اسرائیلی اپوزیشن جماعتوں کا مخلوط حکومت بنانے کا اعلان
مخلوط حکومتی اتحاد میں اسرائیل میں عرب برادری کی نمائندہ جماعت یونائیٹڈ عرب بھی شامل ہے
مخلوط حکومتی اتحاد میں اسرائیل میں عرب برادری کی نمائندہ جماعت یونائیٹڈ عرب بھی شامل ہے۔ فوٹو : فائل
اسرائیل کی اپوزیشن جماعتوں نے مخلوط حکومت بنانے کا اعلان کیا ہے جس کے بعد نیتن یاہو کی حکومت ختم ہوجائےگی۔
اسرائیلی حزب اختلاف کی 8 جماعتیں مخلوط حکومت کے قیام کے لیے معاہدے پر متفق ہوگئی ہیں جس کے بعد 12 سال سے برسر اقتدار نیتن یاہو کی حکومت ختم ہوجائے گی اور ان کی لیکوئڈ پارٹی سمیت دیگر اتحادی جماعتیں اپوزیشن میں بیٹھیں گی۔
نیتن یاہو نے اپنے بارہ سالہ اقتدار کے خاتمےکے لیے بننے والے اتحاد کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا ہے کہ دائیں بازو کے ارکان پارلیمنٹ کو اقتدار کے لیے اتحاد بنانے سے روکا جائے۔
اس خبر کو بھی پڑھیں : نیتن یاہو کا 12 سال دور اقتدار ختم ہونے کے قریب
حزب اختلاف کے رہنما یائر لاپڈ نے نئی حکومت کے قیام کے لیے 8 جماعتوں کے ساتھ اتحاد بنایا ہے جس میں اسرائیل میں عرب برادری کی نمائندہ جماعت یونائیٹڈ عرب بھی شامل ہے جب کہ مخلوط حکومت کے معاہدہ کی اسرائیلی پارلیمنٹ سے منظوری لازمی ہے جس کے بعد نئی حکومت اور اسرائیلی وزیراعظم اپنے عہدوں کا حلف اٹھا سکیں گے۔
اس خبر کو بھی پڑھیں : اسرائیلی پارلیمنٹ تحلیل، عام انتخابات کا اعلان
اسرائیلی حزب اختلاف کی 8 جماعتیں مخلوط حکومت کے قیام کے لیے معاہدے پر متفق ہوگئی ہیں جس کے بعد 12 سال سے برسر اقتدار نیتن یاہو کی حکومت ختم ہوجائے گی اور ان کی لیکوئڈ پارٹی سمیت دیگر اتحادی جماعتیں اپوزیشن میں بیٹھیں گی۔
نیتن یاہو نے اپنے بارہ سالہ اقتدار کے خاتمےکے لیے بننے والے اتحاد کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا ہے کہ دائیں بازو کے ارکان پارلیمنٹ کو اقتدار کے لیے اتحاد بنانے سے روکا جائے۔
اس خبر کو بھی پڑھیں : نیتن یاہو کا 12 سال دور اقتدار ختم ہونے کے قریب
مارچ میں انتخابات کے بعد اسرائیلی صدر نے وزیراعظم نیتن یاہو کو حکومت بنانے کے لیے 28 دن دیے تھے تاہم ناکامی کی صورت میں حزب اختلاف کے رہنما یائر لاپڈ کو حکومت بنانے کا کہا جس کے بعد یائر لاپڈ نے گزشتہ رات ڈیڈ لائن ختم ہونے سے قبل صدر کو مخلوط حکوت کے قیام سے متعلق آگاہ کیا، معاہدہ کے مطابق دائیں بازوکی جماعت یامینا کے رہنما نفتالی بینٹ پہلے 2 سال کے لیے وزارت عظمیٰ کے منصب پر فائز ہوں گے اور یائر لاپڈ اس عرصے میں وزیر خارجہ کی کرسی سنبھالیں گے جب کہ 2 سال کے بعد دونوں ایک دوسرے سے ذمہ داریاں تبدیل کرلیں گی۔
حزب اختلاف کے رہنما یائر لاپڈ نے نئی حکومت کے قیام کے لیے 8 جماعتوں کے ساتھ اتحاد بنایا ہے جس میں اسرائیل میں عرب برادری کی نمائندہ جماعت یونائیٹڈ عرب بھی شامل ہے جب کہ مخلوط حکومت کے معاہدہ کی اسرائیلی پارلیمنٹ سے منظوری لازمی ہے جس کے بعد نئی حکومت اور اسرائیلی وزیراعظم اپنے عہدوں کا حلف اٹھا سکیں گے۔
اس خبر کو بھی پڑھیں : اسرائیلی پارلیمنٹ تحلیل، عام انتخابات کا اعلان
واضح رہے کہ گزشتہ سال دسمبر میں اسرائیل میں بجٹ منظوری کی ناکامی کے بعد پارلیمنٹ تحلیل کردی گئی تھی جس کے بعد انتخابات میں اسرائیل کے صدر نے انتخابات میں معمولی اکثریت حاصل کرنے والے نیتن یاہو کو نئی حکومت بنانے کی دعوت دی تھی۔