تحریک انصاف کی سیاست کا ایک بڑا نقطہ یہی رہا ہے کہ وہ ملک کی دیگر سیاسی جماعتوں کے ساتھ ایک میز پر بیٹھنے کے لیے تیار نہیں ہوتی۔ ایسا اب نہیں ہے۔ حتیٰ کے جب تحریک انصاف اقتدار میں تھی تب بھی بانی تحریک انصاف بطور وزیر اعظم اپوزیشن کے ساتھ نہ تو ملنے کے لیے تیار تھے اور نہ ہی ساتھ ایک میز پر بیٹھنے کے لیے تیار تھے۔
ایسا بھی موقع آیا کہ اہم ملکی معاملات کی بریفنگ کے لیے آرمی چیف تو موجود تھے لیکن بانی تحریک انصاف ساتھ والے کمرے میں بیٹھے رہے۔ بریفنگ والے کمر ے میں نہیں آئے۔ اس سے ان کے اور ان کی مخالف سیاسی جماعتوں کے درمیان فاصلے بڑھے اور ڈیڈ لاک بھی قائم ہوا۔
یہی پالیسی انھوں نے اقتدار سے ہٹنے کے بعد بھی جاری رکھی۔ وہ مسلسل کہتے رہے کہ ہم اسٹبلشمنٹ سے تو بات کرنے کے لیے تیار ہیں لیکن سیاسی جماعتوں سے بات کرنے کے لیے تیار نہیں ہیں۔ مسلسل یہ بات کہی جاتی رہی کہ بات صرف اسٹبلشمنٹ سے ہوگی۔
وزیر اعظم پاکستان میاں شہباز شریف نے متعدد دفعہ مذاکرات کی دعوت دی لیکن اس کو مسترد کر دیا گیا۔ یہی جواب دیا گیا کہ حکومت کے ہاتھ میں کچھ ہے ہی نہیں۔ پھر حکومت سے کیوں بات کی جائے۔ گزشتہ انتخابات کے بعد یہی پالیسی رہی کہ حکومتی اتحاد میں موجود سیاسی جماعتوں سے کوئی بات نہیں کرنی۔
حتیٰ کے تحریک تحفظ آئین کے قیام کے بعد جو قومی کانفرنس بلائی گئی، یہ کہنے کو تو قومی کانفرنس تھی لیکن اس میں ملک کی بڑی سیاسی جماعتوں کو مدعو ہی نہیں کیا گیا۔ پہلے کہا گیا کہ پیپلزپارٹی کو دعوت دی جائے گی لیکن بعد میں پیپلزپارٹی کو بھی دعوت نہیں دی گئی۔
بانی تحریک انصاف نے جیل سے آرمی چیف کو تین خط لکھے لیکن وہ حکومت سے بات کرنے کے لیے تیار نہیں تھے۔ یہ الگ بات ہے کہ پہلے تو یہی موقف سامنے آیا کہ ایسا کوئی خط نہیں ملا ہے۔
لیکن ایک تقریب میں جب انھیں سوال کیا گیا کہ اگر انھیں خط مل بھی جائے تو وہ کیا کریں گے تو انھوں نے فوری کہا کہ وزیر اعظم کو بھیج دوں گا۔ مجھے اس خط سے کیا کرنا ہے جو کرنا ہے وزیر اعظم نے کرنا ہے۔
اب عجب منظر نامہ ہے۔ ایک طرف فوج کے ترجمان کا یہی موقف سامنے آیا ہے کہ وہ تحریک انصاف اور بانی تحریک انصاف سے کسی بھی قسم کی کوئی بات کرنے میں دلچسپی نہیں رکھتے۔
وہ جا کر حکومت اور سیاستدانوں سے بات کریں جب کہ جواب میں یہی موقف سامنے آتا رہا ہے کہ ہم نے صرف اسٹبلشمنٹ سے ہی بات کرنی ہے۔
کے پی کے سابق وزیر اعلیٰ گنڈا پور نے گو کہ کبھی براہ راست وزیر اعظم شہباز شریف سے ملاقات نہیں کی۔ مختلف اجلاسوں میں شرکت ضرور کی جس پر بھی ان پر تنقید کی جاتی تھی۔ تحریک انصاف کے ٹرولرزان پر حملہ کر دیتے تھے کہ یہ حکومت سے کیوں ملتے ہیں۔
یہ اسٹبلشمنٹ سے کیوں ملتے ہیں، یہ اندر سے ملے ہوئے ہیں۔ یہ اجلاسوں میں کیوں شرکت کرتے ہیں۔ انھیں ڈبل ایجنٹ کہا جانے لگا۔ وہ کہتے رہے کہ رموز حکومت چلانے کے لیے ملنا پڑتا ہے۔ لیکن ٹرولرز ان کی بات ماننے کے لیے تیار نہیں تھے۔ وہ ان کی مجبوریوں کو ان کی بے وفائی قرار دیتے رہے۔
اب سہیل آفریدی نے وزیر اعظم پاکستان سے براہ راست ملاقات کی ہے۔ یہ کوئی اجلاس نہیں تھا، میں اس کو تحریک انصاف کی پالیسی میں ایک بڑی تبدیلی دیکھتا ہوں۔ یہ الگ بات ہے کہ اس ملاقات پر تحریک انصاف کے ٹرولرز ان کے خلاف نہیں ہوئے ہیں۔
یہ سوال موجود ہے کہ اگر یہ ملاقات گنڈا پور نے کی ہوتی تو کیا ہوتا۔ لیکن سہیل آفریدی پر تنقید نہیں ہوئی۔ جو اچھی بات شائد تحریک انصاف کے سوشل میڈیا کو بھی سمجھ آگئی ہے کہ بہرحال آخر میں بات تو کرنی پڑے گی۔
چند ماہ پہلے تحریک انصاف کے چند ممبران نے این ڈی یو کی ایک ورکشاپ میں شرکت کی تھی۔ پھر انھیں بھی پی ٹی آئی کا غدار قرار دے دیا گیا۔ وہ کیوں گئے۔
مجھے تحریک انصاف کے ایک رکن نے کہا کہ سمجھ نہیں آتی کبھی کہتے ہیں کہ صرف فوج سے بات کرنی ہے اور اب این ڈی یو کی ورکشاپ میں شرکت پر بھی غدار کہہ دیا ہے۔
لیکن بہرحال سہیل آفریدی اور وزیر اعظم کی ملاقات کو مثبت انداز میں ہی لینا چاہیے۔ اس ملاقات کے بعد یہی کہا گیا کہ ملاقات میں کوئی سیاسی بات نہیں ہوئی۔ حکومتی امور پر بات ہوئی، جو زیادہ اچھی بات ہے۔ ہر وقت سیاست نہیں ہو سکتی۔ حکومت بھی تو چلانی ہے۔ سیاسی اختلافات اپنی جگہ۔ لیکن حکومت بھی تو چلانی ہے۔
اب تحریک تحفظ آئین کے سربراہ اور قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف محمود خان اچکزئی نے بھی وزیر اعظم شہباز شریف کو خط لکھا ہے۔ یہ ابھی اچھی پیش رفت ہے۔ ورنہ مجھے یاد ہے کہ جب بانی تحریک انصاف وزیر اعظم تھے تو وہ اس وقت قائد حزب اختلاف سے اہم ضروری قانونی مشاورت بھی کرنے کے لیے تیار نہیں تھے۔
اب محمود خان اچکزئی نے وزیر اعظم کو خط لکھا ہے۔ حالانکہ یہی محمود خان اچکزئی پہلے قومی کانفرنس میں حکومتی جماعتوں کو بلانے کے لیے تیار نہیں تھے۔
اب وہ قومی اسمبلی میں اپنی تقریر میں اسپیکر کو بھی اپنے چیمبر میں مدعو کر رہے تھے۔ پالیسی میں تبدیلی یہاں بھی ہے۔ یہ وقتی ہے یا مستقل، یہ الگ سوال ہے۔ لیکن ہمیں پالیسی میں تبدیلی نظر آرہی ہے۔
اب اس تبدیلی پر تجزیہ کیا جا سکتا ہے۔ کیا سب طرف سے ناامید ہو کر تحریک انصاف کے پاس اب حکومت سے بات کرنے کے سوا کوئی آپشن نہیں ہے۔ کیا تحریک انصاف بند گلی میں داخل ہو گئی ہے۔ کیا اسٹبلشمنٹ سے بھی مکمل جواب ہو گیا ہے۔
کیا بانی سے ملاقاتوں پر پابندی کے بعد تحریک انصاف نے آزادانہ پالیسیاں بنانی شروع کر دی ہیں۔ کیا اڈیالہ کے باہر ناکام احتجاج نے تحریک انصا ف کو دیوار سے لگا دیا ہے اور اب محفوظ راستہ تلاش کر رہی ہے۔
کیا کل جب بانی سے دوبارہ ملاقات ہو گی تو وہ اس سب کو مسترد کر دیں گے۔ اس لیے خدشات اپنی جگہ موجود ہیں۔ لیکن پالیسی میں تبدیلی نظر آرہی ہے۔ یہی سیاست ہے۔