تخلیقی کام نہ ہونے کی وجہ سے ملک میں کوئی نیا گلوکار سامنے نہیں آرہا وارث بیگ

ری مکس کو برا نہیں سمجھتا لیکن اس میں بھی کچھ نیا پن ضرور ہونا چاہیے، وارث بیگ

آج کے دور میں ہر شخص راتوں رات مشہور ہونا چاہتا ہے، وارث بیگ فوٹو: فائل

پاکستانی گلوکار وارث بیگ کا کہنا ہے کہ موسیقی کے میدان میں تخلیقی کام نہ ہونے کی وجہ سے ملک میں کوئی نیا گلوکار سامنے نہیں آرہا۔

غیر ملکی ویب سائیٹ کو دیئے گئے انٹرویو میں وارث بئگ نے کہا کہ ان کے دور میں جو میوزک بنتا تھا اس کے سحر میں پوری قوم مبتلا تھی، ہم کہیں جاتے تو لوگ دیوانہ وار پیچھے آتے اور آٹوگراف لیتے، اس زمانے میں صرف پی ٹی وی ہوا کرتا تھا۔ اس پر جو بھی آتا وہ راتوں رات مشہور ہوجاتا۔ آج سوشل میڈیا کا دور بھی ہے اور متعدد ٹی وی چینلز بھی ہیں پھر بھی کسی گلوکار کو مشہور ہونے کے لیے بہت کچھ کرنا پڑتا ہے۔


وارث بیگ کا کہنا تھا کہ ایک گلوکار کے لیے ریاضت اتنی ہی ضروری ہے جتنا سانس لینا اور کھانا کھانا، آواز کی پختگی ریاضت کے بغیر ممکن نہیں، لیکن آج کے دور میں ہرشخص راتوں رات مشہور ہونا چاہتا ہے۔ انہوں نے اپنے بیٹے عمار بیگ کو بھی سمجھایا ہے کہ سوشل میڈیا پر لائکس بڑھانے کے بجائے ریاضت اور تخلیقی کام پر توجہ دیں گے تو ہی لوگ برسوں یاد رکھیں گے۔

وارث بیگ کا ماننا ہے کہ لوگوں کی رائے بالکل غلط ہے کہ مشہور فنکار کا بیٹا ہونے کی وجہ سے ان کے بچے جلد کامیاب ہوجاتے ہیں۔ درحقیقت فنکاروں کے بچوں کو اسی میدان میں نام بنانے کے لیے زیادہ محنت کرنا پڑتی ہے۔ اگر لوگوں کی یہ سوچ صحیح ہوتی تو برصغیر میں کشور کمار اور امیتابھ بچن سے بڑا کوئی فنکار نہیں لیکن ان کے بچے نام نہیں بنا سکے۔

ماضی کئے مقبول گانوں کو دوبارہ سے گانے سے متعلق وارث بیگ نے کہا کہ وہ ری مکس کو برا نہیں سمجھتے لیکن ری مکس میں بھی کچھ نیا پن ضرور ہونا چاہیے، تخلیقی کام نہ ہونے کی وجہ سے کوئی نیا گلوکار سامنے نہیں آرہا۔
Load Next Story