پاکستان کے پہلے ’ہیموفیلیا‘ سیںٹر کا باقاعدہ آغاز ہوگیا
پاکستان میں ہیموفیلیا کے 22 ہزار سے زائد مریض ہیں جن کے لیے یہ سینٹرانتہائی معاون ثابت ہوگا
پاکستان میں نجی شعبے کی جانب سے قائم پہلے ہیموفیلیا سینٹر کا آغاز کردیا گیا ہے۔ فوٹو: فائل
پاکستان کے پہلے ہیموفیلیا سینٹر کا افتتاح ہیموفیلیا ویلفیئر سوسائٹی کراچی کی جانب سے کردیا گیا ہے۔
ہیموفیلیا سینٹر کے افتتاح کی سادہ مگر پروقار تقریب کا انعقاد ناظم آباد ڈرائیونگ لائسنس برانچ کے قریب واقع عمارت میں کیا گیا۔ انڈس اسپتال کے چیف ایگزیکٹو آفیسر ڈاکٹر عبدالباری خان، ڈائریکٹر سندھ بلڈ ٹرانسفیوژن اتھارٹی ڈاکٹردرِناز، صدر ہیموفیلیا ویلفیئر سوسائٹی کراچی راحیل احمد اور دیگر مہمانوں نے فیتہ کاٹ کر ہیموفیلیا سینٹر کا افتتاح کیا۔
اس موقع پر انڈس اسپتال کی ماہر امراض خون ڈاکٹر صبا جمال، حسینی بلڈ بینک کے چیف ایگزیکٹو آفیسر اسد علی، ڈاکٹر منیرا برہانی، ڈاکٹر سرفراز جعفری، فاطمید فاونڈیشن کی میڈیکل ڈائریکٹر ماہر امراض خون ڈاکٹر شبنیز حسین، جنرل سیکریٹری ہیموفیلیا ویلفیئر سوسائٹی کراچی فخر عالم زیدی، خزانچی شاہد داؤد، انیس الرحمان، عتیق الرحمان سمیت دیگر شعہ بائے زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد اور مریضوں کے ہمراہ والدین کی بڑی تعداد موجود تھی۔
ہیموفیلیا ویلفیئر سوسائٹی وہ واحد ادارہ ہے جو اس بیماری میں مبتلا افراد اور ان کے والدین پر مشتمل ہے جو گزشتہ 20 سالوں سے اپنی مدد آپ کے تحت مریضوں کی خدمت کر رہی ہے۔ اس موقع پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انڈس اسپتال کے سی ای او ڈاکٹرعبدالباری خان کا کہنا تھا کہ ہیموفیلیا سینٹر کی انتظامیہ مبارکباد کی مستحق ہے جنھوں نے اس مہلک مرض میں مبتلا مریضوں کی زندگیوں کو بچانے کےلیے یہ سینٹر قائم کیا۔ ڈاکٹرعبدالباری نے کہاکہ پاکستان میں ہیموفیلیا کے مریضوں کے لیے سرکاری سطح پر کوئی ادارہ موجود نہیں اورہیمو فیلیا ویلفیئر سوسائٹی کراچی کے قائم کردہ اس سینٹر میں نہ صرف کراچی بلکہ پورے صوبے سے اس مرض میں مبتلا مریضوں کا مفت علاج ہوگا۔
اس موقع پر انھوں نے انڈس اسپتال کی جانب سے بھی ممکنہ تعاون کی یقین دہانی کرائی۔ ہیمو فیلیا ویلفیئر سوسائٹی کے بانی ممبر و صدر راحیل احمد کا کہنا تھا کہ پاکستان میں ہیموفیلیا کے رجسٹرڈ مریضوں کی تعداد تقریبا 22 ہزار ہے لیکن اس بیماری کے علاج کےلیے پاکستان میں سرکاری سطح پر کوئی اسپتال قائم نہیں کیا گیا۔ اس ادارے کے توسط سے انہوں نے سندھ سے 735 مریضوں کی رجسٹریشن کی ہے، جنہیں اس سینٹر میں مفت علاج کی سہولیات میسر ہوں گی۔
ان کا کہنا تھاکہ ہیموفیلیا کا علاج کافی مہنگا ہے۔ اس مرض میں استعمال ہونےوالا انجیکش پاکستان میں نہ تو تیار کیا جاتا ہے اور نہ ہی ہر جگہ میسر ہے، وہ حکومت سے مطالبہ کرتے ہیں کہ دیگر امراض کی طرح ہیموفیلیا کے مریضوں کے لیے بھی سرکاری سطح پر علاج کی سہولت فراہم کی جائے۔ ان کا کہنا تھاکہ اس بیماری میں مبتلا مریض کے علاج کے لیے ایک ماہ میں ہونے والے اخراجات دولاکھ روپے سے زائد ہوتے ہیں جو ادارہ برداشت کرتا ہے۔
ایک محتاط اندازے کے مطابق پاکستان میں ہیموفیلیا کے رجسٹرڈ مریضوں کی تعداد تقریباً 22ہزار ہے، جس میں صرف سندھ میں چھ ہزار مریض موجود ہیں۔ ڈائریکٹر سندھ بلڈ ٹرانسفیوژن اتھارٹی ڈاکٹر درِناز نے بتایا کہ محکمہ صحت سندھ ہیموفیلیا کے مریضوں کو سہولیات فراہم کرنے کے لیے منصوبے پر کام کر رہی ہے۔ بیماری کے بارے میں آگاہی بھی پیدا کی جائے گی۔ اس موقع پر مہمانوں اور بہترین خدمات انجام دینے والے ٹیم ممبرز کو تعریفی اسناد اور شیلڈز بھی تقسیم کی گئیں۔
ہیموفیلیا سینٹر کے افتتاح کی سادہ مگر پروقار تقریب کا انعقاد ناظم آباد ڈرائیونگ لائسنس برانچ کے قریب واقع عمارت میں کیا گیا۔ انڈس اسپتال کے چیف ایگزیکٹو آفیسر ڈاکٹر عبدالباری خان، ڈائریکٹر سندھ بلڈ ٹرانسفیوژن اتھارٹی ڈاکٹردرِناز، صدر ہیموفیلیا ویلفیئر سوسائٹی کراچی راحیل احمد اور دیگر مہمانوں نے فیتہ کاٹ کر ہیموفیلیا سینٹر کا افتتاح کیا۔
اس موقع پر انڈس اسپتال کی ماہر امراض خون ڈاکٹر صبا جمال، حسینی بلڈ بینک کے چیف ایگزیکٹو آفیسر اسد علی، ڈاکٹر منیرا برہانی، ڈاکٹر سرفراز جعفری، فاطمید فاونڈیشن کی میڈیکل ڈائریکٹر ماہر امراض خون ڈاکٹر شبنیز حسین، جنرل سیکریٹری ہیموفیلیا ویلفیئر سوسائٹی کراچی فخر عالم زیدی، خزانچی شاہد داؤد، انیس الرحمان، عتیق الرحمان سمیت دیگر شعہ بائے زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد اور مریضوں کے ہمراہ والدین کی بڑی تعداد موجود تھی۔
ہیموفیلیا ویلفیئر سوسائٹی وہ واحد ادارہ ہے جو اس بیماری میں مبتلا افراد اور ان کے والدین پر مشتمل ہے جو گزشتہ 20 سالوں سے اپنی مدد آپ کے تحت مریضوں کی خدمت کر رہی ہے۔ اس موقع پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انڈس اسپتال کے سی ای او ڈاکٹرعبدالباری خان کا کہنا تھا کہ ہیموفیلیا سینٹر کی انتظامیہ مبارکباد کی مستحق ہے جنھوں نے اس مہلک مرض میں مبتلا مریضوں کی زندگیوں کو بچانے کےلیے یہ سینٹر قائم کیا۔ ڈاکٹرعبدالباری نے کہاکہ پاکستان میں ہیموفیلیا کے مریضوں کے لیے سرکاری سطح پر کوئی ادارہ موجود نہیں اورہیمو فیلیا ویلفیئر سوسائٹی کراچی کے قائم کردہ اس سینٹر میں نہ صرف کراچی بلکہ پورے صوبے سے اس مرض میں مبتلا مریضوں کا مفت علاج ہوگا۔
اس موقع پر انھوں نے انڈس اسپتال کی جانب سے بھی ممکنہ تعاون کی یقین دہانی کرائی۔ ہیمو فیلیا ویلفیئر سوسائٹی کے بانی ممبر و صدر راحیل احمد کا کہنا تھا کہ پاکستان میں ہیموفیلیا کے رجسٹرڈ مریضوں کی تعداد تقریبا 22 ہزار ہے لیکن اس بیماری کے علاج کےلیے پاکستان میں سرکاری سطح پر کوئی اسپتال قائم نہیں کیا گیا۔ اس ادارے کے توسط سے انہوں نے سندھ سے 735 مریضوں کی رجسٹریشن کی ہے، جنہیں اس سینٹر میں مفت علاج کی سہولیات میسر ہوں گی۔
ان کا کہنا تھاکہ ہیموفیلیا کا علاج کافی مہنگا ہے۔ اس مرض میں استعمال ہونےوالا انجیکش پاکستان میں نہ تو تیار کیا جاتا ہے اور نہ ہی ہر جگہ میسر ہے، وہ حکومت سے مطالبہ کرتے ہیں کہ دیگر امراض کی طرح ہیموفیلیا کے مریضوں کے لیے بھی سرکاری سطح پر علاج کی سہولت فراہم کی جائے۔ ان کا کہنا تھاکہ اس بیماری میں مبتلا مریض کے علاج کے لیے ایک ماہ میں ہونے والے اخراجات دولاکھ روپے سے زائد ہوتے ہیں جو ادارہ برداشت کرتا ہے۔
ایک محتاط اندازے کے مطابق پاکستان میں ہیموفیلیا کے رجسٹرڈ مریضوں کی تعداد تقریباً 22ہزار ہے، جس میں صرف سندھ میں چھ ہزار مریض موجود ہیں۔ ڈائریکٹر سندھ بلڈ ٹرانسفیوژن اتھارٹی ڈاکٹر درِناز نے بتایا کہ محکمہ صحت سندھ ہیموفیلیا کے مریضوں کو سہولیات فراہم کرنے کے لیے منصوبے پر کام کر رہی ہے۔ بیماری کے بارے میں آگاہی بھی پیدا کی جائے گی۔ اس موقع پر مہمانوں اور بہترین خدمات انجام دینے والے ٹیم ممبرز کو تعریفی اسناد اور شیلڈز بھی تقسیم کی گئیں۔