جرمنی کی حکمراں کے دفتر کے دروازے پر مشتعل شخص نے کار ٹکرا دی
کار پر نعرے درج تھے اور ملزم یہ عمل 2014 اور 2016 میں کیا تھا
پولیس نے 54 سالہ ملزم کو گرفتار کرلیا ہے، فوٹو : رائٹرز
جرمنی کے دارالحکومت میں سیاہ رنگ کی ایک کار مملکت کی سربراہ انگیلا میرکل کے دفتر کے لوہے کے درواز سے جا ٹکرائی۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق دارالحکومت برلن میں چانسلر انگیلا میرکل کے دفتر کے باہری لوہے کے دروازے سے ایک مشتعل شخص نے سیاہ رنگ کار ٹکرادی جس پر نعرے درج تھے۔
کار کی ایک جانب سفید رنگ سے نعرہ درج تھا '' عالمگیریت کی سیاست بند کرو'' جب کہ دوسری جانب '' تم نے بچوں اور بزرگوں کے ناحق قتل کو بھلا دیا'' لکھا ہوا تھا۔
کار کے تصادم سے لوہے کی سلاخوں کو معمولی نقصان پہنچا جبکہ پولیس نے کار چلانے والے 54 سالہ شخص کو حراست میں لے لیا جسے معمولی چوٹیں آئی ہیں۔ تفتیش کا عمل جاری ہے تاہم ملزم کی شناخت ظاہر نہیں کی گئی ہے۔
جرمنی کی وزارت داخلہ نے اپنے بیان میں انکشاف کیا کہ اس شخص نے 2014 میں بھی اسی طرح اپنی کار اسی جگہ ٹکرائی تھی اور اس وقت بھی اس کی کار پر نعرے درج تھے۔ اسی طرح 2016 میں بھی ایسا ہی عمل کیا تھا۔
پولیس کا کہنا ہے کہ اس واقعے کے تمام پہلوؤں کا جائزہ لیا جائے گا اور ملزم کو ضرورت پڑنے پر ماہر نفسیات سے بھی ملاقات کروائی جائے گی۔ تاحال واقعے میں دہشت گردی کے عنصر کی نشاندہی نہیں ہوئی ہے۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق دارالحکومت برلن میں چانسلر انگیلا میرکل کے دفتر کے باہری لوہے کے دروازے سے ایک مشتعل شخص نے سیاہ رنگ کار ٹکرادی جس پر نعرے درج تھے۔
کار کی ایک جانب سفید رنگ سے نعرہ درج تھا '' عالمگیریت کی سیاست بند کرو'' جب کہ دوسری جانب '' تم نے بچوں اور بزرگوں کے ناحق قتل کو بھلا دیا'' لکھا ہوا تھا۔
کار کے تصادم سے لوہے کی سلاخوں کو معمولی نقصان پہنچا جبکہ پولیس نے کار چلانے والے 54 سالہ شخص کو حراست میں لے لیا جسے معمولی چوٹیں آئی ہیں۔ تفتیش کا عمل جاری ہے تاہم ملزم کی شناخت ظاہر نہیں کی گئی ہے۔
جرمنی کی وزارت داخلہ نے اپنے بیان میں انکشاف کیا کہ اس شخص نے 2014 میں بھی اسی طرح اپنی کار اسی جگہ ٹکرائی تھی اور اس وقت بھی اس کی کار پر نعرے درج تھے۔ اسی طرح 2016 میں بھی ایسا ہی عمل کیا تھا۔
پولیس کا کہنا ہے کہ اس واقعے کے تمام پہلوؤں کا جائزہ لیا جائے گا اور ملزم کو ضرورت پڑنے پر ماہر نفسیات سے بھی ملاقات کروائی جائے گی۔ تاحال واقعے میں دہشت گردی کے عنصر کی نشاندہی نہیں ہوئی ہے۔