بھارت 127 مسلمانوں کو دہشتگردی کے جھوٹے مقدمے میں 19 سال بعد رہائی ملی
ان افراد کو گجرات میں ہونے والی مسلم تعلیمی کانفرنس سے حراست میں لیا گیا تھا
ان افراد کو گجرات میں مسلم ایجوکیشن سمینار سے حراست میں لیا گیا تھا، فوٹو : ٹوئٹر
بھارت میں 19 سال بعد دہشت گردی کے جھوٹے مقدمے میں 127 مسلمانوں کو بری کردیا گیا۔
بھارتی میڈیا کے مطابق ان 127 مسلمانوں کو ریاست گجرات میں 'مسلم تعلیم' سے متعلق ایک سیمینار میں شرکت کے دوران گرفتار کیا گیا تھا۔ پولیس نے گرفتارشدگان پر کالعدم جماعت '' اسٹوڈینٹس اسلامک موومنٹ انڈیا'' سے تعلق رکھنے اور دہشت گردی کی منصوبہ بندی کے لیے اسلحہ و بارود جمع کرنے کا الزام عائد کیا تھا۔
اس سمینار کا انعقاد آل انڈیا اقلیتی تعلیمی بورڈ نے کیا تھا جس میں جودھپور کی جے نارائن ویاس یونیورسٹی میں اس وقت کے ایک ایسوسی ایٹ پروفیسر بھی رکن تھے۔ 3 روزہ پروگرام میں ہندوستان بھر سے 400 مسلم اسکالرز، کارکنان اور کمیونٹی رہنماؤں کی شرکت کی توقع تھی۔
گجرات کے شہر سورت کے بند فلم تھیٹر راجیشری ہال میں جاری سیمینار کے پہلے ہی دن صبح 11 بجے پولیس نے چھاپہ مارا اور 127 افراد کو حراست میں لے لیا تھا تاہم پولیس 19 برسوں میں کوئی ایک بھی ثبوت یا گواہ عدالت میں پیش نہیں کرسکی۔
بھارتی میڈیا کے مطابق ان 127 مسلمانوں کو ریاست گجرات میں 'مسلم تعلیم' سے متعلق ایک سیمینار میں شرکت کے دوران گرفتار کیا گیا تھا۔ پولیس نے گرفتارشدگان پر کالعدم جماعت '' اسٹوڈینٹس اسلامک موومنٹ انڈیا'' سے تعلق رکھنے اور دہشت گردی کی منصوبہ بندی کے لیے اسلحہ و بارود جمع کرنے کا الزام عائد کیا تھا۔
اس سمینار کا انعقاد آل انڈیا اقلیتی تعلیمی بورڈ نے کیا تھا جس میں جودھپور کی جے نارائن ویاس یونیورسٹی میں اس وقت کے ایک ایسوسی ایٹ پروفیسر بھی رکن تھے۔ 3 روزہ پروگرام میں ہندوستان بھر سے 400 مسلم اسکالرز، کارکنان اور کمیونٹی رہنماؤں کی شرکت کی توقع تھی۔
گجرات کے شہر سورت کے بند فلم تھیٹر راجیشری ہال میں جاری سیمینار کے پہلے ہی دن صبح 11 بجے پولیس نے چھاپہ مارا اور 127 افراد کو حراست میں لے لیا تھا تاہم پولیس 19 برسوں میں کوئی ایک بھی ثبوت یا گواہ عدالت میں پیش نہیں کرسکی۔