چیئرمین نادرا کا استعفیٰ سینیٹ میں اعتزاز اور سعد رفیق میں جھڑپ ایک دوسرے پر الزامات

وزیرریلوے نے فون کرکے ایک کیس پراثراندازہونیکی کوشش کی،اپوزیشن لیڈر، کیونکہ آپ چوروں کے وکیل تھے، سعدرفیق کاجواب

وفاقی وزیر نے وقفہ سوالات کے دوران قائد حزب اختلاف کو طویل بات کرنے کی اجازت دینے پر چیئرمین نیر حسین بخاری پر جانبداری برتنے کا الزام عائد کیا۔فوٹو:فائل

سینیٹ میں سابق چیئرمین نادرا کے معاملے پر قائد حزب اختلاف چوہدری اعتزاز احسن اور وفاقی وزیر ریلوے سعد رفیق کے درمیان جھڑپ ہوئی جبکہ وفاقی وزیر نے وقفہ سوالات کے دوران قائد حزب اختلاف کو طویل بات کرنے کی اجازت دینے پر چیئرمین نیر حسین بخاری پر جانبداری برتنے کا الزام عائد کیا۔

جمعے کو وقفہ سوالات کے دوران قائد حزب اختلاف اعتزاز احسن اپنی نشست پر کھڑے ہوگئے اور کہا کہ چیئرمین نادرا کو بیٹیوں کی دھمکی دے کر استعفیٰ لیا گیا جو غلط ہے۔ اس پر وزیر ریلوے خواجہ سعد رفیق نے چیئرمین نیر حسین بخاری پر جانبداری برتنے کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ قائد حزب اختلاف تقریر کرکے وقفہ سوالات کو خراب کررہے ہیں، چیئرمین بتائیں کہ وہ کس رول کے تحت بات کررہے ہیں۔ نیر بخاری نے کہا کہ اپوزیشن لیڈر کو اپنے صوابدیدی اختیار کے تحت بات کرنے کی اجازت دی۔ اعتزاز احسن نے اپنی بات جاری رکھتے ہوئے کہا کہ لگتا ہے سعد رفیق پر وزارت حاوی ہو رہی ہے اس لیے وہ بار بار اپنی نشست سے اٹھ رہے ہیں۔ اعتزاز احسن نے کہا کہ وفاقی وزیر نے ایک کیس میں مجھے فون کر کے اثر انداز ہونے کی کوشش کی جس میں مجھے وکیل کیا گیا تھا۔ سعد رفیق نے جواباً کہا کہ ہاں فون کیا تھا کیونکہ آپ چوروں کے وکیل تھے۔

وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات سینیٹر پرویز رشید نے کہا ہے کہ سابق چیئرمین نادرا کو دھمکی دینے کے الزام کی بھرپور طریقے سے تردید کرتے ہیں، اس حوالے سے جس کالم کا ذکر قائد حزب اختلاف نے کیا ہے اس کا جواب بھی ایک کالم کی صورت میں چھپا ہے، میں قائد حزب اختلاف کو مشورہ دیتا ہوں کہ وہ اس کالم کو پڑھ کر اپنی رائے قائم کریں۔ وقفہ سوالات کے دوران اپوزیشن ارکان نے ضمنی سوالات کے جواب نہ آنے پر شدید احتجاج کرتے ہوئے ایوان سے واک آئوٹ کیا۔ قائد حزب اختلاف اعتزاز احسن نے کہا کہ جب ہم وزیر تھے تو ساری رات تیاری کرکے ایوان میں آتے تھے لیکن اب وزرا بغیر تیاری کے آتے ہیں، وزیراعظم ایوان نہیں آتے، وزیر داخلہ بھی بھاگ گئے ہیں، اگر وزرا اسی طرح بغیر تیاری آئیں گے تو ہم ایوان میں بیٹھنے کے پابند نہیں اور پہلے کی طرح ایک بار پھر ایوان کے باہر اجلاس منعقد کریں گے۔ ان کی بات ختم ہوتے ہی ایم کیوایم سمیت اپوزیشن ارکان نے علامتی واک آئوٹ کیا تاہم وفاقی وزیر اطلاعات سینیٹر پرویز رشید انھیں مناکر لے آئے۔




اپوزیشن ارکان نے لیسکو کے ڈیلی ویجز ملازمین کو فارغ کرنے اور اسٹیل ملز کے ملازمین کو تنخواہوں کی عدم ادائیگی پر بھی ایوان سے واک آئوٹ کیا۔ وزیر مملکت برائے داخلہ بلیغ الرحمن نے کہا کہ نادرا کی کارکردگی کسی چیئرمین کی مرہون منت نہیں بلکہ ٹیم ورک کا نتیجہ ہے۔ وزیر مملکت پانی وبجلی عابدشیرعلی نے بتایا کہ موجودہ حکومت میں 1700 میگاواٹ بجلی سسٹم میں شامل ہوئی ، پیسکو کے 283 فیڈر خسارے میں ہیں، ایسے بھی فیڈر ہیں جن کے 99 فیصد لائن لاسز ہیں، صوبائی حکومت تعصب سے باہر نکلے اور پاکستان کی بات کرے۔ وزیر ریلوے خواجہ سعد رفیق نے کہا کہ رواں سال ایک ارب 4 کروڑ ہدف سے زیادہ کما چکے ہیں۔

چیئرمین سینیٹ نے گزشتہ سیشن میں رضا ربانی کی طرف سے آرڈیننسوں کے ایوان میں پیش نہ کرنے کے حوالے سے تحریک استحقاق مسترد کردی اور ہدایت کہ حکومت آرڈیننسوں کو بروقت ایوان میں پیش کرے۔ دریں اثنا ایوان میں پشاور تبلیغی مرکز میں دھماکے اور نواب شاہ میں ویگن حادثے میں جاں بحق افراد کیلیے فاتحہ خوانی کی گئی۔ سینیٹر رحمن ملک نے کہا کہ دہشت گردی کے معاملے پر ڈی جی آئی ایس آئی اور آئی بی پارلیمان کو ان کیمرہ بریفنگ دیں۔ سینیٹر زاہد خان نے کہا کہ تحریک انصاف نے دہشتگردوں سے مک مکا کر لیا ہے ۔ جے یوآئی (س) کے سینیٹر ہیمن داس نے پختوا حکومت پر تنقید شروع کی تو چیئرمین نیر حسین بخاری نے انھیں روکتے ہوئے رولنگ دی کہ جس پارٹی یا شخصیت کا دفاع کرنے والا ایوان میں موجود نہ ہو اس پر تنقید نہ کی جائے۔ بعدازاں اجلاس پیر کی شام 3 بجے تک ملتوی کردیا گیا۔
Load Next Story