ہو رہی ہے، پاکستان اور بوسنیا کے مابین گہرے روابط ہیں اس دورہ کے دوران ہمیں باہمی تعلقات کو فروغ دینے میں مدد ملے گی،
فریقین کا باہمی دلچسپی کے امور دو طرفہ تعاون کے فروغ پر اتفاق
وزیر خارجہ نے افغانستان میں قیام امن کیلئے پاکستان کے مصالحانہ کردار کے حوالے سے بوسنیا کے صدر کو آگاہ کرتے ہوئے خطے میں قیام امن کیلئے اپنا مخلصانہ کردار کرتے رہنے کے عزم کا اظہار کیا۔
وزیراعظم عمران خان بوسنیا ہرزیگووینا کے صدر شفیق جعفرووچ کا استقبال کریں گے، بوسنیا کے صدر کو وزیراعظم ہاوس میں گارڈ آف آنر پیش کیا جائے گا، دونوں رہنماوں کے درمیان وفود کی سطح پر ملاقات ہوگی، وزیراعظم بوسنیا کے صدر کے اعزاز میں ظہرانہ بھی دیں گے، دونوں رہنماء میڈیا بیانات بھی جاری کریں گے۔
واضح رہے کہ بوسنیا ، ہرزیگووینا کی پریذیڈنسی کے چئیرمین کی حیثیت سے جناب شفیق جعفرووچ کا یہ پاکستان کا پہلا دورہ ہے
ایکسپریس نیوزکے مطابق بوسنیا ہرزیگووینا کے صدر شفیق جعفرووچ دو روزہ دورے پاکستان پہنچ گئے، وہ 17رکنی وفد کے ہمراہ پرواز ٹی کے 710 پر استنبول سے اسلام آباد پہنچے، صدر بوسنیا ہرزیگووینا وزیراعظم عمران خان کی دعوت پر دورہ کر رہے ہیں، اور دورے کے دوران صدر پاکستان عارف علوی اور وزیراعظم عمران خان سے ملاقاتیں کریں گے۔
صدر شفیق جعفرووچ کی وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی سے ملاقات
بوسنیا ہرزیگوینا کے صدر سے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے ملاقات کی، ملاقات میں دو طرفہ تعلقات ،خطے کی صورتحال سمیت باہمی دلچسپی کے امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے بوسنیا ہرزیگووینا کے صدر اور ان کے وفد کو پاکستان آمد پر خوش آمدید کہا، ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کے بوسنیا، ہرزیگووینا کے ساتھ خوشگوار برادرانہ تعلقات استوار ہیں، دونوں ممالک نے ضرورت کی ہر گھڑی میں ایک دوسرے کی مدد کی، پاکستان کی عوام، 2005 کے شدید زلزلے اور2010 کے سیلاب کے دوران بوسنیا ہرزیگووینا کی جانب سے فراہم کردہ مدد کو کبھی فراموش نہیں کریں گے۔
وزیرخارجہ کا کہنا تھا کہ پاکستان، بوسنیا کے ساتھ دو طرفہ تجارت، اقتصادیات، تعلیم، ثقافت اور عوامی رابطوں سمیت مختلف شعبوں میں تعاون کے فروغ کا خواہاں ہے، دونوں ممالک کے درمیان اعلیٰ سطحی وفود کے تبادلے سے دو طرفہ تعلقات مزید مستحکم ہوں گے۔
وزیر خارجہ نے،بوسنیا کے صدر کو بھارت کی جانب سے مقبوضہ جموں و کشمیر میں جاری انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں سے آگاہ کرتے ہوئے مقبوضہ کشمیر کے حوالے سے ان کے بیان کو سراہا، ان کا کہنا تھا کہ مقبوضہ جموں و کشمیر میں بھارت کی جانب سے انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کا سلسلہ جاری ہے، کشمیریوں کو بھارتی محاصرے اور جبر سے نجات دلانے کیلئے بوسنیا سمیت عالمی برادری کو آگے بڑھ کر اپنا کردار ادا کرنے کی ضرورت ہے۔
بوسنیا ہرزیگووینا کے صدر شفیق جعفرووچ کا کہنا تھا کہ پاکستان نے بوسنیا میں جنگ کے دوران اقوام متحدہ کے امن دستوں میں نمایاں طور پر شرکت کی جس پر میں پاکستان کا بہت شکرگزار ہوں۔ ہم سمجھتے ہیں کہ انسانی حقوق کے احترام کو مرکزی حیثیت دی جانی چاہیے اس لیے ہم نے کشمیر کے حوالے سے اپنے بیان میں زور دیا کہ مقبوضہ جموں و کشمیر میں انسانی حقوق کا احترام کیا جانا چاہیے اور مسئلہ کشمیر کو اقوام متحدہ سلامتی کونسل کی قراردادوں کی روشنی میں پر امن طریقے سے حل کیا جانا چاہیے۔
صدر بوسنیا کا کہنا تھا کہ مجھے پاکستان آ کر، آپ سے ملکر اور تبادلہ ء خیال کر کے بہت خوشی محسوس ہو رہی ہے، پاکستان اور بوسنیا کے مابین گہرے روابط ہیں اس دورہ کے دوران ہمیں باہمی تعلقات کو فروغ دینے میں مدد ملے گی،
فریقین کا باہمی دلچسپی کے امور دو طرفہ تعاون کے فروغ پر اتفاق
وزیر خارجہ نے افغانستان میں قیام امن کیلئے پاکستان کے مصالحانہ کردار کے حوالے سے بوسنیا کے صدر کو آگاہ کرتے ہوئے خطے میں قیام امن کیلئے اپنا مخلصانہ کردار کرتے رہنے کے عزم کا اظہار کیا۔
وزیراعظم عمران خان بوسنیا ہرزیگووینا کے صدر شفیق جعفرووچ کا استقبال کریں گے، بوسنیا کے صدر کو وزیراعظم ہاوس میں گارڈ آف آنر پیش کیا جائے گا، دونوں رہنماوں کے درمیان وفود کی سطح پر ملاقات ہوگی، وزیراعظم بوسنیا کے صدر کے اعزاز میں ظہرانہ بھی دیں گے، دونوں رہنماء میڈیا بیانات بھی جاری کریں گے۔
واضح رہے کہ بوسنیا ، ہرزیگووینا کی پریذیڈنسی کے چئیرمین کی حیثیت سے جناب شفیق جعفرووچ کا یہ پاکستان کا پہلا دورہ ہے