جعلی کتابیں بیچنے والی ’انسٹاگرام اسٹار‘ پر مقدمہ
’ہمیں معلوم تھا کہ انکی پوری زندگی جعلی ہے... ان کے پاس شرم غیرت نام کی کوئی چیز نہیں،‘ سوشل میڈیا صارفین
’کتابیں پڑھنے کےلیے ہوتی ہیں، الماریوں میں خوبصورتی کی غرض سے سجانے کےلیے نہیں،‘‘ سوشل میڈیا صارفین کی تنقید (فوٹو: اوڈیٹی سینٹرل)
فرانس سے تعلق رکھنے والی سوشل میڈیا انفلوئنسر، میڈی بغشیژا کو اپنے انسٹاگرام اکاؤنٹ سے جعلی کتابیں فروخت کرنے پر شدید تنقید کا سامنا ہے۔
اگرچہ دیکھنے میں یہ انہی عنوانات والی اصل کتابوں جیسی نظر آتی ہیں لیکن انہیں صرف موٹے گتے کے ٹکڑوں کو جوڑ کر بنایا گیا ہے اور اصل کتابوں جیسی شکل میں لایا گیا ہے۔
فرانس اور بیشتر یورپی ممالک میں کاپی رائٹ کے سخت قوانین کی روشنی میں یہ حرکت قابلِ سزا جرم ہے لیکن میڈی کی حرکت اس سے بھی زیادہ بیہودہ تھی۔
ایک انسٹاگرام پوسٹ میں انہوں نے یہ نقلی کتابیں اپنے فالوورز کو دکھاتے ہوئے کہا کہ اصل اور مہنگی کتابیں بہت مہنگی ہیں لیکن اگر اُن کے فالوورز یہ کتابیں پڑھنا نہیں چاہتے اور صرف اپنی علمیت کا ''بھرم'' کرانا چاہتے ہیں تو کتابوں جیسے یہ ''شو پیس'' وہ بہت کم قیمت میں فروخت کررہی ہیں۔
اسی پوسٹ میں انہوں نے فالوورز کےلیے پرومو کوڈ بھی دیا، جسے استعمال کرتے ہوئے یہ نقلی لیکن ''سستی کتابیں'' صرف 19.99 یورو (تقریباً 4 ہزار پاکستانی روپے فی کتاب) میں خریدی جاسکتی ہیں۔ علاوہ ازیں، انہوں نے ''ایک خریدو، ایک مفت'' کی پیشکش بھی شامل کردی۔
لیکن یہ تشہیری مہم اس وقت شدید مشکلات کا شکار ہوگئی جب درجنوں انسٹاگرام صارفین نے انہیں کاپی رائٹ قوانین کی خلاف ورزی پر خبردار کیا اور کہا کہ ایسی جعلی کتابیں خرید کر وہ خود کو مشکل میں ڈال لیں گے۔
بات صرف یہیں پر نہیں رکی، بلکہ جلد ہی دوسرے سوشل میڈیا صارفین نے انکشاف کیا کہ جن نقلی کتابوں کو وہ ''سستا'' کہہ کر تقریباً 20 یورو میں بیچ رہی ہیں، وہ سب کی سب ''علی ایکسپریس'' سمیت درجنوں چینی ویب سائٹس پر 3 سے 4 یورو میں بہ آسانی دستیاب ہیں۔
''داؤد'' نامی ایک ٹوئٹر صارف نے میڈی کی اس حرکت پر (فرانسیسی زبان میں) تبصرہ کرتے ہوئے لکھا: ''میں تو پٹیشن دائر کرنے جارہا ہوں کہ ڈکشنری میں 'جعلساز' (scammer) کو بدل کر 'میڈی بغشیژا' کردیا جائے۔''
بعض سوشل میڈیا صارفین نے میڈی پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا کہ کتابیں پڑھنے کےلیے ہوتی ہیں، الماریوں میں خوبصورتی کی غرض سے سجانے کےلیے نہیں۔
''ارے ہاں! ہمیں تو پہلے ہی معلوم تھا کہ ان کی پوری زندگی ہی جعلی ہے، لیکن شیلف میں رکھی کتابیں بھی؟ ان لوگوں کے پاس شرم غیرت نام کی کوئی چیز نہیں۔''
انسٹاگرام پر مقبول ہونے کے باوجود، ماضی میں بھی میڈی اپنی غلط کاریوں کی وجہ سے خبروں میں رہی ہیں۔
نومبر 2020 میں انہوں نے اپنی ایک پوسٹ میں کاسمیٹکس مصنوعات فروخت کےلیے پیش کیں، لیکن پرومو کوڈ کے ساتھ ساتھ انہوں نے یہ اعلان لگادیا کہ اگر کوئی صارف اس پرومو کوڈ کو استعمال کرتے ہوئے یہ کاسمیٹکس خریدے گا، اسے نہ صرف زیادہ بچت ہوگی بلکہ اس کی ادا کردہ رقم کا کچھ حصہ ایک مقامی فلاحی تنظیم کے اکاؤنٹ میں بھی منتقل ہوگا۔
پوسٹ میں مذکورہ فلاحی تنظیم کا نام استعمال کرنے کے علاوہ، میڈی نے اس تنظیم کی شناختی علامت بھی اپنی پوسٹ میں لگا دی۔
اس پر فوری ردِ عمل دیتے ہوئے، فلاحی ادارے نے تردیدی پریس ریلیز میں کہا کہ میڈی کے ساتھ ان کا ایسا کوئی معاہدہ نہیں ہوا ہے۔ اسی کے ساتھ میڈی کو ایک قانونی نوٹس بھی بھجوا دیا گیا جس میں کہا گیا تھا کہ انسٹاگرام پر سے وہ پوسٹ فوری ہٹائی جائے جس میں اس فلاحی تنظیم کا نام استعمال کیا گیا ہے۔
میڈی نے انتہائی ڈھٹائی کا ثبوت دیتے ہوئے وہ پوسٹ نہیں ہٹائی بلکہ اس فلاحی تنظیم کو 200 یورو بطور امداد دے کر ٹھنڈا کرنے کی کوشش کر ڈالی، جو ناکام ثابت ہوئی۔ یہ مقدمہ ابھی تک جاری ہے۔
اگرچہ دیکھنے میں یہ انہی عنوانات والی اصل کتابوں جیسی نظر آتی ہیں لیکن انہیں صرف موٹے گتے کے ٹکڑوں کو جوڑ کر بنایا گیا ہے اور اصل کتابوں جیسی شکل میں لایا گیا ہے۔
فرانس اور بیشتر یورپی ممالک میں کاپی رائٹ کے سخت قوانین کی روشنی میں یہ حرکت قابلِ سزا جرم ہے لیکن میڈی کی حرکت اس سے بھی زیادہ بیہودہ تھی۔
ایک انسٹاگرام پوسٹ میں انہوں نے یہ نقلی کتابیں اپنے فالوورز کو دکھاتے ہوئے کہا کہ اصل اور مہنگی کتابیں بہت مہنگی ہیں لیکن اگر اُن کے فالوورز یہ کتابیں پڑھنا نہیں چاہتے اور صرف اپنی علمیت کا ''بھرم'' کرانا چاہتے ہیں تو کتابوں جیسے یہ ''شو پیس'' وہ بہت کم قیمت میں فروخت کررہی ہیں۔
اسی پوسٹ میں انہوں نے فالوورز کےلیے پرومو کوڈ بھی دیا، جسے استعمال کرتے ہوئے یہ نقلی لیکن ''سستی کتابیں'' صرف 19.99 یورو (تقریباً 4 ہزار پاکستانی روپے فی کتاب) میں خریدی جاسکتی ہیں۔ علاوہ ازیں، انہوں نے ''ایک خریدو، ایک مفت'' کی پیشکش بھی شامل کردی۔
لیکن یہ تشہیری مہم اس وقت شدید مشکلات کا شکار ہوگئی جب درجنوں انسٹاگرام صارفین نے انہیں کاپی رائٹ قوانین کی خلاف ورزی پر خبردار کیا اور کہا کہ ایسی جعلی کتابیں خرید کر وہ خود کو مشکل میں ڈال لیں گے۔
بات صرف یہیں پر نہیں رکی، بلکہ جلد ہی دوسرے سوشل میڈیا صارفین نے انکشاف کیا کہ جن نقلی کتابوں کو وہ ''سستا'' کہہ کر تقریباً 20 یورو میں بیچ رہی ہیں، وہ سب کی سب ''علی ایکسپریس'' سمیت درجنوں چینی ویب سائٹس پر 3 سے 4 یورو میں بہ آسانی دستیاب ہیں۔
''داؤد'' نامی ایک ٹوئٹر صارف نے میڈی کی اس حرکت پر (فرانسیسی زبان میں) تبصرہ کرتے ہوئے لکھا: ''میں تو پٹیشن دائر کرنے جارہا ہوں کہ ڈکشنری میں 'جعلساز' (scammer) کو بدل کر 'میڈی بغشیژا' کردیا جائے۔''
بعض سوشل میڈیا صارفین نے میڈی پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا کہ کتابیں پڑھنے کےلیے ہوتی ہیں، الماریوں میں خوبصورتی کی غرض سے سجانے کےلیے نہیں۔
''ارے ہاں! ہمیں تو پہلے ہی معلوم تھا کہ ان کی پوری زندگی ہی جعلی ہے، لیکن شیلف میں رکھی کتابیں بھی؟ ان لوگوں کے پاس شرم غیرت نام کی کوئی چیز نہیں۔''
انسٹاگرام پر مقبول ہونے کے باوجود، ماضی میں بھی میڈی اپنی غلط کاریوں کی وجہ سے خبروں میں رہی ہیں۔
نومبر 2020 میں انہوں نے اپنی ایک پوسٹ میں کاسمیٹکس مصنوعات فروخت کےلیے پیش کیں، لیکن پرومو کوڈ کے ساتھ ساتھ انہوں نے یہ اعلان لگادیا کہ اگر کوئی صارف اس پرومو کوڈ کو استعمال کرتے ہوئے یہ کاسمیٹکس خریدے گا، اسے نہ صرف زیادہ بچت ہوگی بلکہ اس کی ادا کردہ رقم کا کچھ حصہ ایک مقامی فلاحی تنظیم کے اکاؤنٹ میں بھی منتقل ہوگا۔
پوسٹ میں مذکورہ فلاحی تنظیم کا نام استعمال کرنے کے علاوہ، میڈی نے اس تنظیم کی شناختی علامت بھی اپنی پوسٹ میں لگا دی۔
اس پر فوری ردِ عمل دیتے ہوئے، فلاحی ادارے نے تردیدی پریس ریلیز میں کہا کہ میڈی کے ساتھ ان کا ایسا کوئی معاہدہ نہیں ہوا ہے۔ اسی کے ساتھ میڈی کو ایک قانونی نوٹس بھی بھجوا دیا گیا جس میں کہا گیا تھا کہ انسٹاگرام پر سے وہ پوسٹ فوری ہٹائی جائے جس میں اس فلاحی تنظیم کا نام استعمال کیا گیا ہے۔
میڈی نے انتہائی ڈھٹائی کا ثبوت دیتے ہوئے وہ پوسٹ نہیں ہٹائی بلکہ اس فلاحی تنظیم کو 200 یورو بطور امداد دے کر ٹھنڈا کرنے کی کوشش کر ڈالی، جو ناکام ثابت ہوئی۔ یہ مقدمہ ابھی تک جاری ہے۔