پاکستانی شکاری ٹائیگرز کو قابو کرنے کی ترکیبیں سوچنے لگے

پہلا ٹیسٹ آج ابوظبی میں شروع ہوگا، مضبوط سری لنکن بیٹنگ لائن کو کیسے اڑایا جائے مینجمنٹ سرجوڑکر بیٹھ گئی

ابوظبی:پاکستانی کپتان مصباح الحق سری لنکن ہم منصب انجیلو میتھوزکے ساتھ ٹرافی تھامے پوز دے رہے ہیں،فوٹو : اے ایف پی

پاکستانی شکاری ٹائیگرزکو قابو کرنے کی ترکیبیں سوچنے لگے، پہلا ٹیسٹ منگل سے ابوظبی میں شروع ہوگا، مضبوط سری لنکن بیٹنگ پر کیسے قابو پایا جائے مینجمنٹ سر جوڑ کر بیٹھ گئی،اہم ستونوں سنگاکارا اور مہیلا جے وردنے کو نشانہ بنایا جائے گا۔

آئی لینڈرز کے ناتجربہ کار مڈل آرڈرکیلیے پاکستانی اٹیک کا سامناکسی چیلنج سے کم نہیں ہے، سعید اجمل ایک بار پھر امیدوں کا محور ہوں گے، ساتھ دینے کیلیے عبدالرحمان کو میدان میں اتارا جاسکتا ہے، پیس ڈپارٹمنٹ جنید خان اور عمرگل پر مشتمل ہوگا، راحت علی اور محمد طلحہٰ کا آپشن بھی موجود ہے۔ بیٹنگ میں حفیظ کیلیے اظہر علی کوباہر بیٹھنا پڑے گا، کپتان مصباح الحق نے کہا ٹاپ سائیڈ سری لنکا کوکمزور سمجھنا سنگین غلطی ثابت ہوسکتی ہے، ہمیں پوری قوت سے مقابلہ کرنا ہوگا، دوسری جانب مہیلا جے وردنے اور رنگانا ہیراتھ کی آمد سے سری لنکا کے حوصلے مزید بلند ہوگئے، کپتان انجیلو میتھیوزنے کہاکہ ہم نے سعید اجمل سے نمٹنے کی منصوبہ بندی کرلی۔

ہمارے پاس ایسے کھلاڑی موجود ہیں جو انھیں آسانی سے وکٹیں نہیں لینے دیں گے۔ تفصیلات کے مطابق ٹوئنٹی20 اور ون ڈے کے بعد اب پاک سری لنکن ٹیمیں ٹیسٹ فارمیٹ میں دودو ہاتھ کرنے کیلیے تیار ہیں، اب تک سیریزکے7 میں سے پانچ میچز کانٹنے دار ثابت ہوئے،اگرچہ آئی لینڈرز ون ڈے سیریز ہارے مگر آخری میچ میں کامیابی اور مہیلا جے وردنے و رنگانا ہیراتھ کی واپسی سے حوصلے کافی بلند ہوچکے ہیں،ٹیم نے مارچ میں بنگلہ دیش سے سیریز کے بعد سے ٹیسٹ کرکٹ نہیں کھیلی اور نہ ہی طویل طرز کے میچز کی زیادہ پریکٹس کی۔ دوسری جانب پاکستان نے حال ہی میں یو اے ای میں ہی جنوبی افریقہ کے خلاف ٹیسٹ سیریز ڈرا کی، اگرچہ اسے محمد عرفان کا ساتھ حاصل نہیں مگر جنید خان اور عمرگل حریف سائیڈ کے ناتجربہ کار مڈل آرڈر کے حوصلے آزمانے کیلیے موجود ہوں گے۔




ان کے مقابلے میں سری لنکا کے اٹیک میں موجود سورنگا لکمل نے کسی بھی میچ میں 4 سے زائد وکٹیں نہیں لیں،ان کی ایوریج 65.75 ہے جبکہ شمندا ایرنگا گذشتہ 2 ماہ سے صرف ڈومیسٹک کرکٹ میں بہتر پرفارم کرپائے ہیں، ٹیم کو زیادہ امیدیں ٹاپ آرڈر سے ہیں،کمارسنگاکارا کی پاکستان کیخلاف31 اننگز میں اوسط89.23 ہے، یو اے ای میں اپنی آخری 6 اننگز میں انھوں نے ایک ڈبل سنچری، ایک سنچری اور 2 ففٹیز اسکور کیں، دوسری جانب مہیلا جے وردنے کی ایوریج 50 کے قریب ہے۔ اصل مقابلہ اسپنرزسعید اجمل اور رنگانا ہیراتھ کے درمیان ہوگا، دونوں ہی اپنی ٹیموں کی کامیابیوں میں اہم کردار ادا کرچکے ہیں، اب یہ بیٹسمینوں پر منحصر ہوگا کہ وہ ان کے خلاف کتنی مہارت دکھاتے ہیں۔ پاکستانی ٹیسٹ ٹیم میں حفیظ کی واپسی سے ٹاپ آرڈر کی صورتحال پیچیدہ ہوگئی، ان کے لیے اظہر علی کو باہر بیٹھنا پڑے گا۔ سعید اجمل، عمر گل اور جنید خان کا ساتھ دینے کیلیے دوسرے اسپنر عبدالرحمان کو میدان میں اتارے جانے کا امکان ہے، وکٹ پر گھاس موجود تاہم کپتان مصباح الحق کا خیال ہے کہ جلد ہی یہ سلوہونا شروع ہوجائے گی،البتہ میتھیوز ان سے اتفاق نہیں کرتے، انھوں نے کہا کہ پچ میں پیس موجود رہے گا۔

مصباح نے کہاکہ ہم کافی پُراعتماد ہیں لیکن اس کے باوجود سری لنکا کوکمزور سمجھنے کی غلطی نہیں کرسکتے، ہمیں میدان میں ان کا ڈٹ کر سامنا کرناہوگا، ہمارے بولرز ٹاپ سائیڈ سے نمٹنے کا چیلنج قبول کرنے کیلیے تیار اور مجھے ان پر پورا بھروسہ ہے۔ دوسری جانب سری لنکا ہیراتھ کے ساتھ دوسرے اسپنر کے طورپر سچترا سینانائیکے کو بیٹنگ صلاحیتوں کی وجہ سے کھلا سکتا ہے، دلروان پریرا بھی امیدواروں میں شامل ہیں۔ کپتان میتھیوز نے کہاکہ ہم نے سعید اجمل کے بارے میں کافی بحث کی اور ان کے خلاف پلاننگ مکمل کرلی ہے، ہمارے پاس اسپن بولنگ کو عمدگی سے کھیلنے والے کھلاڑی موجود ہیں جو وکٹیں دینے کے بجائے زیادہ رنز بنانے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔
Load Next Story