2014 کا آغاز پولیس کیلیے بھیانک ثابت ہوا ابتدائی 19 روز میں ایس ایس پی سمیت 15 اہلکار جاں بحق ہوگئے
شہید اہلکاروں میں ٹریفک پولیس کے 2 افسران بھی شامل، پولیس کسی بھی واقعے میں ملوث قاتلوں کوگرفتار نہیں کرسکی
رواں برس اہلکاروں پر پہلا حملہ پیرآباد میں ہوا،9 جنوری کو خود کش حملے میں چوہدری اسلم اور ان کے 2 ساتھی شہید کردیے گئے۔ فوٹو: فائل
سال 2014 کا آغاز پولیس کے لیے انتہائی بھیانک ثابت ہورہا ہے ، سال کے ابتدائی 19 روز میں ایس ایس پی سمیت 15 اہلکاروں کو شہید کردیا گیا۔
شہدا میں ٹریفک پولیس کے 2 افسران بھی شامل ہیں ، پولیس کسی بھی واقعے میں ملوث مجرموں کو تاحال گرفتار نہیں کرسکی ، تفصیلات کے مطابق رواں سال شہریوں کے جان و مال کے تحفظ پر مامور پولیس اہلکار بھی غیر محفوظ ہوگئے ہیں ، سال 2014 کا آغاز ہی پولیس کے لیے انتہائی بھیانک ثابت ہورہا ہے ،جنوری کے ابتدائی 19 روز میں ایس ایس پی سمیت 16 اہلکاروں کو فائرنگ کرکے شہید کردیا گیا ہے ، رواں برس پولیس اہلکاروں پر پہلا حملہ پیرآباد میں ہوا، 4 جنوری کو پیرآباد میں موٹر سائیکلوں پر سوار نامعلوم ملزمان نے پولیس موبائل پر فائرنگ کردی جس کے نتیجے میں 2 اہلکار لال علیم اور یونس شہید ہوگئے جبکہ اسی روز سچل کے علاقے میں مسلح مجرموں نے ایک پولیس اہلکار محسن کو فائرنگ کرکے شہید کردیا ، 5 جنوری کو بلدیہ ٹائون کے علاقے اتحاد ٹائون میں مدینہ کالونی کی ایک دکان پر فائرنگ اور دستی بموںکے حملے میں 2 پولیس اہلکاروں محمد خان اور عبدالرحیم نے جام شہادت نوش کیا ، 7 جنوری کو نامعلوم افراد نے شاہ لطیف ٹائون میں ایک پولیس اہلکار عبدالخالق کو نشانہ بناکرشہید کردیا ۔
رواں سال کا سب سے خونی واقعہ9 جنوری کو عیسیٰ نگری میں لیاری ایکسپریس وے پر پیش آیا جس میں مبینہ طور پر خود کش حملے میں ایس یس پی سی آئی ڈی چوہدری محمد اسلم اور ان کے 2 ساتھیوں کامران اور فرحان جاں بحق ہوگئے ، 13 جنوری کو اورنگی ٹائون کے علاقے میں انسپکٹر اقبال ملک کو شہید کردیا گیا ، 15 جنوری کو سہراب گوٹھ فلائی اوور کے قریب قائم ٹریفک پولیس کی چوکی میں گھس کر دہشت گردوں نے ٹریفک پولیس کے سب انسپکٹر اللہ دتہ اور اے ایس آئی ولی محمد کو فائرنگ کرکے شہید کر دیا اور موٹر سائیکلوں پر باآسانی فرار ہونے میں کامیاب ہوگئے، اس سے اگلے ہی روز 16 جنوری کو تیموریہ کے علاقے بفرزون میں نامعلوم افراد نے پولیس موبائل پر فائرنگ کردی جس کے نتیجے میں 2 اہلکار جاوید اور آصف شہید ہوگئے ، 19 جنوری کو آرام باغ کے علاقے میں اسنیپ چیکنگ کے دوران پولیس موبائل پر حملے کے نتیجے میں ایک کانسٹیبل محمد نعمان نے جام شہادت نوش کیا،پولیس اہلکاروں کی ہلاکتوں کے باوجود تاحال کسی بھی واقع میں ملوث مجرموں کو پولیس اب تک گرفتار نہیں کرسکی ہے۔
شہدا میں ٹریفک پولیس کے 2 افسران بھی شامل ہیں ، پولیس کسی بھی واقعے میں ملوث مجرموں کو تاحال گرفتار نہیں کرسکی ، تفصیلات کے مطابق رواں سال شہریوں کے جان و مال کے تحفظ پر مامور پولیس اہلکار بھی غیر محفوظ ہوگئے ہیں ، سال 2014 کا آغاز ہی پولیس کے لیے انتہائی بھیانک ثابت ہورہا ہے ،جنوری کے ابتدائی 19 روز میں ایس ایس پی سمیت 16 اہلکاروں کو فائرنگ کرکے شہید کردیا گیا ہے ، رواں برس پولیس اہلکاروں پر پہلا حملہ پیرآباد میں ہوا، 4 جنوری کو پیرآباد میں موٹر سائیکلوں پر سوار نامعلوم ملزمان نے پولیس موبائل پر فائرنگ کردی جس کے نتیجے میں 2 اہلکار لال علیم اور یونس شہید ہوگئے جبکہ اسی روز سچل کے علاقے میں مسلح مجرموں نے ایک پولیس اہلکار محسن کو فائرنگ کرکے شہید کردیا ، 5 جنوری کو بلدیہ ٹائون کے علاقے اتحاد ٹائون میں مدینہ کالونی کی ایک دکان پر فائرنگ اور دستی بموںکے حملے میں 2 پولیس اہلکاروں محمد خان اور عبدالرحیم نے جام شہادت نوش کیا ، 7 جنوری کو نامعلوم افراد نے شاہ لطیف ٹائون میں ایک پولیس اہلکار عبدالخالق کو نشانہ بناکرشہید کردیا ۔
رواں سال کا سب سے خونی واقعہ9 جنوری کو عیسیٰ نگری میں لیاری ایکسپریس وے پر پیش آیا جس میں مبینہ طور پر خود کش حملے میں ایس یس پی سی آئی ڈی چوہدری محمد اسلم اور ان کے 2 ساتھیوں کامران اور فرحان جاں بحق ہوگئے ، 13 جنوری کو اورنگی ٹائون کے علاقے میں انسپکٹر اقبال ملک کو شہید کردیا گیا ، 15 جنوری کو سہراب گوٹھ فلائی اوور کے قریب قائم ٹریفک پولیس کی چوکی میں گھس کر دہشت گردوں نے ٹریفک پولیس کے سب انسپکٹر اللہ دتہ اور اے ایس آئی ولی محمد کو فائرنگ کرکے شہید کر دیا اور موٹر سائیکلوں پر باآسانی فرار ہونے میں کامیاب ہوگئے، اس سے اگلے ہی روز 16 جنوری کو تیموریہ کے علاقے بفرزون میں نامعلوم افراد نے پولیس موبائل پر فائرنگ کردی جس کے نتیجے میں 2 اہلکار جاوید اور آصف شہید ہوگئے ، 19 جنوری کو آرام باغ کے علاقے میں اسنیپ چیکنگ کے دوران پولیس موبائل پر حملے کے نتیجے میں ایک کانسٹیبل محمد نعمان نے جام شہادت نوش کیا،پولیس اہلکاروں کی ہلاکتوں کے باوجود تاحال کسی بھی واقع میں ملوث مجرموں کو پولیس اب تک گرفتار نہیں کرسکی ہے۔