ادویات کی قیمتیں مستحکم رکھی جائیں

نئی قیمتوں کا اطلاق کر کے ادویات کو مارکیٹ میں سپلائی کرنا شروع کر دیا گیا ہے


Editorial January 24, 2014
نئی قیمتوں کا اطلاق کر کے ادویات کو مارکیٹ میں سپلائی کرنا شروع کر دیا گیا ہے. فائل فوٹو

KARACHI: اخباری اطلاعات کے مطابق ملکی اور غیر ملکی فارماسیوٹیکل کمپنیوں کی طرف سے ہر قسم کی ادویات کی قیمتوں میں 25 فیصد اضافہ کر دیا گیا ہے۔ اس بڑھتی ہوئی مہنگائی میں جہاں غریب کے لیے روزہ مرہ کی اشیائے ضروریہ خریدنا استطاعت سے باہر ہوتا جا رہا ہے وہاں علاج معالجے کی بگڑتی صورتحال اور مہنگی ادویات جینے کا حق بھی چھین رہی ہیں۔ بھارت میں دوائیاں سستی ہیں، حکومت اگر بھارت سے بجلی خرید سکتی ہے تو ادویات کی خریداری میں کیا امر مانع ہو سکتا ہے جب کہ پاکستان میں ملٹی نیشنل کمپنیوں سمیت ملکی و دیگر کمپنیوں نے اپنی ادویات کی قیمتوں میں اضافہ کر دیا ہے۔ ان ادویات کی قیمتوں میں اضافہ عوام کے لیے سخت آزار کا باعث ثابت ہو گا۔

یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ اس سے قبل بھی ادویات بنانے والی کمپنیوں نے قیمتوں میں اضافہ کیا تھا جس کا اعلان کیا گیا تھا لیکن حکومت کی طرف سے انھیں قیمتوں میں اضافہ کرنے سے روک دیا گیا لیکن اس مرتبہ کمپنیوں نے قیمتوں میں اضافے کے لیے کسی بھی قسم کا اعلان نہیں کیا بلکہ متعلقہ محکموں اور محکمہ صحت کے افسران سے ملی بھگت کر کے قیمتوں میں اضافے کی اجازت لے لی اور بغیر اعلان کیے قیمتوں میں اضافہ کر دیا گیا۔ ایک اطلاع کے مطابق نئی قیمتوں کا اطلاق کر کے ادویات کو مارکیٹ میں سپلائی کرنا شروع کر دیا گیا ہے۔ اس وقت قیمتوں کے تعین اور ادویات کے معیار کے حوالے سے کوئی چیک اینڈ بیلنس نہیں ہے۔ ملک بھر میں فروخت ہونے والی تمام ادویات کی قیمتوں میں 15 سے 25 فیصد تک اضافہ کیا گیا ہے جس کی خاموشی کے ساتھ منظوری لی گئی جب کہ محکمہ صحت نے بھی قیمتوں میں اضافے کا اعلان نہیں کیا۔ یہ تمام تر صورت حال نہایت مایوس کن ہے۔ عوام کو صحت اور علاج معالجے کی سہولیات فراہم کرنا حکومت کی ذمے داری ہے۔ بڑھتی ہوئی مہنگائی کے دور میں ادویات کی قیمتوں میں استحکام رکھنا از حد ضروری ہے۔

مقبول خبریں