شاہ رخ جتوئی اور دیگر ملزمان کی اپیلیں سماعت کے لیے منظور

انسداد دہشت گردی کی خصوصی عدالت نے شاہ زیب قتل کیس میں ملزمان کو پھانسی اور عمر قید کی سزائیں سنائی تھیں

ملزمان شاہ رخ جتوئی اور سراج تالپور پیشی کے موقع پر کورٹ لاک اپ میں کھڑے ہیں۔ فوٹو: اے ایف پی/فائل

سندھ ہائی کورٹ کے جسٹس غلام سرور کورائی کی سربراہی میں 2رکنی اپیلٹ بینچ نے شاہ زیب قتل کیس میں پھانسی اور عمر قید کی سزا پانے والے ملزمان شاہ رخ جتوئی، غلام مرتضیٰ لاشاری، سجاد تالپور اور سراج تالپور کی سزا کے خلاف اپیلوں کو باقاعدہ سماعت کیلیے منظور کرتے ہوئے فریقین کو نوٹس جاری کردئیے ہیں۔

عدالت نے مقدمے کی پیپر بک تیار کرنے کے بھی ہدایت جاری کی ہے ، اپیل میں سزایافتہ ملزمان کی جانب سے مقتول کے قانونی ورثا سے کیا گیا سمجھوتہ بھی پیش کیا گیا ہے تاکہ عدالت اسکی روشنی میں مقدمے کا جائزہ لے ، واضح رہے کہ انسداد دہشت گردی ایکٹ کے تحت مقدمات قابل سمجھوتہ نہیں ہوتے، انسداددہشت گردی کی خصوصی عدالت نے جرم ثابت ہونے پر مرکزی ملزمان شاہ رخ جتوئی اور سراج تالپور کو پھانسی جبکہ دیگر 2 شریک ملزمان سجاد تالپور اور غلام مرتضیٰ لاشاری کو عمر قید کی سزا سنائی تھی، عدالت نے چاروں ملزمان کو مجموعی طور پر 25لاکھ روپے جرمانے کی ادائیگی کا بھی حکم دیاتھا جس میں سے نصف رقم مقتول کے ورثا کوادا کرنے کی ہدایت کی گئی تھی۔




عدالت نے شاہ رخ جتوئی کو اسلحہ ایکٹ کے تحت بھی 3 سال قیدجبکہ ملزم غلام مرتضیٰ لاشاری کو مقتول کی بہن کو چھیڑنے کے جرم میں مزید ایک سال قید کی سزا کا حکم سنایا ، مقدمے کی سماعت کے دوران استغاثہ کے23 جبکہ ملزمان کے دفاع میں 7گواہوں کے بیانات قلمبند کیے گئے،اس دوران 4 دفعہ سرکاری وکلا بھی تبدیل ہوئے، استغاثہ کے مطابق 24 دسمبر 2012 کی رات 11 بج کر 50 منٹ پر شاہ زیب کا ملزم غلام مرتضیٰ لاشاری کی جانب سے اس کی بہن کوتنگ کرنے پر ملزمان سے جھگڑا ہوا تاہم تھوڑی دیر بعد معاملہ رفع دفع ہوگیا ، بعدازاں شاہ زیب خیابان بحریہ ڈی ایچ اے فیز 5 کے علاقے میں واقع اپنے گھر سے گاڑی پارک کرنے کیلیے نکلا تو اس موقع پر ملزمان سجاد علی تالپور، شارخ جتوئی اور ان کے دیگر ساتھیوں نے فائرنگ کرکے21 سالہ شاہ زیب کو قتل کردیا۔
Load Next Story