بلوچستان میں کورونا فعال کیسز کی شرح 9 فیصد تک پہنچ گئی
اگر تعلیمی اداروں میں کیسز میں اضافہ ہوا تو اسکولوں کو بند کیا جاسکتا ہے، ترجمان بلوچستان حکومت
اگر تعلیمی اداروں میں کیسز میں اضافہ ہوا تو اسکولز کو بند کیا جاسکتا ہے، ترجمان لیاقت شاہوانی۔ فوٹوفائل
ترجمان حکومت بلوچستان کا کہنا ہے کہ صوبے میں کورونا کے فعال کیسز کی شرح بھی 9 فیصد تک پہنچ گئی ہے۔
کوئٹہ میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے ترجمان بلوچستان حکومت لیاقت شاہوانی کا کہنا تھا کہ صوبے میں ایکٹو کیسز کی شرح بھی 9 فیصد تک پہنچ گئی ہے، 6 ماہ بعد کورونا کے کیسز 100 سے اوپر ہوئے ہیں، تعلیمی اداروں میں بھی کیسز سامنے آرہے ہیں۔
ترجمان کا کہنا تھا کہ سردار بہادر خان یونیورسٹی سمیت 4 اسکول بند کردیا گیا ہے، پرائمری اسکولوں میں بھی کورونا ٹیسٹوں میں اضافہ کردیا گیا ہے، اگر تعلیمی اداروں میں کیسز میں اضافہ ہوا تو اسکولز کو بند کیا جاسکتا ہے، شاپنگ مال سمیت بازاروں میں ایس او پیز کا جائزہ لیا جارہا ہے، علماء کرام سے بھی گزارش کی ہے کہ ایس او پیز پر عمل درآمد کو یقینی بنانے کیلئے تعاون کریں۔
لیاقت شاہوانی نے بتایا کہ جنوبی بلوچستان کیلئے 6 سو ارب روپے کا پیکج دیا جارہا ہے، سستا بازار ایک دو دن میں فعال ہوجائے گا، سستابازار سے عوام کو ریلیف دیں گے۔
کوئٹہ میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے ترجمان بلوچستان حکومت لیاقت شاہوانی کا کہنا تھا کہ صوبے میں ایکٹو کیسز کی شرح بھی 9 فیصد تک پہنچ گئی ہے، 6 ماہ بعد کورونا کے کیسز 100 سے اوپر ہوئے ہیں، تعلیمی اداروں میں بھی کیسز سامنے آرہے ہیں۔
ترجمان کا کہنا تھا کہ سردار بہادر خان یونیورسٹی سمیت 4 اسکول بند کردیا گیا ہے، پرائمری اسکولوں میں بھی کورونا ٹیسٹوں میں اضافہ کردیا گیا ہے، اگر تعلیمی اداروں میں کیسز میں اضافہ ہوا تو اسکولز کو بند کیا جاسکتا ہے، شاپنگ مال سمیت بازاروں میں ایس او پیز کا جائزہ لیا جارہا ہے، علماء کرام سے بھی گزارش کی ہے کہ ایس او پیز پر عمل درآمد کو یقینی بنانے کیلئے تعاون کریں۔
لیاقت شاہوانی نے بتایا کہ جنوبی بلوچستان کیلئے 6 سو ارب روپے کا پیکج دیا جارہا ہے، سستا بازار ایک دو دن میں فعال ہوجائے گا، سستابازار سے عوام کو ریلیف دیں گے۔