کورونا لاک ڈاؤن میں کیلے کو کینوس بنانے والی مصورہ
سوشل اینٹریپرینیور ہونے کی وجہ سے وہ کوشش کرتی ہیں کہ ان کے ہر فن پارے میں کوئی نہ کوئی مثبت پیغام موجود ہو
بظاہر یہ تصویریں دیکھ کر ایسا لگتا ہے کہ مصوری کےلیے کوئی روشنائی استعمال کی گئی ہے لیکن ایسا ہر گز نہیں۔ (تصاویر بحوالہ اینا کونیکا: ٹوئٹر/ انسٹاگرام)
برطانیہ کی اینا کونیکا ویسے تو ایک سوشل اینٹریپرینیور کے طور پر پہچانی جاتی ہیں لیکن برطانیہ سمیت پوری دنیا میں لاک ڈاؤن کے باعث انہیں مجبوراً گھر بیٹھنا پڑا۔ اپنی فراغت سے فائدہ اٹھا کر انہوں نے کچھ نیا اور منفرد کرنے کا سوچا اور اسی خیال کے تحت انہوں نے سالم کیلے پر تصویریں بنانا شروع کردیں۔
بظاہر یہ تصویریں دیکھ کر ایسا لگتا ہے کہ مصوری کےلیے کوئی روشنائی استعمال کی گئی ہے لیکن ایسا ہر گز نہیں۔
اس کے برعکس، اینا کونیکا کہتی ہیں کہ وہ ایک باریک سوئی کی مدد سے کیلے کی کھال بہت احتیاط سے اس طرح ادھیڑتی ہیں کہ اندرونی حصہ ظاہر ہوجائے۔
پھر وہ اسے کچھ وقت کےلیے کھلی فضا میں رکھ دیتی ہیں جس کی وجہ سے کھلا ہوا اندرونی حصہ تیزی سے گہری رنگت اختیار کرلیتا ہے جبکہ وہ حصہ جس کی کھال سلامت ہوتی ہے، اپنی اصل رنگت برقرار رکھتا ہے۔
اس طرح کیلے کے چھلکے پر انتہائی خوبصورت نقش و نگار اُبھر آتے ہیں۔
سوشل اینٹریپرینیور ہونے کی وجہ سے وہ کوشش کرتی ہیں کہ ان کے ہر فن پارے میں کوئی نہ کوئی مثبت پیغام موجود ہو۔
بظاہر یہ تصویریں دیکھ کر ایسا لگتا ہے کہ مصوری کےلیے کوئی روشنائی استعمال کی گئی ہے لیکن ایسا ہر گز نہیں۔
اس کے برعکس، اینا کونیکا کہتی ہیں کہ وہ ایک باریک سوئی کی مدد سے کیلے کی کھال بہت احتیاط سے اس طرح ادھیڑتی ہیں کہ اندرونی حصہ ظاہر ہوجائے۔
پھر وہ اسے کچھ وقت کےلیے کھلی فضا میں رکھ دیتی ہیں جس کی وجہ سے کھلا ہوا اندرونی حصہ تیزی سے گہری رنگت اختیار کرلیتا ہے جبکہ وہ حصہ جس کی کھال سلامت ہوتی ہے، اپنی اصل رنگت برقرار رکھتا ہے۔
اس طرح کیلے کے چھلکے پر انتہائی خوبصورت نقش و نگار اُبھر آتے ہیں۔
سوشل اینٹریپرینیور ہونے کی وجہ سے وہ کوشش کرتی ہیں کہ ان کے ہر فن پارے میں کوئی نہ کوئی مثبت پیغام موجود ہو۔