جنوبی افریقا کی فوج میں مسلمان خاتون اہلکاروں کو حجاب کی اجازت

میجر فاطمہ اسحاق کو قانونی جنگ میں فتح نصیب ہوئی

میجر فاطمہ نے سینیئر افسر کے حجاب اتارنے کا حکم ماننے سے انکار کردیا تھا، فوٹو : فائل

KARACHI:
جنوبی افریقا کی فوج میں شامل مسلمان خاتون اہلکاروں کو حجاب کی اجازت دیدی گئی ہے۔

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق جنوبی افریقا کی فوج کی وردی سے متعلق پالیسی میں تبدیلی کی گئی ہے جس کے تحت اب مسلمان خاتون اہلکاروں کو بال ڈھانپنے کے لیے اسکارف پہننے کی اجازت ہوگی۔

جنوبی افریقا کی فوج کے ترجمان کا کہنا ہے کہ دوران ڈیوٹی مسلم خواتین کو سر ڈھانپنے کی اجازت دینے کے لیے وردی سے متعلق پالیسی میں ترمیم کردی گئی ہے۔ علاوہ ازیں حجاب پہننے والی میجر فاطمہ اسحاق کیخلاف الزامات کو بھی واپس لے لیا گیا ہے۔


یہ معاملہ 3 سال قبل شروع ہوا تھا جب میجر فاطمہ اسحاق کو سینیئر افسر نے حجاب اتارنے کا حکم دیا تھا اور انکار پر میجر فاطمہ کیخلاف عدالتی کارروائی شروع ہوئی تھی تاہم پچھلے برس جنوری میں فوجی عدالت نے مقدمہ ختم کردیا تھا۔

کیپ ٹاؤن کے قریب کیسل آف گڈ ہوپ کی فوجی عدالت نے اپنے فیصلے میں فوجی ڈریس کوڈ کے برخلاف میجر فاطمہ اسحاق کو بنیادی حقوق کی فراہمی کے تحت سیاہ حجاب لینے کی خصوصی استثنیٰ دیدی تھی۔

عدالتی فیصلے کے باوجود جنوبی افریقا کی فوج نے اپنی لباس کی پالیسی میں کوئی تبدیلی نہیں کی تھی جس پر میجر فاطمہ اسحاق نے مذہبی لباس پر پابندی کے ضوابط کے خلاف جنوبی افریقا کی مساوات عدالت سے رجوع کرنے کا عندیہ دیا تھا۔

جس پر جنوبی افریقا کی دفاعی فورس نے بالآخر رواں ہفتے اپنی پالیسی میں ترمیم کرنے پر اتفاق کیا اور ڈیوٹی کے دوران تمام مسلمان خواتین کو اپنے سر ڈھانپنے کی اجازت دیدی تاہم کان کھلے رکھنے ہوں گے۔
Load Next Story