آئی پی ایل سرکاری ’چابی‘ کے بغیر پاکستان پر دروازے کھولنے سے انکار
کھلاڑیوں کا نیلام عام 12 فروری کو ہوگا، فرنچائزز کو 5 سابق پلیئرز اپنے پاس برقرار رکھنے کا حق مل گیا، اجلاس میں فیصلے
گرین شرٹس نے 2008 میں پہلی اور آخری بار آئی پی ایل کھیلی تھی۔ فوٹو: فائل
آئی پی ایل کھیلنے کیلیے پاکستانی پلیئرز کو بھارتی حکومت کی 'ہاں' درکار ہے، گورننگ کونسل نے سرکاری 'چابی' کے بغیر پاکستان پر لیگ کے بند دروازے کھولنے سے انکار کردیا، کھلاڑیوں کا نیلام عام 12فروری کو ہوگا۔
فرنچائزز کو 5 سابق پلیئرز اپنے پاس برقرار رکھنے کا حق مل گیا، ایک اضافی کھلاڑی 'جوکر کارڈ' کے ذریعے بھی واپس لے سکتے ہیں، تمام کاروبار بھارتی روپے میں ہوگا۔ تفصیلات کے مطابق پاکستانی کرکٹرز پر انڈین پریمیئر لیگ کے دروازے کچھ ایسے بندہوئے کہ کھلنے کا نام ہی نہیں لے رہے، گرین شرٹس نے 2008 میں پہلی اور آخری بار آئی پی ایل کھیلی تھی،اس کے بعد دونوں ممالک میں سیاسی کشیدگی نے راستے کاٹ دیے، اس بار بھی گورننگ کونسل نے واضح کردیاکہ پاکستانی پلیئرز کی ایونٹ میں شرکت کا دارومدار بھارتی حکومت کی اجازت پر ہے،اس کے بغیر انھیں ایونٹ میں شامل نہیں کیا جاسکتا۔ فرنچائزز کے پلیئرز کے ساتھ تین برس کے پرانے معاہدے ختم ہوچکے تاہم گورننگ کونسل نے انھیں اپنے پرانے کھلاڑیوں میں سے زیادہ سے زیادہ 5 کی خدمات اپنے پاس محفوظ رکھنے کی اجازت دے دی،ٹیمیں میچنگ (جوکر) کارڈ کے ذریعے ایک اور پلیئر کی خدمات بھی دوبارہ حاصل کرسکتی ہیں۔
تمام فرنچائزز کو آگاہ کردیا گیاکہ وہ فوری طور پر اس بات کا فیصلہ کرلیں کہ انھیں کن پلیئرز کو اپنے پاس برقرار رکھنا اور کسے ریلیز کرنا ہے، برقرار رکھے جانے والے کھلاڑیوں کی تعداد زیادہ سے زیادہ پانچ ہوسکتی ہے، اس میں غیرملکی یا لوکل کی کوئی پابندی نہیں،اگر ٹیمیں چاہیں تو وہ 2،3 پلیئرز کو بھی برقرار رکھ سکتی یا پھر تمام کھلاڑیوں کو فارغ کرکے نیلامی میں نئے کھلاڑی خریدنے کو ترجیح دے سکتی ہیں، ایسی فرنچائزز کو ایک کے بجائے تین جوکر کارڈز دیے جائیں گے، ان کارڈز کی بدولت اگر کوئی فرنچائز نیلامی کے فوری بعد اپنے کسی پلیئر کو واپس حاصل کرنا چاہتی ہے تو پھر وہ اس کی لگنے والی بولی کے برابر رقم میں اس کی خدمات لے سکتی ہے۔
ٹیموں کے لیے کھلاڑیوں کی خریداری کیلیے زیادہ سے زیادہ 60 کروڑ روپے خرچ کرنے کی حد مقرر کی گئی،اگر کوئی فرنچائز پانچ پرانے پلیئرز کو اپنے پاس محفوظ رکھتی ہے تو اس بات سے قطع نظر کہ ان کھلاڑیوں کے ساتھ معاہدوں کی مالیت کیا ہے، ان کی 60 کروڑ کی رقم میں39 کروڑ کی کمی کردی جائے گی اور وہ باقی کھلاڑی صرف 21 کروڑ روپے میں خریدنے کے پابند ہوں گے۔ مقررہ رقم میں 2015 اور 2016 کیلیے پانچ، پانچ فیصد اضافہ ہوگا۔
فرنچائزز کو 5 سابق پلیئرز اپنے پاس برقرار رکھنے کا حق مل گیا، ایک اضافی کھلاڑی 'جوکر کارڈ' کے ذریعے بھی واپس لے سکتے ہیں، تمام کاروبار بھارتی روپے میں ہوگا۔ تفصیلات کے مطابق پاکستانی کرکٹرز پر انڈین پریمیئر لیگ کے دروازے کچھ ایسے بندہوئے کہ کھلنے کا نام ہی نہیں لے رہے، گرین شرٹس نے 2008 میں پہلی اور آخری بار آئی پی ایل کھیلی تھی،اس کے بعد دونوں ممالک میں سیاسی کشیدگی نے راستے کاٹ دیے، اس بار بھی گورننگ کونسل نے واضح کردیاکہ پاکستانی پلیئرز کی ایونٹ میں شرکت کا دارومدار بھارتی حکومت کی اجازت پر ہے،اس کے بغیر انھیں ایونٹ میں شامل نہیں کیا جاسکتا۔ فرنچائزز کے پلیئرز کے ساتھ تین برس کے پرانے معاہدے ختم ہوچکے تاہم گورننگ کونسل نے انھیں اپنے پرانے کھلاڑیوں میں سے زیادہ سے زیادہ 5 کی خدمات اپنے پاس محفوظ رکھنے کی اجازت دے دی،ٹیمیں میچنگ (جوکر) کارڈ کے ذریعے ایک اور پلیئر کی خدمات بھی دوبارہ حاصل کرسکتی ہیں۔
تمام فرنچائزز کو آگاہ کردیا گیاکہ وہ فوری طور پر اس بات کا فیصلہ کرلیں کہ انھیں کن پلیئرز کو اپنے پاس برقرار رکھنا اور کسے ریلیز کرنا ہے، برقرار رکھے جانے والے کھلاڑیوں کی تعداد زیادہ سے زیادہ پانچ ہوسکتی ہے، اس میں غیرملکی یا لوکل کی کوئی پابندی نہیں،اگر ٹیمیں چاہیں تو وہ 2،3 پلیئرز کو بھی برقرار رکھ سکتی یا پھر تمام کھلاڑیوں کو فارغ کرکے نیلامی میں نئے کھلاڑی خریدنے کو ترجیح دے سکتی ہیں، ایسی فرنچائزز کو ایک کے بجائے تین جوکر کارڈز دیے جائیں گے، ان کارڈز کی بدولت اگر کوئی فرنچائز نیلامی کے فوری بعد اپنے کسی پلیئر کو واپس حاصل کرنا چاہتی ہے تو پھر وہ اس کی لگنے والی بولی کے برابر رقم میں اس کی خدمات لے سکتی ہے۔
ٹیموں کے لیے کھلاڑیوں کی خریداری کیلیے زیادہ سے زیادہ 60 کروڑ روپے خرچ کرنے کی حد مقرر کی گئی،اگر کوئی فرنچائز پانچ پرانے پلیئرز کو اپنے پاس محفوظ رکھتی ہے تو اس بات سے قطع نظر کہ ان کھلاڑیوں کے ساتھ معاہدوں کی مالیت کیا ہے، ان کی 60 کروڑ کی رقم میں39 کروڑ کی کمی کردی جائے گی اور وہ باقی کھلاڑی صرف 21 کروڑ روپے میں خریدنے کے پابند ہوں گے۔ مقررہ رقم میں 2015 اور 2016 کیلیے پانچ، پانچ فیصد اضافہ ہوگا۔