حکومت، سیاست، مسلح جدوجہد؛ پرُخار راہوں میں مارے جانے والا سیف الاسلام قذافی

پھانسی گھاٹ سے رہائی سے قاتل گولی کا نشانہ بننے تک؛ معمر قذاقی کے بیٹے کی داستان


ویب ڈیسک February 04, 2026
54 سالہ سیف الاسلام قذافی کو قتل کردیا گیا

لیبیا کے مقبول ترین لیڈر معمر قذاقی مبینہ بیرونی مداخلت اور اندرونی خلفشار کے باعث بیدردی سے اور کسمپرسی سے بھرپور روپوشی میں قتل کردیئے گئے تھے ان کے بیٹے کا انجام بھی کچھ مختلف نہ ہوا۔ 

سیف الاسلام قذافی کو مغربی لیبیا کے شہر زنتان میں قتل کر دیا گیا ہے۔ وہ ایک ایسی پُراسرار گولی کا نشانہ بنے جس کا ابھی سراغ لگایا جا رہا ہے اور شاید یہ گتھی کبھی نہ سلجھ پائے۔

گو ان کی سیاسی ٹیم نے دعویٰ کیا کہ 4 نقاب پوش افراد نے 53 سالہ رہنما سیف الاسلام قذافی کے گھر میں گھس کر انہیں قتل کیا۔

2011 کی بغاوت کے بعد سے زیادہ تر وقت زنتان ہی میں گزارا۔ وہ اپنے والد کے دور میں بھی طاقتور شخصیت تھے اور اب بھی انھیں آئندہ کا حکمراں سمجھا جا رہا تھا۔

اقتدار کے وارث سے مطلوب ملزم تک

سیف الاسلام قذافی لیبیا کے حکمراں معمر قذافی کے دوسرے بیٹے تھے اور 2011 میں حکومت پلٹ بغاوت سے پہلے انہیں لیبیا کا سب سے بااثر شخص تصور کیا جاتا تھا۔

عرب بہار کے دوران جب لیبیا خانہ جنگی کی لپیٹ میں آیا تو وہ اپنے والد کی حکومت کے دفاع میں پیش پیش رہے۔ اسی دوران ان پر مخالفین کے خلاف تشدد اور بدسلوکی کے سنگین الزامات عائد ہوئے۔

فروری 2011 تک ان کا نام اقوام متحدہ کی پابندیوں کی فہرست میں شامل ہو چکا تھا اور ان پر سفری پابندی لگ گئی تھی۔ جون 2011 میں عالمی فوجداری عدالت (ICC) نے بھی ان کے خلاف وارنٹ گرفتاری جاری کیا۔

نیٹو بمباری اور گرفتاری

مارچ 2011 میں اقوام متحدہ کی اجازت کے بعد نیٹو نے لیبیا میں فضائی کارروائیاں شروع کیں۔ اسی دوران سیف الاسلام نے اعلان کیا تھا کہ اگر ان کے والد انتخابات میں کامیاب نہ ہوئے تو اقتدار چھوڑنے پر آمادہ ہیں تاہم یہ پیشکش مسترد کر دی گئی۔

اکتوبر 2011 میں معمر قذافی اور ان کے بیٹے معتصم کی ہلاکت کے بعد سیف الاسلام روپوش رہے لیکن بعد ازاں زنتان میں گرفتار کر لیے گئے۔

مقدمہ، سزائے موت اور رہائی

سیف الاسلام کو لیبیا میں ہی جنگی جرائم کے مقدمات کا سامنا کرنا پڑا۔ 2015 میں طرابلس کی عدالت نے انہیں عدم موجودگی میں سزائے موت سنائی۔

تاہم 2017 میں زنتان پر قابض ملیشیا نے مشرقی لیبیا کی جانب سے جاری عام معافی کے تحت انہیں رہا کر دیا اگرچہ یہ فیصلہ عالمی طور پر تسلیم شدہ نہیں تھا اور عالمی فوجداری عدالت بدستور انہیں مطلوب قرار دیتی رہی۔

سیاست میں واپسی کی کوشش

رہائی کے کئی برس بعد تک منظرِ عام سے غائب رہنے کے بعد سیف الاسلام نے 2021 میں اچانک دوبارہ سیاست میں قدم رکھا اور صدارتی انتخابات میں حصہ لینے کے لیے کاغذات نامزدگی جمع کرائے۔

ابتدا میں انہیں نااہل قرار دیا گیا لیکن پھر کاغذات نامزدگی کو قبول کرلیا گیا اور انھوں نے بھی بھرپور تیاریاں شروع کیں تاہم لیبیا کی سیاسی افراتفری کے باعث انتخابات ہی نہ ہو سکے۔

اسی برس ایک انٹرویو میں انہوں نے کہا تھا کہ لیبیا کی موجودہ قیادت انتخابات سے خوف زدہ ہے۔ اس لیے وہ عوام سطح پر اپنا پیغام پہنچانے کے لیے کام کررہے ہیں۔

اصلاح پسند چہرہ

مغرب سے تعلیم یافتہ اور نرم گفتار شخصیت ہونے کے باعث سیف الاسلام کو اصلاح پسند رہنما سمجھا جاتا ہے۔

انھوں نے 2008 میں لندن اسکول آف اکنامکس سے پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کی۔ ان کا مقالہ عالمی حکمرانی میں سول سوسائٹی کے کردار سے متعلق تھا۔

2000 سے 2011 تک انہوں نے لیبیا کے مغرب کے ساتھ تعلقات بہتر بنانے میں کلیدی کردار ادا کیا۔

وہ جوہری پروگرام سے متعلق مذاکرات، لاکربی بم دھماکے کے متاثرین کو معاوضے اور برلن نائٹ کلب و یو ٹی اے فلائٹ 772 جیسے معاملات میں بھی سرگرم رہے۔

انہوں نے بلغاریہ کے پانچ طبی عملے سمیت چھ غیر ملکی طبی کارکنوں کی رہائی میں کردار ادا کیا جن پر لیبیا میں بچوں کو ایچ آئی وی منتقل کرنے کا الزام تھا۔

فلسطین اسرائیل تنازع کا حل پیش کیا 

سیف الاسلام نے “اسراطین” کے نام سے فلسطین اسرائیل تنازع کے حل کے لیے ایک سیکولر یک ریاستی حل کی تجویز بھی پیش کی تھی۔ انہوں نے فلپائن میں مورو اسلامک لبریشن فرنٹ اور حکومت کے درمیان امن مذاکرات میں بھی کردار ادا کیا تھا۔

تاہم ان کی مغربی تعلیمی اور سفارتی سرگرمیوں کے باوجود، 2011 کی خانہ جنگی کے دوران ان پر عائد الزامات اور بعد ازاں عدالتی کارروائیاں ان کی ساکھ پر ہمیشہ بھاری رہیں۔

سیاست میں کامیابی کا خواب قتل ہوگیا 

اصلاح پسند سیف الاسلام  اپنے والد معمر قذافی کے حامیوں کے لیے امید کی علامت تھے جبکہ مخالفین انھیں ماضی کی آمریت کی ناقیات سمجھتے تھے۔

زنتان میں ان کا قتل لیبیا کی غیر مستحکم سیاست میں ایک اور اہم موڑ سمجھا جا رہا ہے جس سے خانہ جنگی اور بحران کا دور مزید طویل اور کٹھن تر ہونے کا امکان ہے۔

 

مقبول خبریں