قومی اتفاق رائے کی ضرورت

حکومت نے اب مذاکرات سے ہٹ کر آخری آپشن یعنی آپریشن کی لائن پر سوچنا شروع کر دیا ہے

حکومت نے اب مذاکرات سے ہٹ کر آخری آپشن یعنی آپریشن کی لائن پر سوچنا شروع کر دیا ہے. فوٹو: رائٹرز/فائل

KARACHI:
ملکی فضا میں بدامنی کی چادر پھیلتی نظر آ رہی ہے اور گزشتہ چند دنوں سے شرپسندوں نے اپنی کارروائیوں میں جارحانہ اضافہ کر دیا ہے، دوسری جانب پاک فوج کی طرف سے بھی انتہا پسندوں کے خلاف کارروائی بروئے کار لائی گئی ہے۔ اس واقعے کے بعد حکومت اور طالبان کے درمیان مذاکرات میں ثالث کا کردار ادا کرنے والے مولانا سمیع الحق نے حکومت طالبان مذاکرات سے مایوس ہو کر مذاکراتی عمل سے علیحدگی کا اعلان کر دیا ہے۔ تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان جو اب تک مذاکرات کے حامی تصور کیے جاتے تھے، نے اپنے موقف میں نرمی اختیار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ظلم کے خلاف فوج کے ساتھ ہیں، آپریشن کا فیصلہ ہو چکا تو تمام سیاسی جماعتوں کو اعتماد میں لیا جائے، لگتا ہے ملک ایک بار پھر فوجی آپریشن کی جانب بڑھ رہا ہے، حکومت طالبان سے بات چیت میں ناکام اور دشمن اپنے مشن میں کامیاب ہو گئے ہیں۔ ناقدین حکومت پر اعتراض کر رہے ہیں کہ 7 ماہ بعد بھی اس کی حکمت عملی واضح نہیں، طالبان کے حملوں کے بعد لگتا ہے سیکیورٹی فورسز کو محدود آپریشن کی غیر رسمی اجازت مل گئی ہے، اسی لیے ان کی جوابی کارروائیاں بھی نظر آ رہی ہیں۔


ذرایع کا کہنا ہے کہ حکومت نے اب مذاکرات سے ہٹ کر آخری آپشن یعنی آپریشن کی لائن پر سوچنا شروع کر دیا ہے اور اس کا اشارہ وزیر دفاعی پیداوار رانا تنویر حسین نے میڈیا سے گفتگو میں دیا۔ اب فیصلہ طالبان کے خلاف آپریشن ہو یا مذاکرات؟ لیکن یہ حقیقت ہے کہ اس ضمن میں کسی سیاسی جماعت کو اعتماد میں لیا گیا ہے نہ اے پی سی دوبارہ بلائی گئی ہے۔ یہ اطلاعات بھی سامنے آ رہی ہیں کہ وزیر اعظم اس حوالے سے رائے عامہ کو بھی سامنے رکھیں گے۔ طالبان حملوں کی صورت میں مذاکرات کی پیشکش پہلے ہی مسترد کر چکے ہیں اور ثالثوں کا بھی پیچھے ہٹنا صورتحال کی واضح عکاسی کر رہا ہے۔ اس تمام منظر نامے میں ضروری محسوس ہوتا ہے کہ عوام اور تمام سیاسی پارٹیوں کو اعتماد میں لیا جائے اور انتہا پسندوں کے خلاف کسی بھی قسم کی کارروائی یا مذاکرات پر قومی اتفاق رائے قائم کیا جائے۔
Load Next Story