مزاحمت یا مفاہمت

سیاست کو دشمنی میں بدلنے والے ناعاقبت اندیش وزیر اعظم کو سمجھانے کی کوشش کی گئی تھی


محمد سعید آرائیں February 05, 2026
[email protected]

بانی پی ٹی آئی نے اقتدار سے محرومی کے بعد خود اپنی مخالف حکومت کے خلاف مزاحمت کی جو سیاست شروع کی تھی وہ ان کی گرفتاری اور طویل سزاؤں کے بعد ان کی اپنی ہدایت پر پی ٹی آئی کے بعض رہنماؤں نے جاری رکھی ہوئی ہے جب کہ اکثر رہنما اس مزاحمتی سیاست کے خلاف مگر مجبور ہیں کیونکہ بانی ان کی نہیں سنتے اور وہ سمجھتے ہیں کہ مزاحمت ہوگی تو ہی مفاہمت ہوگی۔

سابق وزیر اعظم نواز شریف کی صاحبزادی نے اپنی والدہ کی وفات، اپنے والد کے سامنے بانی پی ٹی آئی کی حکومت میں اپنی گرفتاری، قید اور حکومتی مظالم کے خلاف ہی جب مزاحمتی سیاست شروع کی تھی۔ 

اس وقت بھی بانی کے مطابق اسٹیبلشمنٹ اور حکومت ایک پیج پر تھے اور مریم نواز کا کہنا تھا کہ مزاحمت ہوگی تو ہی حکومت مفاہمت پر مجبور ہوگی مگر ایسا نہیں ہوا تھا بلکہ سابق وزیر اعظم تحریک انصاف تو شریف فیملی کو اپنا سیاسی مخالف نہیں بلکہ خود ان کے دشمن بنے ہوئے تھے اور اس وجہ سے وہ انتہا پر چلے گئے تھے۔

سیاست کو دشمنی میں بدلنے والے ناعاقبت اندیش وزیر اعظم کو سمجھانے کی کوشش کی گئی تھی کہ وہ اعتدال میں رہیں۔

بانی تحریک انصاف کو سیاستدانوں کا مذاق نہ اڑانے کا مشورہ دیا گیا تھا مگر پہلی بار اقتدار میں آنے والے وزیر اعظم نے یہ مشورہ ماننے سے انکار کرتے ہوئے ایک جلسے میں خود یہ بتایا تھا اور کہا تھا کہ میں چور، ڈاکو کو چور ڈاکو کیوں نہ کہوں اور وہ مخالفین پر تنقید سے بھی باز نہیں آئے تھے اور اقتدار سے محرومی کے بعد قدرت نے ان کا غرور خاک میں ملا دیا اور بانی اپنے رہنماؤں کو مولانا کے در پر بار بار بھیجنے پر مجبور ہوئے اور جس محمود خان اچکزئی کا جلسوں میں مذاق اڑایا کرتے تھے تو یہ وقت بھی آیا کہ انھیں یہاں بھی جھکنا پڑا۔ 

اسی محمود خان کو قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر کا اہل سمجھ کر اپوزیشن لیڈر بنانے پر مجبور ہونا پڑا۔ انھیں اپنی پارٹی میں اس عہدے کے لائق کوئی نظر نہیں آیا تھا۔

محمود خان اچکزئی کو اتنا اہم عہدہ دینا بانی کی مجبوری تھی یا مفاہمت کی مصلحت یہ تو آنے والا وقت ہی بتائے گا مگر لگتا ہے کہ وہ بھی کسی نہ کسی طرح مفاہمت کی طرف شاید راغب ہو رہے ہیں کیونکہ انھیں مزاحمت کی پالیسی کی ناکامی نظر آگئی تھی جس کا حالیہ ثبوت یہ ہے کہ انھیں نظر آگیا ہے کہ ان کے چاہنے والے انھیں ووٹ دینے تو باہر نکلتے ہیں مگر ان کے لیے احتجاج کرنے سڑکوں پر آنے کو تیار نہیں ہیں اور انھوں نے سڑکوں پر نہ آ کر بتا دیا ہے کہ وہ بھی مزاحمت نہیں مفاہمت کے خواہش مند ہیں۔

پی ٹی آئی کی مزاحمتی پالیسی کا حالیہ ثبوت یہ ہے کہ ہر منگل کو اڈیالہ میں بانی کی رہائی کے لیے بانی کی بہنیں جو احتجاج کراتی ہیں اس میں پی ٹی آئی کے ارکان اسمبلی، عہدیدار تک شرکت نہیں کرتے صرف چند سو کارکن ضرور آ جاتے ہیں۔

سخت سردی میں چند سو کارکن احتجاج میں شریک ہوتے ہیں وہ سیاسی شعور سے زیادہ بانی کی محبت میں اڈیالہ آ جاتے ہیں اور بار بار کی کوشش کے باوجود پی ٹی آئی دس ہزار کارکن تو دور کی بات ایک ہزار کارکنوں کو بھی اڈیالہ نہیں لا سکی جو اس کی مزاحمتی پالیسی کی ناکامی کا واضح ثبوت ہے۔

پی ٹی آئی اور تحریک تحفظ آئین نے 8 فروری کو ملک میں یوم سیاہ منانے کا فیصلہ کیا ہے ، جان بوجھ کر اتوار کے دن رکھا گیا ہے جس دن ہول سیل مارکیٹیں اور شاپنگ مال اور ہزاروں دکانیں اپنی ہفتہ وار تعطیل کے باعث بند ہوتی ہیں اور سڑکوں پر پبلک ٹرانسپورٹ کم ہوتی ہے اور ضرورت مند شام یا رات کو ہی گھروں سے باہر نکلتے ہیں۔

8 فروری کا یوم سیاہ یوں تو 8 فروری 2024 کے انتخابات میں مبینہ دھاندلی کے خلاف بلکہ بانی کی رہائی کی کوششوں کے لیے ہیں تاکہ پی ٹی آئی اپنی سیاسی طاقت اور بانی کی رہائی کے لیے پاور شو کے طور پر کر رہی ہے اور صرف کے پی میں نئے وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی جو عشق بانی پی ٹی آئی میں مبتلا ہیں اپنے صوبے میں اسٹریٹ پاور دکھانے کی کوشش کر رہے ہیں وہاں اپنی حکومت کے باوجود بھرپور جلسے نہیں ہو رہے اور ارکان اسمبلی تک وزیر اعلیٰ کی کال پر کارکنوں کو سڑکوں پر نہیں لا پا رہے۔

بانی نے دو سال قبل ہونے والے انتخابات کے نتیجے میں جارحیت دکھانے والے علی امین گنڈا پور کو وزیر اعلیٰ مقرر کیا تھا جو سہیل آفریدی کی طرح عشق بانی میں جان دینے کے دعوے کرنے کی بجائے بظاہر مزاحمت اور اندرونی طور پر مفاہمت کی پالیسی پر عمل پیرا تھے جن کی پالیسی اور حقائق جانے بغیر کے پی کا وزیر اعلیٰ تبدیل کرایا جو اب تک تو کچھ نہیں کر پایا اور اپنے سخت بیانات سے مزید حالات بگاڑنے میں مصروف ہیں۔

اب بھی (ن) لیگی حکومت ایک پیج پر ہونے کے دعوے کر رہی ہے اور وزیر اعظم شہباز شریف نے پہلی بار برملا تسلیم کیا ہے کہ ملکی ترقی کے لیے سیاسی و عسکری قیادت مل کر فیصلے کر رہی ہے جس کے نتیجے میں آج معیشت ترقی کی راہ پر گامزن ہے۔

8 فروری کا یوم سیاہ اگر صرف کے پی میں اپنی حکومت کے باعث کامیاب اور باقی تین صوبوں میں ناکام رہا تو بانی اور ان کی پارٹی کے ملک کی سب سے بڑی پارٹی ہونے کا پول کھل جائے گا جس سے حکومت کو فائدہ ہوگا اور مفاہمت کے برعکس مزاحمت کی پالیسی مزید ناکام ثابت ہو جائے گی اس لیے بہتر ہے کہ بانی بھی اپنی مزاحمتی پالیسی بدلیں کیونکہ وقت بدل چکا شریف فیملی کو بھی اپنی پالیسی بدلنا پڑی تھی اور ووٹ کو عزت دو کا نعرہ ناکام ہو چکا تھا۔

مقبول خبریں