گٹھیا کے مریض بوڑھی پینگوئن کو خاص جوتے پہنادیئے گئے
سینٹ لوئی چڑیا گھر کی بوڑھی پینگوئن ’اینرِک‘ کی عمر 30 برس سے زائد ہے اور یہ جوتے پہننے کے بعد سکون میں ہے
تصویر میں سینٹ لوئی کا پینگوئن نیا جوتا پہنے دکھائی دے رہا ہے۔ فوٹو: بشکریہ فوکس نیوز
بوڑھا ہونا بھی کئی مسائل اپنے ساتھ لاتا ہے اور جانور بھی اس سے محفوظ نہیں۔ میسوری کے ایک چڑیا گھر میں عمررسیدہ پینگوئن کی ٹانگوں کو سکون پہنچانے کے لیے اسے خاص ڈیزائن شدہ جوتے پہنادیئے ہیں جو گٹھیا کا مریض بن چکا تھا۔
سسسسیہ سدرن راک ہاپرنسل سے تعلق رکھتا ہے اور اپنی طبعی عمر سے زائد عرصے تک زندہ رہا ہے کیونکہ ابھی اس کی عمر 30 برس سے بھی زائد ہے حالانکہ وہ قدرتی ماحول میں دس برس تک ہی زندہ رہتے ہیں۔ سینٹ لوئی چڑیا گھر میں اسے 2016 میں لایا گیا تھا۔ پھر چند سال قبل دھیرے دھیرے اس کے پیروں میں گٹھیا کی تکلیف پیدا ہوئی جو ہرسال بڑھ رہی تھی۔
پینگوئن کی بیماریوں کے ماہر ین نے دیکھا کہ اس کے پیروں کے تلووں میں کھال موٹی اور بڑی ہورہی ہے جو اس مرض کی اہم علامت ہے۔ اس پر کئی مرہم اور دوائیں لگائی گئیں لیکن خاص فائدہ نہیں ہوا۔ اس کے بعد چڑیا گھر کے ڈاکٹر جِمی جانسن نے اسے خاص جوتے پہنانے کے تجویز پیش کی کیونکہ اس سے قبل وہ ایک بیمار ہنس کو جوتے پہنا چکے تھے۔
ڈاکٹر جمی نے نیوجرسی کی ایک کمپنی تھیرا پا سے پینگوئن کے لیے جوتا سازی کی درخواست کی اور اکتوبر 2020 میں اس کے جوتے تیار ہوکر آچکے تھے ۔ یہ پٹیوں والے جوتے ہیں جن کے نیچے سرخ اور سیاہ گرپ نما مٹیریئل لگایا گیا ہے۔ دن کے وقت یہ پینگوئن کو لگادیئے جاتے ہیں اور رات کو انہیں اتاردیا جاتا ہے۔
ڈاکٹروں نے نوٹ کیا کہ اس طرح اینرک کے چلنے میں تیزی آئی اور دوائیوں میں بھی کمی واقع ہوئی ہے۔
سسسسیہ سدرن راک ہاپرنسل سے تعلق رکھتا ہے اور اپنی طبعی عمر سے زائد عرصے تک زندہ رہا ہے کیونکہ ابھی اس کی عمر 30 برس سے بھی زائد ہے حالانکہ وہ قدرتی ماحول میں دس برس تک ہی زندہ رہتے ہیں۔ سینٹ لوئی چڑیا گھر میں اسے 2016 میں لایا گیا تھا۔ پھر چند سال قبل دھیرے دھیرے اس کے پیروں میں گٹھیا کی تکلیف پیدا ہوئی جو ہرسال بڑھ رہی تھی۔
پینگوئن کی بیماریوں کے ماہر ین نے دیکھا کہ اس کے پیروں کے تلووں میں کھال موٹی اور بڑی ہورہی ہے جو اس مرض کی اہم علامت ہے۔ اس پر کئی مرہم اور دوائیں لگائی گئیں لیکن خاص فائدہ نہیں ہوا۔ اس کے بعد چڑیا گھر کے ڈاکٹر جِمی جانسن نے اسے خاص جوتے پہنانے کے تجویز پیش کی کیونکہ اس سے قبل وہ ایک بیمار ہنس کو جوتے پہنا چکے تھے۔
ڈاکٹر جمی نے نیوجرسی کی ایک کمپنی تھیرا پا سے پینگوئن کے لیے جوتا سازی کی درخواست کی اور اکتوبر 2020 میں اس کے جوتے تیار ہوکر آچکے تھے ۔ یہ پٹیوں والے جوتے ہیں جن کے نیچے سرخ اور سیاہ گرپ نما مٹیریئل لگایا گیا ہے۔ دن کے وقت یہ پینگوئن کو لگادیئے جاتے ہیں اور رات کو انہیں اتاردیا جاتا ہے۔
ڈاکٹروں نے نوٹ کیا کہ اس طرح اینرک کے چلنے میں تیزی آئی اور دوائیوں میں بھی کمی واقع ہوئی ہے۔