سوشل میڈیا اور ایپس کے بناوٹی سستے ستارے

حرا احمد  اتوار 29 نومبر 2020
ان ستاروں پر جگتیں تو لگائی جاسکتی ہیں لیکن ان پر فخر نہیں کیا جاسکتا۔ (فوٹو: فائل)

ان ستاروں پر جگتیں تو لگائی جاسکتی ہیں لیکن ان پر فخر نہیں کیا جاسکتا۔ (فوٹو: فائل)

زندگی کا حقیقی شعور ہی انسان کو فرش سے اٹھا کر عرش پر بٹھاتا ہے۔ ترقی اور خوشحالی کا سفر کتنے زینوں سے ہوکر گزرتا ہے۔ عظمت اور ترقی کا سفر کتنے ہی کٹھن مراحل سے ہوکر اپنی منزل مراد حاصل کرتا ہے۔ عظمت اور کامیابی کو حاصل کرنے کےلیے لوگ زندگی کی کتنی ہی دہائیاں گزار دیتے ہیں۔ تب جاکر ان کا عظیم مقصد حاصل ہوتا ہے۔ لیکن اب اسی دنیا میں ایسے لوگ بھی پائے جارہے ہیں، جو صبح سو کر اٹھتے ہیں تو خود کو ہیرو اور ہیروئن کے منصب پر فائز پاتے ہیں۔ یہ وہ لوگ ہوتے ہیں جنہیں عظمت اور ناموری گھر بیٹھے بٹھائے میسر آجاتی ہے۔ لہٰذا آپ اپنی آسانی کےلیے انہیں سستے ستارے یا سوشل میڈیا اسٹار بھی کہہ سکتے ہیں۔

سستے ستارے اور بناوٹی ہیرو، ہیروئن آپ کو مختلف ایپس اور سوشل میڈیا کی بدولت عظمت کی بلندیوں کو چھوتے نظر آتے ہیں۔ آج کل ناموری و شہرت حاصل کرنے کا فارمولا بڑا ہی آ سان ہے ’’ہینگ لگے نہ پھٹکری اور رنگ بھی آئے چوکھا‘‘ بس ٹک ٹاک، لائیکی یا اسی قبیل کی کوئی ایپ انسٹال کیجئے۔ آپ کے پاس فین فالوونگ حاصل کرنے کے بے شمار سستے طریقے موجود ہیں۔ بے ہودہ کپڑے پہنیے، جانوروں کی طرح چھلانگیں لگائیے، واہیات ٹھمکے لگائیں، عجیب و غریب حرکات و سکنات کا سہارا لیجئے، ناموری آپ کا مقدر ہوگی۔ دنیا میں اس سے زیادہ سستی اور مفت شہرت پہلے کبھی دستیاب نہ تھی۔ یہی وجہ ہے کہ بچے اور نوجوان تو کجا، بوڑھے بابے، بوڑھی امائیں اور یہاں تک کہ قریب المرگ بزرگ بھی آپ کو عجیب و غریب تماشے کرتے اور اس کارخیر میں دل کھول کر حصہ لیتے نظر آتے ہیں۔

ویسے تو ہمارے ملک میں ہر اچھی چیز کا کال ہے لیکن وطن عزیز میں شاید ہی کوئی ایسا گھرانہ ہو جس میں کوئی سوشل میڈیا اسٹار موجود نہ ہو۔ بھلا ہو گوروں کا، جن کی ذہانت کی بدولت ہمارے پاس ترقی کی دوڑ میں خود کو شامل رکھنے کا سہارا موجود ہے۔ ان کی بنائی ہوئی ایپس کی بدولت اب اس قوم کو ایسے ستارے میسر ہیں جنہیں جگتیں تو لگائی جاسکتی ہیں لیکن ان پر فخر نہیں کیا جاسکتا۔ اگر یقین نہ آئے تو ٹک ٹاک اسٹار نامی مخلوق کی ویڈیوز کے نیچے کمنٹس کی مد میں ملنے والے کلمات کا مطالعہ کرکے اپنی تسلی کرلیجئے۔

دنیا چاند سے بھی آگے نکل چکی ہے اور ہمارے نوجوان اپنے موبائل فونز کو ہی اپنی آخری منزل بنائے بیٹھے ہیں۔ وہ سستی شہرت اور ناموری حاصل کرنے کےلیے اپنی اخلاقی اقدار اور معاشرتی روایات کا جنازہ نکال رہے ہیں۔ ہماری نوجوان نسل کے کتنے ہی لڑکے اور لڑکیاں ہیں جو سستی شہرت کے چکر میں اپنی عزت و آبرو کی حفاظت کو بھی بھول کر نام نہاد روشن خیالی کی روش کو اپنا رہے ہیں۔ اس ساری دھینگا مشتی میں وہ بالکل بھول چکے ہیں کہ حقیقی کامیابی اور عظمت کا کوئی شارٹ کٹ نہیں ہوتا۔

ایک وہ بھی وقت تھا جب دن رات ایک کرکے میٹرک میں ٹاپ کرکے شہرت حاصل کی جاتی تھی۔ کوئی کھلاڑی ہو یا اداکار، مصنف ہو یا موٹیویشنل اسپیکر، خون پسینہ ایک کرکے نام اور پیسہ کمایا جاتا تھا اور آج کل بے ہودہ مذاق، واہیات ڈانس، بے حیائی اور انسانی رشتوں کا مذاق اڑا کر اور اپنے بزرگوں کی عزت نفس کو مجروح کرکے سستی شہرت اور پیسہ بنایا جارہا ہے۔

زندگی میں اگر ہمیشہ رہنے والی عزت اور مقام حاصل کرنا چاہتے ہیں تو پھر ایسے راستوں کا انتخاب کیجئے جن پر چل کر انسانیت کی تعمیر اور ترقی کا جذبہ اور شعور پیدا ہو۔ اس دنیا اور خاص کر ہمارے ملک کو آج بھی بہترین ڈاکٹرز، انجینئرز، سائنسدانوں اور دنیا کو بدلنے والے لیڈرز کی اشد ضرورت ہے۔ اس لیے عارضی مشہوری کے چکر میں پڑنے کے بجائے پائیدار اور تعمیری پیشے کو منتخب کرکے اپنی اور دوسروں کی زندگی میں بہتری لانے کی کوشش کیجئے اور فارغ وقت کو غیر پیداواری سرگرمیوں میں ضائع کرنے کے بجائے تخلیقی کاموں میں صرف کیجئے۔ یاد رکھیے! مخلوق خدا کی زندگیوں میں آسانیاں پیدا کرنے والے ہی اصلی ہیروز کہلاتے ہیں۔

نوٹ: ایکسپریس نیوز اور اس کی پالیسی کا اس بلاگر کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

اگر آپ بھی ہمارے لیے اردو بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو قلم اٹھائیے اور 500 سے 1,000 الفاظ پر مشتمل تحریر اپنی تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بک اور ٹوئٹر آئی ڈیز اور اپنے مختصر مگر جامع تعارف کے ساتھ [email protected] پر ای میل کردیجیے۔

حرا احمد

حرا احمد

مصنفہ نوجوان بلاگر اور افسانہ نگار ہیں۔ لکھنے اور پڑھنے کا شوق رکھتی ہیں۔ عوامی مسائل بالخصوص خواتین کے مسائل پر گہری نظر رکھتی ہیں۔ پنجاب یونیورسٹی سے ایم ایس سی کمپیوٹرسائنس میں فارغ التحصیل ہیں اور پیشے کے اعتبار سے ٹیچر اور موٹی ویشنل اسپیکر ہیں۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔