سیاسی جماعت میں شامل ہونے سے متعلق شفاعت علی کا بیان سامنے آگیا
دو بڑی سیاسی جماعتوں کی جانب سے میڈیا سیل جوائن کرنے کی آفر ہوئی، شفاعت علی
دو بڑی سیاسی جماعتوں کی جانب سے میڈیا سیل جوائن کرنے کی آفر ہوئی، شفاعت علی۔ فوٹو:فائل
معروف کامیڈین شفاعت علی کا سیاسی جماعت میں شامل ہونے کی آفر سے متعلق بیان سامنے آگیا۔
سیاسی رہنماؤں سمیت مشہور شخصیات کی میمکری کرنے والے آرٹسٹ سید شفاعت علی نے اہلیہ ربیکا فریال کے ہمراہ آغا علی کے شو میں شرکت کی جہاں میزبان کی جانب سے سوال پوچھا گیا کہ اگر سیاست میں آنے کا موقع ملے تو کیا آپ راضی ہو جائیں گے۔
https://www.youtube.com/watch?v=hWr_gD-TPX0&ab_channel=AajEntertainment
میزبان کے سوال پر شفاعت علی نے اپنے جواب میں حیران کن انکشاف کرتے ہوئے کہا کہ مجھے دو بڑی سیاسی جماعتوں کی جانب سے باضابطہ طور پر آفر ہوئی اور وہ آفر میڈیا سیل جوائن کرنے کی تھی جس میں اُن کے سیاسی نظریے کو تقویت دینا تھا اس آفر پر مجھے معقول تنخواہ بھی دی جا رہی تھی۔
یہ خبر بھی پڑھیں: سیاست دانوں کی نقل اتارنے پر دھمکی نہیں بے شمار دھمکیاں ملیں، شفاعت علی
انہوں نے یہ بھی کہا کہ میں نے سیاست میں آنے کی یہ آفر ٹھکرا دی کیوں کہ میں سمجھتا ہوں کہ اگر میں نے کوئی سیاسی جماعت میں شمولیت دے دی تو پھر یہ میرے کیریئر کی خود کشی ثابت ہوگی۔ اس لئے انکار کرنا ہی بہتر سمجھا جب کہ مجھے اپنے فیصلے پر کوئی مداوا بھی نہیں ہے۔
سیاسی رہنماؤں سمیت مشہور شخصیات کی میمکری کرنے والے آرٹسٹ سید شفاعت علی نے اہلیہ ربیکا فریال کے ہمراہ آغا علی کے شو میں شرکت کی جہاں میزبان کی جانب سے سوال پوچھا گیا کہ اگر سیاست میں آنے کا موقع ملے تو کیا آپ راضی ہو جائیں گے۔
https://www.youtube.com/watch?v=hWr_gD-TPX0&ab_channel=AajEntertainment
میزبان کے سوال پر شفاعت علی نے اپنے جواب میں حیران کن انکشاف کرتے ہوئے کہا کہ مجھے دو بڑی سیاسی جماعتوں کی جانب سے باضابطہ طور پر آفر ہوئی اور وہ آفر میڈیا سیل جوائن کرنے کی تھی جس میں اُن کے سیاسی نظریے کو تقویت دینا تھا اس آفر پر مجھے معقول تنخواہ بھی دی جا رہی تھی۔
یہ خبر بھی پڑھیں: سیاست دانوں کی نقل اتارنے پر دھمکی نہیں بے شمار دھمکیاں ملیں، شفاعت علی
انہوں نے یہ بھی کہا کہ میں نے سیاست میں آنے کی یہ آفر ٹھکرا دی کیوں کہ میں سمجھتا ہوں کہ اگر میں نے کوئی سیاسی جماعت میں شمولیت دے دی تو پھر یہ میرے کیریئر کی خود کشی ثابت ہوگی۔ اس لئے انکار کرنا ہی بہتر سمجھا جب کہ مجھے اپنے فیصلے پر کوئی مداوا بھی نہیں ہے۔