کم عمری کی شادی اور طالبان

ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ دیہی معاشرے میں پدر شاہی سماج کا نشانہ عورتیں بنتی ہیں


[email protected]

’’ میں 12 اور 15 سال کے نوجوانوں کی شادیاں کراؤں گا۔ مشرف نے حقوق خواتین کے نام پر آئین میں ترامیم کر کے برائی کے راستے کھول دیے تھے۔‘‘ جمعیت علماء اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمن نے پارلیمنٹ میں خواتین کے حقوق سے متعلق ایک قانون کی منظوری کے بعد صحافیوں سے بات چیت کرتے ہوئے ان خیالات کا اظہار کیا۔ ’’ یہ قانون حکومتوں کا نہیں اسٹیبلشمنٹ کا ایجنڈا ہے اور ہم اس ایجنڈے کو قبول نہیں کریں گے۔ ‘‘

کابل سے آنے والی اطلاعات سے ظاہر ہوتا ہے کہ طالبان کی حکومت نے ایک دستور جاری کیا ہے۔ اس دستور میں خواتین اور اقلیتوں کے حقوق کا کوئی ذکر نہیں ہے اور اس دستور میں غلامی کے ادارے کو تحفظ فراہم کیا گیا ہے۔

خواتین کے جدید تعلیم حاصل کرنے پر پابندی عائد کردی گئی۔ اس نئے قانون کے تحت ہجوم کو کسی شخص کی جانب سے گناہ کا ارتکاب کرنے پر موقع پر سزا دینے کا اختیار بھی دے دیا گیا ہے۔

شوہر کو بیوی پر تشدد کا بھی حق تسلیم کیا گیا ہے اور اس قانون میں یہ بھی لکھا گیا ہے کہ عورت شوہر کی مرضی کے خلاف اپنے رشتے داروں کے پاس چلی جائے تو تمام رشتہ داروں کو سزا دی جاسکے گی۔

اس قانون میں سزا کی بھی اب تقسیم کی گئی ہے، اگر کوئی عالم گناہ کرے گا تو اس کو سمجھایا جائے گا اور خواتین، نچلے طبقہ سے تعلق رکھنے والے غریب اور اقلیتوں کے افراد کو سخت ترین سزا دی جائے گی۔

قومی سلامتی امور کے ماہر ڈاکٹر فخر چیمہ کا کہنا ہے کہ ہیبت اللہ اخونزادہ جو قانون افغانستان میں نافذ کر رہے ہیں، اس کی دنیا بھر میں مثال نہیں ملتی۔ ان کا کہنا ہے کہ طالبان کا قانون اسلامی قوانین کی واضح خلاف ورزی ہے۔ ڈاکٹر چیمہ کا یہ خیال ہے کہ طالبان کے دستور کی قدیم ہندو معاشرہ میں ضرور جھلک نظر آتی ہے۔

منصوبہ بندی و ترقیات کے وزیر احسن اقبال کا کہنا ہے کہ شادی کے لیے 18 سال عمر تو اور اسلامی ممالک میں بھی نافذ ہے۔ کیا وہ ممالک دائرہ اسلام سے خارج ہیں؟

انھوں نے کہا کہ بیشتر اسلامی ممالک میں جس میں ایران بھی شامل ہے شادی کی کم سے کم عمر18 سال ہے۔ اب مسلمانوں کی سب سے قدیم اسلامی یونیورسٹی الازہر یونیورسٹی جو قاہرہ میں قائم ہے کے اسکالر اس بات پر متفق ہیں کہ شادی کی کم ازکم عمر 18 سال ہے۔

مولانا فضل الرحمن نوجوانوں کی شادی کی کم ازکم عمر 18 سال کرنے کے فیصلہ کو قبول کرنے کو تیار نہیں مگر یہ مسئلہ زچہ بچہ کی صحت اور غربت کے خاتمہ سے منسلک ہے۔

پاکستان کی آبادی گزشتہ سال تک 256 ملین تھی۔ جب 1971میں مشرقی پاکستان بنگلہ دیش بن گیا تو 1972میں ہونے والی مردم شماری کے مطابق پاکستان کی آبادی 65.3 ملین تھی مگر آبادی کے پھیلاؤ کے نقصانات کا ادراک نہیں کیا گیا جس کے نتیجے میں پاکستان آبادی کے لحاظ سے دنیا کا پانچواں بڑا ملک قرار پایا ہے۔

پاکستان میں اس وقت غربت کا تناسب 40 فیصد کے قریب ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ بلوچستان کے علاوہ سندھ کے بعض علاقوں، جنوبی پنجاب اور خیبرپختون خوا کے سابق قبائلی علاقوں میں غربت کی شرح خاصی زیادہ ہے۔

صحت کے مسائل پر ہونے والی تحقیق سے ظاہر ہوتا ہے کہ کم عمر بچوں کی شادی کی بناء پر اموات کی شرح بڑھتی ہے۔ ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ دیہی معاشرے میں پدر شاہی سماج کا نشانہ عورتیں بنتی ہیں۔

انھیں اب گھر کے مرد جب کھانے سے فارغ ہوجاتے ہیں تو پھر کھانے کا موقع ملتا ہے، یوں لڑکیوں کو سب سے کم غذا میسر آتی ہے۔ دیہی آبادی میں بیشتر خواتین ابتدائی عمر سے خون کی کمی، تپِ دق، دمہ اور خماغ کے امراض کا شکار ہوتی ہیں۔

جب کم عمری میں ان کی شادی ہوجاتی ہے تو سسرال میں بھی بہو کو کم خوراک ہی ملتی ہے اور پھر اس کو بچے پیدا کرنے کی مشین بنادیا جاتا ہے۔ پاکستان میں ہر سال پیدا ہونے والے ایک ہزار بچوں میں سے 50سے 54 فیصد زندہ نہیں رہ پاتے۔

عالمی بینک کی ایک رپورٹ کے مطابق پیدائش کے بعد مرنے والی بچوں کی یہ شرح خطے میں سب سے زیادہ ہے۔ بھارت میں یہ شرح 2023 میں 24.50 فیصد بنتی تھی اس میں اب 4 فیصد سے زیادہ کمی ہوئی ہے۔

بنگلہ دیش میں یہ شرح 30.6 فیصد، ایران میں 11.8 فیصد ہے۔ دنیا بھر میں پیدائش کے پہلے 5 ماہ کے دوران بچوں کی اموات کی شرح سب سے زیادہ افغانستان میں ہے۔

بنگلہ دیش جب آزاد ہوا تو اس کی آبادی 71.6 ملین تھی مگر پھر برسرِ اقتدار حکومتوں نے آبادی کے بڑھنے کو روکنے کے لیے مختلف نوعیت کی مہم چلائی۔ اس مہم میں کم عمری میں شادی پر پابندی بھی شامل تھی۔ عوامی لیگ کی حکومت نے اس مہم میں علماء کرام کو بھی شامل کیاتو آبادی بڑھنے کی شرح کم ہوئی۔

اب ماہرین کہتے ہیں کہ اس وقت بنگلہ دیش کی آبادی 175.5 ملین سے 176.4 ملین کے قریب ہے۔ بنگلہ دیش اس وقت آبادی کے لحاظ سے دنیا کا 8 واں بڑا ملک ہے۔

بنگلہ دیش میں اس وقت ملک کی 28 فیصد آبادی خط غربت کے نیچے زندگی گزار رہی ہے۔ بنگلہ دیش جب آزاد ہوا تو اس وقت (1972 میں )ملک کی آبادی کا 88 فیصد سے لے کر 90 فیصد حصہ خطِ غربت کے نیچے زندگی گزار رہا تھا۔

یہ تو اعداد و شمار کی بات ہے اب کچھ تاریخی حقائق کی طرف بھی نظر ڈالی جائے۔ جب انگریز ہندوستان پر قابض ہوئے تو پہلے تو انگریزوں نے ہندوستانیوں کا قتلِ عام کیا۔ ہندوستان کی صنعت کو ختم کیا گیا اور پھر ایک جدید تعلیمی، انتظامی اور عدالتی نظام نافذ کیا گیا۔

اس کے ساتھ ہی انگریز حکومت نے ہندوستان میں بہتر طرزِ حکومت کے قیام کے لیے سماجی اصلاحات نافذ کیں۔ انگریز حکومت نے ہندوستان میں غلامی کی ہر قسم پر پابندی عائد کردی اور غلاموں کی خرید و فروخت کو فوجداری جرم قرار دیا گیا۔

انگریز سرکار نے ہندو مت کی بدترین رسم ’’ستی‘‘ پر پابندی لگادی ۔ ہندوؤں میں شوہر کے مرنے پر بیوی بھی چتا میں جل کر مرجاتی تھی۔ انگریز حکومت نے اس رسم کے خاتمے کے لیے سخت اقدامات کیے۔ حکومت نے کم سن بچیوں کی شادی پر پابندی عائد کی تو ہندوستان کے تمام مذاہب کے مذہبی پیشواؤں نے اس قانون کی مذمت کی تھی۔

یہ وہ وقت تھا جب بیرسٹر محمد علی جناح نے انگلستان سے آنے کے بعد اپنی پریکٹس شروع کردی تھی اور آل انڈیا کانگریس میں متحرک تھے۔ بیرسٹر محمد علی جناح ہندوستان کی خواتین کی پسماندگی کی وجوہات اور آزادئ صحافت کو بہت اہمیت دیتے تھے۔

بیرسٹر محمد علی جناح واحد رہنما تھے جنھوں نے کم سن بچیوں کی شادی پر پابندی کے قانون کی حمایت کی تھی۔ بیرسٹر محمد علی جناح کا یہ مؤقف مستند دلائل پر مبنی تھا، وہ سمجھتے تھے کہ خواتین کا تعلیم یافتہ ہونا ضروری ہے اور خواتین جدید تعلیم حاصل کر کے نہ صرف آزادی کی جدوجہد میں اہم کردار کرسکتی ہیں بلکہ خاندان اور معاشرے کی ترقی میں بھی فعال ہوسکتی ہیں۔

بیرسٹر محمد علی جناح نے ہندوستانی سماج کی پسماندگی کا گہرائی سے مطالعہ کیا تھا اور وہ سمجھتے تھے کہ بچپن کی شادیوں کے نقصانات ہی نقصانات ہیں۔ وہ واحد مسلمان رہنما تھے جنھوں نے اپنی اہلیہ رتی کو اپنی سیاسی سرگرمیوں میں ساتھ ساتھ رکھا اور رتی کو اس وقت کا جدید فیشن اختیار کرنے کی حوصلہ افزائی کی۔

ان کی رتی سے پسند کی شادی کے مقدمہ کے فیصلہ کے بعد ہندوستان کے شہریوں کو اپنی پسند سے شادی کرنے کی Free Will کی قانونی اجازت حاصل ہوئی تھی۔

پاکستان میں جب جنرل ایوب خان کی حکومت نے عائلی قوانین نافذ کیے تھے تو پہلی دفعہ شادی، طلاق اور خلع کو دستاویزی شکل دی گئی تھی اور نکاح نامہ کے رجسٹریشن کو لازمی قرار دے کر خواتین کو تحفظ فراہم کیا گیا تھا۔

اس قانون کے تحت شوہر دوسری شادی کے لیے بیوی سے اجازت حاصل کرنے کا پابند قرار دیا گیا اور اس شق کی خلاف ورزی پر قانون میں سزا متعین کی گئی تھی۔

پارلیمنٹ نے گزشتہ دنوں پیپلز پارٹی کی رہنما شرمیلا فاروقی کے تجویز کردہ قانون کو منظور کیا۔ اس قانون کے تحت بیوی پر فکری تشدد کو بھی جرم قرار دیا گیا ہے اور شادی کے بعد میاں بیوی کے علیحدہ گھر بنانے کے حق کو بھی قانونی تحفظ فراہم کیا گیا ہے۔

پاکستان میں یہ قانون سازی اور سپریم کورٹ کے گزشتہ دنوں خواتین کے تحفظ کے لیے کئی معراکتہ الآراء فیصلے خواتین کے حالاتِ کار کو بہتر بنانے کے لیے انتہائی مفید ثابت ہونگے۔

اس وقت سندھ میں 18 سال سے کم عمر کی شادی پر پابندی کا قانون نافذ ہے ۔ پارلیمنٹ نے گزشہ سال ایسا ہی قانون نافذ کیا ہے مگر ابھی خیبر پختون خوا، بلوچستان اور پنجاب کی حکومتوں کا امتحان باقی ہے۔

سماجی ماہرین کا کہنا ہے کہ معاشرہ میں رجعت پسندی سے بہت سے مسائل حل طلب رہ جاتے ہیں۔ پڑوسی ممالک میں پولیو کا مرض ختم ہوچکا ہے مگر پاکستان اور افغانستان میں پولیو کا مرض ختم نہیں ہو پارہا۔

پولیو کے جراثیم گندے پانی میں پیدا ہوتے ہیں مگر سائنس کی ترقی سے پولیو کے قطرے بچوں کو پلانے سے یہ مرض ختم ہوجاتا ہے مگر جب بھی پولیو کے قطرے پلانے کی مہم چلتی ہے تو جنگجو پولیو ورکرز اور پولیس والوں پر حملے کرتے ہیں ۔

رجعت پسند عناصر کا یہ عجیب دہرا معیار ہے کہ جب یہ لوگ اسلام آباد، لاہور یا کراچی میں جلسے کرتے ہیں تو پولیو کے قطرے پلانے پر اپنی تقاریر میں کوئی ذکر نہیں کرتے لیکن جب یہ لوگ دور دراز علاقوں میں اپنے حلقہ انتخاب میں جاتے ہیں تو پھر یہ حضرات بھی ان لوگوں کی حوصلہ افزائی کرتے ہیں جو بچوں کو پولیو کے قطرے پلانے کو خطرناک جانتے ہیں۔ جامعہ الازہر کے علماء کی تعلیمات سے استفادہ کرنا چاہیے۔

مقبول خبریں