اسمارٹ لاک ڈاؤن كے دعوے ہوا ہوگئے بازاروں ميں بے پناہ رش
بلوچستان ميں 18سال سے زائد افراد كو انسداد كورونا وائرس ويكسين لگانے كے لیے كم از كم 80 لاكھ خوراک درکار ہیں
ماركيٹوں، شاپنگ مالز اور دكانوں ميں لوگ بغير ماسك كے ہی خريداری كرتے نظر آئے۔(فوٹو:فائل)
ISLAMABAD:
حکومت کی جانب سے ہفتہ اور اتوار کو اسمارٹ لاک ڈاؤن کے دعوے ہوا میں اڑا دیے گئے، بازاروں میں ایس او پیز پر عمل درآمد کیے بنا بے تحاشا رش ہے۔
كوئٹہ ميں كورونا ايس اوپيز پر عمل درآمد کے حکومتی احکامات کی بدترین خلاف ورزیاں جاری ہیں، اسمارٹ لاک ڈاؤن کے دعوے صرف اعلانات تک ہی محدود ہوگئے۔ تاجروں نے حكومت كو ناكوں چنے چبوا ديئے، لياقت بازار، مسجد روڈ، قندھاری بازار، سبزی منڈی، پرنس روڈ اور عبدالستار روڈ پر عام دنوں کی نسبت شہريوں كا رش بڑھنے سے کورونا کے زیادہ تیزی سے پھیلنے کا خدشہ بڑھ گیا ہے۔
ایک جانب باچا خان چوک پر لوگوں كا جم غفیر ہے تو دوسری جانب ماركيٹوں، شاپنگ مالز اور دكانوں ميں لوگ بغير ماسک كے ہی خريداری كرتے نظر آئے۔ بازاروں کی طرح سرکاری و نجی دفاتر میں بھی عملہ سينی ٹائزر، ماسک كے استعمال اور سماجی فاصلوں كو بھی مدنظر نہيں ركھ رہے۔
تاجروں نے بھی مکمل لاک ڈاؤن کے خلاف بھرپور احتجاج کا عندیہ دے دیا۔ تاجروں کا کہنا ہے کہ ہميں بھی اپنے فيصلے كرنے كا حق حاصل ہے ہم كسی اسمارٹ لاک ڈاؤن یا لاک ڈاؤن كے فيصلے كو نہيں مانتے۔
دریں اثنا ڈائريكٹر جنرل ہيلتھ سروسز بلوچستان ڈاكٹر علی ناصر بگٹی اورپروگرام منيجر ای پی آئی بلوچستان ڈاكٹر اسحاق پانيزئی نے كہا ہے كہ بلوچستان كو كورونا وائرس كی كل 97 ہزار ويكسين مليں ہیں، جن ميں 25 ہزار اين سی او سی كی ہدايت پر پنجاب كو دو ہفتوں كے لیے فراہم كی گئی ہيں جب کہ صوبے ميں اب تک 31669 ويكسين استعمال ہوچكی ہيں۔
انہوں نے بتایا کہ صوبے ميں كورونا وائرس كے مريضوں كے لیے 1103 بيڈز ہيں جن ميں سے 36 آئی سی يو، 88 وينٹی ليٹر ہيں صوبے ميں 100 فيصد بيڈز پر مريض ہوں تو 15 دن کی آكسيجن كا اسٹاک موجود ہے۔ انہوں نے بتايا كہ اگر بلوچستان ميں 18سال سے زائد افراد كو مكمل طور پر انسداد كورونا وائرس ويكسين لگانے كے لیے كم از كم 80 لاكھ خوراک درکار ہیں۔
حکومت کی جانب سے ہفتہ اور اتوار کو اسمارٹ لاک ڈاؤن کے دعوے ہوا میں اڑا دیے گئے، بازاروں میں ایس او پیز پر عمل درآمد کیے بنا بے تحاشا رش ہے۔
كوئٹہ ميں كورونا ايس اوپيز پر عمل درآمد کے حکومتی احکامات کی بدترین خلاف ورزیاں جاری ہیں، اسمارٹ لاک ڈاؤن کے دعوے صرف اعلانات تک ہی محدود ہوگئے۔ تاجروں نے حكومت كو ناكوں چنے چبوا ديئے، لياقت بازار، مسجد روڈ، قندھاری بازار، سبزی منڈی، پرنس روڈ اور عبدالستار روڈ پر عام دنوں کی نسبت شہريوں كا رش بڑھنے سے کورونا کے زیادہ تیزی سے پھیلنے کا خدشہ بڑھ گیا ہے۔
ایک جانب باچا خان چوک پر لوگوں كا جم غفیر ہے تو دوسری جانب ماركيٹوں، شاپنگ مالز اور دكانوں ميں لوگ بغير ماسک كے ہی خريداری كرتے نظر آئے۔ بازاروں کی طرح سرکاری و نجی دفاتر میں بھی عملہ سينی ٹائزر، ماسک كے استعمال اور سماجی فاصلوں كو بھی مدنظر نہيں ركھ رہے۔
تاجروں نے بھی مکمل لاک ڈاؤن کے خلاف بھرپور احتجاج کا عندیہ دے دیا۔ تاجروں کا کہنا ہے کہ ہميں بھی اپنے فيصلے كرنے كا حق حاصل ہے ہم كسی اسمارٹ لاک ڈاؤن یا لاک ڈاؤن كے فيصلے كو نہيں مانتے۔
دریں اثنا ڈائريكٹر جنرل ہيلتھ سروسز بلوچستان ڈاكٹر علی ناصر بگٹی اورپروگرام منيجر ای پی آئی بلوچستان ڈاكٹر اسحاق پانيزئی نے كہا ہے كہ بلوچستان كو كورونا وائرس كی كل 97 ہزار ويكسين مليں ہیں، جن ميں 25 ہزار اين سی او سی كی ہدايت پر پنجاب كو دو ہفتوں كے لیے فراہم كی گئی ہيں جب کہ صوبے ميں اب تک 31669 ويكسين استعمال ہوچكی ہيں۔
انہوں نے بتایا کہ صوبے ميں كورونا وائرس كے مريضوں كے لیے 1103 بيڈز ہيں جن ميں سے 36 آئی سی يو، 88 وينٹی ليٹر ہيں صوبے ميں 100 فيصد بيڈز پر مريض ہوں تو 15 دن کی آكسيجن كا اسٹاک موجود ہے۔ انہوں نے بتايا كہ اگر بلوچستان ميں 18سال سے زائد افراد كو مكمل طور پر انسداد كورونا وائرس ويكسين لگانے كے لیے كم از كم 80 لاكھ خوراک درکار ہیں۔