بنگلہ دیش میں بڑھتا ہوا سیاسی بحران
بنگلہ دیش میں حکمران جماعت عوامی لیگ اور سب سے بڑی اپوزیشن جماعت بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی...
بنگلا دیش کی حکومت پاکستان سے سفارتی تعلقات ختم کرے، مظاہرین کا مطالبہ فوٹو: رائٹرز
بنگلہ دیش میں حکمران جماعت عوامی لیگ اور سب سے بڑی اپوزیشن جماعت بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی (بی این پی) میں جاری سیاسی رسہ کشی کے باعث حالات خاصے خراب ہوگئے ہیں۔ 5جنوری 2014ء کو ہونے والے عام انتخابات کے خلاف بی این پی کی سربراہ خالدہ ضیا نے 29 دسمبر کو دارالحکومت ڈھاکا میں بڑے مارچ اور ملک گیر مظاہروں کی کال دی تھی جس کے بعد سیاسی تشدد کو روکنے اور حالات معمول پر لانے کے لیے ہزاروں فوجیوں کو تعینات کرنے کے علاوہ خالدہ ضیا کو ان کے گھر میں نظر بند کر دیا گیا ہے۔ خالدہ ضیا نے بنگلہ دیشی وزیر اعظم شیخ حسینہ واجد سے مطالبہ کیا تھا کہ وہ آیندہ سال پانچ جنوری کو ہونے والے انتخابات سے قبل اقتدار سے علیحدہ ہو جائیں اور غیر جانبدار نگران حکومت قائم کی جائے ورنہ وہ ان انتخابات کا بائیکاٹ کریں گی۔
شیخ حسینہ واجد اور خالدہ ضیا سیاسی میدان میں ایک دوسرے کی ایک عرصے سے حریف چلی آ رہی ہیں۔ شیخ حسینہ واجد' بنگلہ دیش کے بانی اور پہلے وزیر اعظم شیخ مجیب الرحمن کی بیٹی اور خالدہ ضیا جنرل ضیاء الرحمان کی بیوہ ہیں۔ شیخ حسینہ واجد نظریاتی طور پر پاکستان مخالف اور خالدہ ضیا پاکستان حمایت کے جذبات رکھتی ہیں۔ شیخ حسینہ واجد نے مذہبی جماعتوں کا سیاسی اثر ختم کرنے کی ہر ممکن کوشش کی ہے جس میں وہ اس حد تک آگے بڑھیں کہ جماعت اسلامی کے رہنما عبدالقادر ملا کو 1971ء میں پاکستان کی حمایت کرنے اور جنگی جرائم کا مرتکب قرار دے کر پھانسی دے دی ہے۔ اس وقت بنگلہ دیش میں دائیں بازو اور بائیں بازو کی جماعتیں دونوں بڑی قوت ہیں ان کے آپسی ٹکراؤ سے پورے ملک میں افراتفری پھیل جاتی ہے۔ خالدہ ضیا بھی ملک کی وزیر اعظم رہ چکی ہیں اس وقت جماعت اسلامی سمیت دیگر مذہبی جماعتیں ان کی حمایت کر رہی ہیں۔ بنگلہ دیش میں نگران حکومتیں انتخابات کی نگرانی کرتی رہی ہیں لیکن 2011ء میں حسینہ واجد کی حکومت نے ان انتظامات کو ختم کر دیا تھا۔
جمہوری نظام کے تسلسل کا تقاضا ہے کہ حکومت ملک میں سیاسی استحکام کے لیے حزب مخالف کی تنقید کو برداشت کرے اور اس کے مطالبات کو یکسر نظر انداز نہ کرے اور نہ اسے دبانے کے لیے اوچھے ہتھکنڈے استعمال کرے ورنہ دوسری صورت میں ملک میں عدم سیاسی استحکام پیدا ہونا بعید از قیاس نہیں۔ اس وقت حسینہ واجد کی حکومت نے خالدہ ضیا کو نظر بند کر رکھا ہے اور خالدہ ضیا نے اس خدشہ کے پیش نظر کہ حکومت انتخابات میں دھاندلی کرے گی' نگران حکومت تشکیل دینے اور انتخابات کے بائیکاٹ کا اعلان کر دیا ہے۔
اگر خالدہ ضیا انتخابات کا بائیکاٹ جاری رکھتی ہیں تو اس بات کا امکان ہے کہ حسینہ واجد کے لیے میدان صاف ہو گا اور وہ انتخابات پھر سے جیت جائیں گی۔ حسینہ واجد کے دوبارہ وزیر اعظم بننے کی صورت میں بی این پی اور مذہبی جماعتوں کے خلاف حکومتی کارروائیوں میں شدت آ سکتی ہے اور ردعمل میں دائیں بازو کی جماعتوں کے احتجاج اور ہڑتالوں کے باعث مستقبل قریب میں بنگلہ دیش کے سیاسی حالات خراب ہو سکتے ہیں۔ عوامی سطح پر پھیلی اس بے چینی کو ختم کرنے کے لیے حسینہ واجد حکومت کو تحمل کا مظاہرہ کرنا چاہیے ورنہ سخت اقدامات کی بدولت انھیں شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑے گا جس کا نقصان بنگلہ دیش کے سیاسی اور معاشی استحکام ہی کو پہنچے گا۔
شیخ حسینہ واجد اور خالدہ ضیا سیاسی میدان میں ایک دوسرے کی ایک عرصے سے حریف چلی آ رہی ہیں۔ شیخ حسینہ واجد' بنگلہ دیش کے بانی اور پہلے وزیر اعظم شیخ مجیب الرحمن کی بیٹی اور خالدہ ضیا جنرل ضیاء الرحمان کی بیوہ ہیں۔ شیخ حسینہ واجد نظریاتی طور پر پاکستان مخالف اور خالدہ ضیا پاکستان حمایت کے جذبات رکھتی ہیں۔ شیخ حسینہ واجد نے مذہبی جماعتوں کا سیاسی اثر ختم کرنے کی ہر ممکن کوشش کی ہے جس میں وہ اس حد تک آگے بڑھیں کہ جماعت اسلامی کے رہنما عبدالقادر ملا کو 1971ء میں پاکستان کی حمایت کرنے اور جنگی جرائم کا مرتکب قرار دے کر پھانسی دے دی ہے۔ اس وقت بنگلہ دیش میں دائیں بازو اور بائیں بازو کی جماعتیں دونوں بڑی قوت ہیں ان کے آپسی ٹکراؤ سے پورے ملک میں افراتفری پھیل جاتی ہے۔ خالدہ ضیا بھی ملک کی وزیر اعظم رہ چکی ہیں اس وقت جماعت اسلامی سمیت دیگر مذہبی جماعتیں ان کی حمایت کر رہی ہیں۔ بنگلہ دیش میں نگران حکومتیں انتخابات کی نگرانی کرتی رہی ہیں لیکن 2011ء میں حسینہ واجد کی حکومت نے ان انتظامات کو ختم کر دیا تھا۔
جمہوری نظام کے تسلسل کا تقاضا ہے کہ حکومت ملک میں سیاسی استحکام کے لیے حزب مخالف کی تنقید کو برداشت کرے اور اس کے مطالبات کو یکسر نظر انداز نہ کرے اور نہ اسے دبانے کے لیے اوچھے ہتھکنڈے استعمال کرے ورنہ دوسری صورت میں ملک میں عدم سیاسی استحکام پیدا ہونا بعید از قیاس نہیں۔ اس وقت حسینہ واجد کی حکومت نے خالدہ ضیا کو نظر بند کر رکھا ہے اور خالدہ ضیا نے اس خدشہ کے پیش نظر کہ حکومت انتخابات میں دھاندلی کرے گی' نگران حکومت تشکیل دینے اور انتخابات کے بائیکاٹ کا اعلان کر دیا ہے۔
اگر خالدہ ضیا انتخابات کا بائیکاٹ جاری رکھتی ہیں تو اس بات کا امکان ہے کہ حسینہ واجد کے لیے میدان صاف ہو گا اور وہ انتخابات پھر سے جیت جائیں گی۔ حسینہ واجد کے دوبارہ وزیر اعظم بننے کی صورت میں بی این پی اور مذہبی جماعتوں کے خلاف حکومتی کارروائیوں میں شدت آ سکتی ہے اور ردعمل میں دائیں بازو کی جماعتوں کے احتجاج اور ہڑتالوں کے باعث مستقبل قریب میں بنگلہ دیش کے سیاسی حالات خراب ہو سکتے ہیں۔ عوامی سطح پر پھیلی اس بے چینی کو ختم کرنے کے لیے حسینہ واجد حکومت کو تحمل کا مظاہرہ کرنا چاہیے ورنہ سخت اقدامات کی بدولت انھیں شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑے گا جس کا نقصان بنگلہ دیش کے سیاسی اور معاشی استحکام ہی کو پہنچے گا۔