آپ کبھی مسکراتی نہیں؛ ٹرمپ کی خاتون صحافی سے نوک جھونک کی ویڈیو وائرل

سی این این کی صحافی نے صدر ٹرمپ سے بدنام زمانہ جنسی اسکینڈل سے متعلق سوال کیا تھا


ویب ڈیسک February 04, 2026
ٹرمپ کی سی این این کی خاتون صحافی سے نوک جھونک کی ویڈیو وائرل

بدنام زمانہ جنسی اسکینڈل ایپسٹین سے متعلق سوال پر صدر ٹرمپ طیش میں آگئے اور الٹا سوال کرنے والی رپورٹر کو ہی جھڑک دیا۔

امریکی نشریاتی ادارے کے مطابق اوول آفس کی ایک تقریب جس میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ اپنی حکومتی کامیابیاں گنوا رہے تھے۔ غیر متوقع طور رونما ہونے والے واقعے کی نذر ہوگئی۔

اس موقع پر نشریاتی ادارے سی این این کی خاتون نامہ نگار کیٹلین کولنز نے ایپسٹین جنسی اسکینڈل سے متعلق دستاویزات اور متاثرین کو انصاف کی فراہمی سے متعلق سوالات اٹھائے۔

خاتون صحافی نے برملہ نشاندہی کی کہ ایپسٹین فائلز میں سامنے آنے والی معلومات کو صرف ڈیموکریٹس کے خلاف پیش کرنا درست نہیں کیونکہ ان دستاویزات میں ٹرمپ کے قریبی حلقے کے بعض افراد کے نام بھی سامنے آئے ہیں۔

جواب میں ٹرمپ نے کندھے اچکاتے ہوئے کہا کہ میں نے وہ ای میلز نہیں پڑھیں اور یہ کہ اگر اُن میں کوئی بڑی بات ہوتی تو بڑی بڑی سرخیاں بن جاتیں۔

جس پر صحافی کیٹلین کولنز نے کہا کہ ایپسٹین کے ہاتھوں متاثر ہونے والی خواتین اس بات پر ناخوش ہیں کہ آپ کے محکمہ انصاف نے دستاویز میں سے کئیوں کی شناخت چھپانے کے لیے انھیں سیاہ کر دیے ہیں۔

صدر ٹرمپ نے گفتگو سمیٹنے کی کوشش کرتے ہوئے کہا کہ میرا خیال ہے اب ملک کو کسی اور چیز کی طرف بڑھ جانا چاہیے خاص طور پر جب میرے بارے میں کچھ نہیں نکلا۔

امریکی صدر نے اسی پر بس نہیں کی بلکہ خاتون صحافی کیٹلین کولنز پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ آپ بدترین رپورٹر ہیں، میں نے آپ کو کبھی مسکراتے نہیں دیکھا، آپ سچ نہیں بول رہیں اور آپ کا ادارہ بے حد غیر دیانت دار ہے۔

جس پر خاتون صحافی کولنز نے جواب دیا کہ جناب صدر میں ایپسٹین جنسی اسکینڈل کے متاثرین کے بارے میں سوال پوچھ رہی ہوں۔

تاہم صدر ٹرمپ نے سنی ان سنی کرتے ہوئے اپنا رخ موڑ لیا اور دوسرے رپورٹر کو سوال کرنے کا موقع دے دیا جس سے موضوع بدل گیا۔

بعد ازاں وائٹ ہاؤس کے سوشل میڈیا اکاؤنٹ پر اس مکالمے کی ویڈیو شیئر کی گئی اور دعویٰ کیا گیا کہ صدر نے رپورٹر کو سخت جواب دیا۔

یاد رہے کہ صدر ٹرمپ ماضی میں ایپسٹین کے ساتھ سماجی میل جول کا اعتراف کر چکے ہیں اور 2002 میں انہوں نے کہا تھا کہ ایپسٹین دلچسپ شخصیت ہیں اور خوبصورت خواتین کو پسند کرتا ہے۔

جیفری ایپسٹین نامی یہ شخص بعد ازاں جنسی جرائم کے الزامات میں گرفتار ہوا اور 2019 میں جیل میں مردہ پایا گیا تھا۔

ٹرمپ کی صحافیوں سے نوک جھونک کی طویل تاریخ

ٹرمپ کے دونوں ادوارِ صدارت میں میڈیا کے ساتھ تکرار ایک مستقل موضوع رہا ہے۔

2017 میں CNN کے رپورٹر جم ایکوسٹا کے ساتھ تند و تیز جملوں کا تبادلہ، جس کے بعد ان کی پریس پاس عارضی طور پر معطل کی گئی۔

اگلے ہی برس یعنی 2018 میں بھی ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک خاتون رپورٹر کے سوال کو “بیہودہ” قرار دے کر پریس کانفرنس ادھوری چھوڑ دی۔

اسی طرح 2020 میں کیٹلین کولنز ہی کے ساتھ ایک بریفنگ میں تلخ جملوں کے بعد ٹرمپ اچانک واک آؤٹ کر گئے تھے۔

علاوہ ازیں متعدد مواقع پر ٹرمپ میڈیا کو فیک نیوز کا مرکز اور عوام کا دشمن قرار دیتے رہے ہیں۔

سوشل میڈیا پر ٹرمپ کے حامیوں میں ان کا یہ جارحانہ انداز مقبول ضرور رہا ہے لیکن سنجیدہ حلقوں میں اسے آزادیٔ صحافت اور شفافیت کے لیے تشویشناک سمجھا جاتا ہے۔

 

مقبول خبریں