سرکارکا پروپیگنڈا اور حقیقت

آپ نے کبھی کسی ایسے آدمی کو دیکھا ہے جو مکمل طور پر ’’کلین شیو‘‘ ہو اور مسلسل اپنی مونچھوں کو تاؤ دے رہا ہو۔۔۔

barq@email.com

آپ نے کبھی کسی ایسے آدمی کو دیکھا ہے جو مکمل طور پر ''کلین شیو'' ہو اور مسلسل اپنی مونچھوں کو تاؤ دے رہا ہو حالانکہ ان کے ہونٹوں پر ایک بال بھی نہیں ہوتا لیکن ہم نے دیکھا ہے بلکہ اس کے ہونٹ پر ہاتھ پھیرکر تسلی کی ہے کہ کہیں اس کی ناک کے نیچے ایسی مونچھیں نہ ہوں جو ہمیں دکھائی نہیں دے رہی ہوں، یہ مونچھیں ندارد لوگ جو اپنی خیالی مونچھوں پر تاؤ دیتے رہتے ہیں، حکومت کے محکمے ہیں چاہے وہ وفاقی حکومتیں ہوں یا صوبائی، وہ ندارد مونچھیں اور ان پر تاؤ وہ بڑے بڑے اشتہارات ہوتے جن میں حکومتی اداروں کی کارکردگی بیان کی گئی ہوتی ہیں اور لوگ سمجھتے ہیں کہ حکومت کے یہ ادارے اور محکمے تو واقعی بہت سرگرم اور گرم سر بلکہ گرم مونچھ ہیں، ویسے تو ان کو ہاتھی کے دانت بھی کہا جا سکتا ہے لیکن ہاتھی کے دکھائی دینے والے دانت بھی کام کے ہوتے ہیں اور نہ دکھائی دینے والے دانت بھی کارآمد ہوتے ہیں، جب کہ ندارد مونچھوں پر تاؤ دینے والے ان اداروں کی مونچھیں نہ دکھائی دیتی ہیں نہ سنائی دیتی ہیں، صرف خیال ہی خیال میں ان پر ''تاؤ'' دیا جاتا ہے یعنی

دیوانگی میں دوش پہ زنار بھی نہیں
یعنی ہماری جیب میں اک تار بھی نہیں

اور یہ ہم کوئی سنی سنائی بات نہیں کہہ رہے ہیں بلکہ ایسی مونچھوں کے ہم خود بھی ڈسے ہوئے ہیں، سچ سمجھ کر ہم ان کے پیچھے جاتے ہیں لیکن وہاں پہنچ کر پتہ چلتا ہے کہ ریوڑیاں تو بہت پہلے بانٹی جا چکی ہیں ، ویسے تو حکومت کے سارے محکمے ادارے اور وزیر لوگ،

ہیں کواکب کچھ نظر آتے ہیں کچھ

دیتے ہیں دھوکا یہ بازی گر کھلا

لیکن تازہ ترین کہانی یہ ہے کہ چند روز پہلے نہایت خوب صورت الفاظ کے سہارے یہ مژدہ سنایا گیا ہے کہ حکومت کو ملک میں جانوروں کی افزائش کی بڑی فکر ہے اور ملک میں دودھ کے دریا اور گوشت کے پہاڑ بنانے کے لیے ایک پراجیکٹ شروع کیا گیا ہے جس میں مویشی پالنے والوں کو بہت ساری سہولتیں دینے کا اعلان کیا گیا ہے، لیکن آپ کو یہ یاد نہیں ہو گا ۔سال بھر پہلے تقریباً ان ہی دنوں میں ایسی ہی باتیں کہی گئی تھیں'اس کے دام میں پھنس کر بہت سارے لوگوں نے اپنے آپ کو خوار کیا ہے، ان ہی میں سے ایک ہم بھی ہیں یعنی یہ کوئی سنی سنائی بات نہیں ہے بلکہ آپ بیتی ہے، ہمیں پہلے بھی احساس تھا کہ ملک میں جانوروں کو بری طرح کاٹا کھایا اور ختم کیا جارہا ہے چونکہ تھوڑی سی زمین بھی تھی، اس لیے ہمیں اشتہار اچھا لگا بلکہ حکومت پر بڑا پیار بھی آیا کہ باوجود تباہ کاری کے کچھ نہ کچھ کام کا کام بھی کرتی ہے، اسی لیے ہم نے اس اعلان پر لبیک کہا اور مویشی پالنا شروع کر دیے۔ جانور خرید لیے، برآمدے تعمیر کیے، ملازم رکھے، چارے کا بندوبست کیا، پراجیکٹ سے متعلق لوگوں کو ڈھونڈنے لگے ،آخر تلاش بسیار کے بعد ایک کونے کھدرے میں مل گئے، فارم بھرے گئے اور کام شروع ہو گیا ۔گوشت کی خاطر پالے جانے والے مویشیوں کے لیے کہا گیا تھا کہ چارہ کترنے والی مشین، استعمال کے کچھ اور اوزار دیے جائیں گے اور تین مہینے پورے ہونے پر فی جانور پانچ سو روپے ماہانہ چارہ الاؤنس دیا جائے گا، الاؤنس کے بارے میں تو یہ بات سمجھ میں آتی ہے کہ ایک سہ ماہی پوری ہونے کے بعد دیا جائے گا چونکہ نقد کا معاملہ ہے، اس لیے ایک لمبے پروسیجر اور ایک لاکھ ایک ہزار ایک سو افسران عالیشان کے دستخط اور منظوریاں ہوں گی لیکن چارہ کترنے والی مشین اور دوسرے اوزار بھی ''دستخط'' اور منظوری سے باندھے گئے تھے، لیکن پورا سال بیت گیا نہ چارے کی مشین ملی نہ کوئی بالٹی برتن یا ہتھ گاڑی ۔۔۔ کیونکہ ابھی فائل منظورنہیں ہوئی ۔

اس سلسلے میں جب بھی یاد دہانی کرائی تو یہی جواب ملا فائل منظوری کے لیے اوپر پہنچا دی گئی ہے' جلد یہ کام ہو جائے گا لیکن یہ کام ابھی تک نہیں ہو سکا۔

اتنا تو ہم سب کو پتہ ہے کہ اس قسم کے پراجیکٹس کے لیے ''رقومات'' کہیں اور سے آتی ہیں کیونکہ پاکستان کے محکمے تو اللہ ماشاء اللہ صرف وزیروں، منتخب نمائندوں اور افسروں کو ''پالنے'' سے فارغ نہیں ہیں، ان سے ''کام'' کے لیے کسی فنڈ کا بچ نکلنا ایسا ہے جیسے بلی کے منہ سے چھیچھڑا اور ہاتھی کے منہ سے گنا چھینا جائے، لیکن باہر سے آئی ہوئی ''رقومات'' بھی تو اسی راستے سے آتی ہیں جن کے ہر موڑ پر رہزن بیٹھے ہوئے ہیں، ان سے کسی فنڈ کا گزر کر عوام تک پہنچنا ناممکن، امپاسیبل، اسمبھؤ ہے ، کسی باہر کے ملک سے امداد اور فنڈز تو آجاتے ہیں لیکن اسے عوام تک پہنچنے کے لیے پاکستانی افسر شاہی کے ہفت خوان سے گزرنا پڑتا ہے اور اس ہفت خوان کو صرف رستم پہلوان ہی سر کر سکتا ہے، ایک دنیا کو معلوم ہے کہ زلزلے سیلاب مہاجرین اور اے ڈی پیز کے لیے جو کچھ آیا تھا وہ ابھی تک ان کے جبڑوں میں پھنسا ہوا ہے، سیلاب زلزلے اور دوسری آفات کے مارے ہوئے تو بس گئے بحال ہوئے لیکن سرکاری افسر شاہی کے مارے ہوئے ابھی تک تڑپ رہے ہیں، دنیا میں غذائی قلت دور کرنے کے لیے باہر کے ممالک طرح طرح کے منصوبے چلا رہے ہیں اور خاص طور پر زراعت اور لائیو اسٹاک کی ترقی کے لیے تو بے پناہ فنڈز آرہے ہیں، بے شمار این جی اوز کام کر رہی ہیں لیکن خوراک اور غذا پیدا کرنے والے کاشت کار اور مویشی پال تک آتے آتے برف کا تودہ پانی کی چند بوندوں میں تبدیل ہو جاتا ہے ۔۔۔ کیوں کہ

ہر شاخ پر الو بیٹھا ہے
انجام گلستاں کیا ہو گا
Load Next Story