امریکی امداد شکیل آفریدی کیس سے مشروط کرنا قابل افسوس ہے ترجمان دفتر خارجہ

شکیل آفریدی نے پاکستان کی قوانین کی خلاف ورزی کی اور اس پر پاکستانی قوانین کے تحت مقدمہ چلایا جا رہا ہے، ترجمان

پاکستان اور امریکا قریبی تعاون پر مبنی تعلقات کے لئے کوشاں ہیں تاہم امداد کو اس کیس سے مشروط کرنا باہمی تعاون کی روح کے منافی ہے، ترجمان دفتر خارجہ فوٹو: فائل


دفتر خارجہ کی ترجمان تسنیم اسلم کا کہنا ہے کہ امریکی کانگریس کی جانب سے پاکستان کے لئے 33 ملین ڈالر کی امداد کو شکیل آفریدی کیس سے مشروط کرنا قابل افسوس ہے۔


ترجمان دفتر خارجہ نے امریکی کانگریس کی جانب سے پاکستان کی امداد مشروط کرنے کے بل کی منظوری پر ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کی امداد کو شکیل آفریدی کیس سے منسلک کرنا درست نہیں، شکیل آفریدی پر پاکستانی قوانین کے تحت مقدمہ چلایا جا رہا ہے کیونکہ اس نے پاکستان کی قوانین کی خلاف ورزی کی اور اس کے اس اقدام سے پاکستان میں پولیو مہم متاثر ہوئی۔ انہوں نے امداد شکیل آفریدی کی رہائی سے مشروط کرنے کو مایوس کن قرار دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان اور امریکا قریبی تعاون پر مبنی تعلقات کے لئے کوشاں ہیں تاہم امداد کو اس کیس سے مشروط کرنا باہمی تعاون کی روح کے منافی ہے۔

Load Next Story