ایٹم بم

دنیا میں پڑھا لکھا شخص وہ ہوتا ہے جو لرن (سیکھنا) کر سکتا ہو

www.facebook.com/javed.chaudhry

آپ بل گیٹس کے بچوں کی مثال لیجئے' بل گیٹس کے تین بچے ہیں' جنیفر کیتھرائن ' روری جان اورفوبی ایڈلی ۔ یہ تینوں بچے بالترتیب 16سال' 14سال اور 9سال کے ہیں' یہ تینوں اس بل گیٹس کے بچے ہیں جو 14 سال تک دنیا کا امیر ترین شخص رہا' یہ دنیا کا اسٹار بھی ہے' دنیا کے چھ' ساڑھے چھ ارب لوگ اس کی عزت کرتے ہیں' دنیا جہاں کے حکمران' لیڈر اور صحافی بل گیٹس سے ملاقات کرنا' اس کے ساتھ تصویر بنوانا اور اسے اپنے ملک میں دعوت دینا اعزاز سمجھتے تھے چنانچہ اس کے بچوں کو منہ میں سونے کا چمچ لے کر پیدا ہونا چاہیے تھا لیکن حقیقت اس کے برعکس ہے۔

بل گیٹس کے تینوں بچے عام امریکی بچوں سے کمتر زندگی گزار رہے ہیں' یہ ریستورانوں میں کھانا نہیں کھاتے' ماں نے پوری زندگی انھیں صرف اتنے پیسے دئیے جن سے یہ اسکول میں سستا برگر خرید سکتے ہیں' پھل کھانے کے لیے انھیں ماں سے فرمائش کرنا پڑتی ہے' یہ سیر کے لیے گھر کے قریب ترین پارک میں جاتے ہیں' یہ بچے چھوٹی عام سی چیز خریدنے کے لیے بھی ماں سے پیسے مانگتے ہیں اور ماں پیسے دینے سے پہلے ان سے باقاعدہ پوچھ گچھ کرتی ہے اور بچوں کو بعض اوقات انکار بھی ہو جاتا ہے۔

بل گیٹس نے خود ایک انٹرویو میں کہا تھا میں نے اپنے بچوں کو ابھی تک آئی پیڈ' آئی پاڈ اور آئی فون لے کر نہیں دیا۔ بل گیٹس اور ملینڈا گیٹس بچوں کو زیادہ پیسے دینے کے قائل نہیں ہیں۔ ان کا کہنا ہے دنیا کا ہر بچہ اپنے حصے کی دولت لے کر پیدا ہوتا ہے چنانچہ اس بچے کو اپنے حصے کی دولت خود تلاش کرنی چاہئے' ماں باپ کی دولت ماں باپ کی ہوتی ہے یا پھر عوام کی ملکیت چنانچہ بل گیٹس اور اس کی بیگم نے دنیا کی سب سے بڑی چیئرٹی آرگنائزیشن بنائی اور اپنی دولت کا 80 فیصد حصہ چیئرٹی میں لگا دیا اور یوں بل گیٹس دنیا کا سب سے زیادہ چیئرٹی کرنے والا شخص بن گیا۔

کیا ہم سب بھی اپنے بچوں کی ایسی تربیت کر رہے ہیں؟ میرا خیال ہے نہیں' ہم نے نئی نسل کی تربیت پرسرے سے کام ہی نہیں کیا چنانچہ ہمارے بچے تہذیب' شائستگی اور محنت سے باغی ہیں' آپ دس منٹ کے لیے بچوں کے درمیان بیٹھ جائیں' آپ کے چودہ طبق روشن ہو جائیں گے۔ مجھے یونیورسٹیوں کے لڑکے اور لڑکیاں فون کرتے ہیں' میں ان کا طرز تکلم' ان کی گفتگو کا لیول اور ان کے لہجے کی شدت دیکھ کر پریشان ہو جاتا ہوں اور سوچتا ہوں یہ بے چارے کیسے زندگی گزاریں گے؟ زندگی کے لیے سکون' خوشی' اطمینان' سہولت اور کامیابی چاہیے اور اگر آپ بدتمیز ہوں' شائستگی سے دور ہوں' آپ میں محنت کا جذبہ نہ ہو اور آپ شکی' چڑچڑے' حاسد اور جذباتی ہوں تو آپ کی زندگی سے اطمینان' خوشی اور سکون خارج ہو جاتا ہے اور یوں آپ جیتے جی جہنم میں چلے جاتے ہیں۔

دنیا میں پڑھا لکھا شخص وہ ہوتا ہے جو لرن (سیکھنا) کر سکتا ہو' پھر ان چیزوں کو ڈی لرن (حافظے سے خارج) کر سکتا ہوجو اس نے غلط سیکھ لی تھیں اور پھر اچھی چیزیںری لرن (دوبارہ سیکھنا) کر سکتا ہو اور اس کے لیے سائنسی بنیادوں پر تربیت کی ضرورت ہوتی ہے۔ انسان کا دماغ سافٹ وئیر اور جسم ہارڈ وئیر ہوتا ہے' ہم زندگی میں وہ کچھ کرتے ہیں جو ہمارا دماغ یا ہمارے دماغ کا سافٹ وئیر ہمیںکہتا ہے اور ہمارا سافٹ وئیر ماحول سے بنتا ہے' ہمارا دماغ ماحول سے بے شمار ایسی غلط چیزیں سیکھ لیتا ہے جو ہماری زندگی اجیرن کر دیتی ہیں اور ہم جب تک ان چیزوں کو ڈی لرن نہیں کرتے اور اس کے بعد اصل بات ری لرن نہیں کرتے ہم اس وقت تک سکون سے زندگی نہیں گزار سکتے۔

ہمیں اپنے بچوں کو لرن' ڈی لرن اور ری لرن کایہ میتھڈ سکھانا چاہئے۔کیا ہم انھیں یہ سیکھا رہے ہیں؟ نہیں ہر گز نہیں چنانچہ ہمارے بچے شیعہ اور سنی بن رہے ہیںاوریہ والدین کے خیالات کو نظریہ اور فلسفہ مان رہے ہیں۔ دنیا دس ہزار سال کی ریکارڈ تاریخ میں اس نتیجے پر پہنچی ہے بچوں کو گیم میں ضرور حصہ لینا چاہئے' اگر بچہ کوئی گیم نہیں کر رہا تو وہ صحت مند نہیں' ہر بچے کو مطالعہ بھی کرنا چاہئے' ہر بچے کو میوزک ضرور سننا چاہئے' فلم ضرور دیکھنی چاہئے' سیر کے لیے پارک ضرور جانا چاہئے' کوئی پرندہ یا جانور ضرور پالنا چاہئے۔


اسے سماجی قوانین مثلاً زیبرا کراسنگ سے سڑک پار کرنا' ٹشو پیپر' ریپر اور لفافہ سڑک' گلی یا فٹ پاتھ پرنہ پھینکنا' آہستہ آواز میں بات کرنا' دوسروں کو سر' جناب یا انکل کہہ کر مخاطب کرنا' دوسروں کے نظریات' خیالات اور احساسات کا احترام کرنا' دوسروں کی ذاتی زندگی میں ناک نہ گھسیڑنا اور کسی سے اس کا مذہب یا مسلک نہ پوچھنا جیسی سماجی عادتوں کا پابند ہونا چاہئے'کیا ہمارے بچے کھیلنے کے لیے روزمیدان میں جاتے ہیں' کیا یہ لائبریریوں کے باقاعدہ ممبر ہیں' کیا یہ کتابیں خریدتے ہیں'کیا یہ پرندے یا جانور پالتے ہیں اور کیا یہ دوسروں سے تہذیب اور شائستگی کے ساتھ گفتگو کرتے ہیں۔

اس ہر کیا کا جواب ناں ہوگا۔امریکا میں ہر بچے کو ٹول باکس دیا جاتا ہے اور اسے اسکول میں پانچ سال کی عمر میں مکینک' الیکٹریشن' ترکھان اور پینٹر بنا دیا جاتا ہے' آپ نے ہالی وڈ کی فلموں میں اکثر لوگوں کو اپنی چھت' دیوار اور لان میں کام کرتے دیکھا ہو گا' آپ لوگوں کو اپنی گاڑی خود ٹھیک کرتے بھی دیکھتے ہوں گے اور آپ انھیں اپنے گھر' اپنے کمرے میں روغن کرتے بھی دیکھتے ہیں' یہ حرکات صرف فلموں تک محدود نہیں بلکہ ہر امریکی عملی زندگی میں بھی یہ کرتا ہے اور اسے اسکول میں اس کی باقاعدہ ٹریننگ دی جاتی ہے۔

مجھے شکاگو سے ڈھائی گھنٹے کی ڈرائیونگ پر ایک گائوں میں رات گزارنے کا اتفاق ہوا' میرے میزبان گھرانے میں تین لوگ تھے' جان' اس کی بیگم کیتھی اور ان کا جوان بیٹا پیٹر۔ یہ تین لوگ ساڑھے بارہ سو ایکڑ (ایک ہزار دوسو ایکڑ) زمین سنبھالتے تھے' یہ زمین خود اپنے ہاتھوں سے ہموار کرتے تھے' اس میں بیج ڈالتے تھے' پانی دیتے تھے' کھاد اور ادویات ڈالتے تھے' فصل کاٹتے تھے' اس کو پیک کرتے تھے اور خود منڈی تک چھوڑ کر آتے تھے' یہ اپنے آلات اور مشینیں بھی خود ٹھیک کرتے تھے۔

میں نے تحقیق کی تو معلوم ہوا گائوں میں دو سو گھرانے ہیں اور یہ تمام لوگ ہزار ہزار' دو دو ہزار ایکڑ زمین سنبھال رہے ہیں' یہ کیا ہے؟ یہ وہ تربیت ہے جو امریکی معاشرہ اپنے بچوں کو دیتا ہے' یہ انھیں بچپن ہی میں محنت کی لت لگا دیتا ہے چنانچہ ان کے بچے پوری زندگی محنت کرتے ہیں' امریکا کے 90 فیصد لوگ روزانہ ورزش کرتے ہیں' آپ امریکی صدور اور وزیروں کو جاگنگ کرتے دیکھتے ہیں' آپ انھیں درخت کاٹتے' پکنک مناتے' کھانا پکاتے اور کپڑے دھوتے بھی دیکھتے ہیں' یہ کیا ہے ؟یہ ان کے بچپن کی وہ عادت ہے جو پوری زندگی ان کے ساتھ رہتی ہے۔

امریکا کا ہر باپ خواہ وہ بل گیٹس ہی کیوں نہ ہو' خواہ وہ بش یا بل کلنٹن ہی کیوں نہ ہو یہ اپنے بچوں کو جاب ضرور کرواتا ہے' کیوں؟ تا کہ ان کا بچہ لوگوں کے ساتھ کام کرنا سیکھ جائے' یہ ملازمین کے مسائل کا ادراک کر سکے اور یہ جب اپنا کام شروع کرے یا کمپنی یا پارٹی سنبھالے تو اسے عام آدمی کی نفسیات اور مسائل کا ادراک ہو' اسے دوسروں سے کام لینے کا سلیقہ ہولیکن کیا ہم بھی ایسا کرتے ہیں؟ کیا ہمارے خوشحال خاندانوں کے بچوں کو ملازمتیں کروائی جاتی ہیں؟

یورپ اور امریکا کے والدین اپنے بچوں کو گاڑیاں نہیں دیتے' یہ انھیں بڑے بڑے گھر بھی بنا کر نہیں دیتے' یہ بچوں کو اعلیٰ تعلیم دیتے ہیں اور اس کے بعد انھیں گاڑی اور گھر کے حصول کے لیے معاشرے میں دھکیل دیتے ہیں اور یہ بچے اپنی گاڑی' اپنا گھر خود حاصل کرتے ہیں' والدین وہاں بچے کو آزاد سوچ بھی دیتے ہیں' یہ انھیں بچپن ہی میں باور کرا دیتے ہیں یہ تمام آسائشیں' یہ تمام چیزیں ہماری ہیں' یہ تمہیں نہیں ملیں گی اور ان کے حصول کے لیے تمہیںخود محنت کرنا پڑے گی چنانچہ ان کے بچے جوان ہوتے ہی اپنا کنواں کھودنا شروع کر دیتے ہیں جب کہ ہمارے ملک میں والدین کو مرنے تک اپنے بچوں کی راہنمائی اور مدد کرنا پڑتی ہے ' کیوں؟ کیونکہ ہم انھیں خود مختار ہونے کی سوچ ہی نہیں دیتے چنانچہ ہمارے بچے معاشرے اور ملک دونوں کے لیے مسئلہ بنتے جا رہے ہیں۔

کاش حکومت اور والدین بچوں کی تربیت پر بھی توجہ دیں' یہ جان لیں تعلیم سب کچھ نہیں ہوتی تربیت اس سے زیادہ ضروری ہوتی ہے' تعلیم کے ساتھ اگرتربیت نہ ہو تو بچہ ایسا ایٹم بم ثابت ہوتا ہے جس کے ساتھ فیوز نہیں ہے' ہمیں آج کے دورمیں تعلیم یافتہ کے ساتھ تربیت یافتہ بچے چاہئیں ورنہ یہ بچے اس ملک بلکہ دنیا کے لیے خطرناک ثابت ہوں گے' یہ خود آرام سے رہیں گے اور نہ ہی دنیا کو سکون سے رہنے دیں گے۔
Load Next Story