انڈونیشیا میں سیلاب اور لینڈ سلائیڈنگ سے ہلاکتیں 150 ہوگئیں
50 کے قریب افراد زخمی ہیں جن میں سے 9 کی حالت نازک بتائی جارہی ہے
ہلاکتوں میں اضافے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے، فوٹو : اے ایف پی
انڈونیشیا میں طوفانی بارشوں، سیلاب اور لینڈ سلائیڈنگ سے ہلاک افراد کی تعداد 150 ہوگئی جب کہ متعدد زخمی ہیں۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق انڈونیشیا کے مشرقی صوبے میں مسلسل ہونے والی طوفانی بارشوں نے سیلاب کی شکل اختیار کرلی جب کہ لینڈ سلائیڈنگ کی وجہ سے سیلابی ریلے میں مٹی شامل ہوگئی، کیچڑ کے سیلابی ریلے نے ہر طرف تباہی مچادی۔
ریسکیو اداروں نے امدادی کاموں کا آغاز کردیا ہے اب تک بارشوں، لینڈ سلائیڈنگ اور سیلاب سے ہلاکتوں کی تعداد 150 ہوگئی جب کہ فلوریس جزیرے کے مشرقی علاقے میں پل اور سڑکیں تباہ ہونے سے ٹریفک کا نظام درہم برہم ہوگیا۔
لینڈ سلائیڈنگ سے درجنوں مکانات تباہ ہوگئے جن کے ملبے تلے 9 افراد کے دبے ہونے کا خدشہ ہے جب کہ کیچڑ کے سیلاب میں بھی کئی لاشیں موجود ہیں۔ امدادی کاموں کے دوران لاشیں ملنے کا سلسلہ جاری ہے جس کے باعث ہلاکتوں میں اضافے کا خدشہ ہے۔
اسپتالوں میں 50 سے زائد زخمیوں کو لایا گیا ہے جن میں سے اکثریت کو ابتدائی طبی امداد کے بعد گھر جانے کی اجازت دیدی گئی ہے۔ 9 زخمیوں کی تعداد حالت نازک ہے۔ اسپتالوں میں ایمرجنسی نافذ کردی گئی ہے۔
محکمہ موسمیات کا کہنا ہے کہ بارشوں اور خراب موسم کا سلسلہ اگلے ہفتے بھی جاری رہے گا اس لیے سمندر پر جانے پر پابندی عائد کردی گئی ہے اور شہریوں کو بلا ضرورت گھروں سے نہ نکلنے کی ہدایت کی گئی ہے۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق انڈونیشیا کے مشرقی صوبے میں مسلسل ہونے والی طوفانی بارشوں نے سیلاب کی شکل اختیار کرلی جب کہ لینڈ سلائیڈنگ کی وجہ سے سیلابی ریلے میں مٹی شامل ہوگئی، کیچڑ کے سیلابی ریلے نے ہر طرف تباہی مچادی۔
ریسکیو اداروں نے امدادی کاموں کا آغاز کردیا ہے اب تک بارشوں، لینڈ سلائیڈنگ اور سیلاب سے ہلاکتوں کی تعداد 150 ہوگئی جب کہ فلوریس جزیرے کے مشرقی علاقے میں پل اور سڑکیں تباہ ہونے سے ٹریفک کا نظام درہم برہم ہوگیا۔
لینڈ سلائیڈنگ سے درجنوں مکانات تباہ ہوگئے جن کے ملبے تلے 9 افراد کے دبے ہونے کا خدشہ ہے جب کہ کیچڑ کے سیلاب میں بھی کئی لاشیں موجود ہیں۔ امدادی کاموں کے دوران لاشیں ملنے کا سلسلہ جاری ہے جس کے باعث ہلاکتوں میں اضافے کا خدشہ ہے۔
اسپتالوں میں 50 سے زائد زخمیوں کو لایا گیا ہے جن میں سے اکثریت کو ابتدائی طبی امداد کے بعد گھر جانے کی اجازت دیدی گئی ہے۔ 9 زخمیوں کی تعداد حالت نازک ہے۔ اسپتالوں میں ایمرجنسی نافذ کردی گئی ہے۔
محکمہ موسمیات کا کہنا ہے کہ بارشوں اور خراب موسم کا سلسلہ اگلے ہفتے بھی جاری رہے گا اس لیے سمندر پر جانے پر پابندی عائد کردی گئی ہے اور شہریوں کو بلا ضرورت گھروں سے نہ نکلنے کی ہدایت کی گئی ہے۔