بلی تھیلے سے باہر آگئی بھارت نے آئی سی سی کے سر پر تلوار تان لی

عالمی کرکٹ پرقبضےکیلیےاوچھےہتھکنڈوں پراترآیا،بورڈنےانٹرنیشنل ایونٹس میں شرکت کو متنازع تجاویز کی منظوری سےمشروط کردیا

ورکنگ کمیٹی نے حکام کو پاکستان سمیت تمام بورڈز سے براہ راست سیریز کیلیے معاہدوں کا اختیار دیدیا،ہر2سال بعد ایک آئی سی سی ایونٹ کی میزبانی کا خواب

بلی تھیلے سے باہر آگئی، بھارت عالمی کرکٹ پر قبضے کیلیے اوچھے ہتھکنڈوں پر اترآیا، آئی سی سی کے سر پر تلوار تان لی۔

بھارتی بورڈ نے انٹرنیشنل ایونٹس میں شرکت کو متنازع تجاویز کی منظوری سے مشروط کردیا، سفارشات کو کرکٹ کے بہترین مفاد میں قرار دیا گیا ہے، ورکنگ کمیٹی نے اس سلسلے میں عالمی وارننگ جاری کردی، حکام کو پاکستان سمیت تمام بورڈز سے براہ راست باہمی سیریز کیلیے معاہدوں کا اختیار دیدیا، اجلاس میں کمیٹی ممبران کو یہ خوش خبری سنائی گئی کہ نئے ڈرافٹ کے منظور ہونے سے ' بی سی سی آئی کی پانچوں انگلیاں گھی اور سر کڑاہی' میں ہوگا، ہر2 سال بعد ایک آئی سی سی ایونٹ کی میزبانی ملا کریگی، خزانے میں دولت کے نئے انبار لگیں گے اور آئی سی سی کی کمائی سے 21 فیصد حصہ پکا ہوگا۔ تفصیلات کے مطابق بھارتی کرکٹ بورڈ کی طاقتور ورکنگ کمیٹی کا گذشتہ روز چنئی میں خصوصی اجلاس ہوا، اس میں عالمی کرکٹ کے لیے سخت وارننگ جاری کی گئی کہ اگر انٹرنیشنل کرکٹ کونسل میں ورکنگ گروپ کی جانب سے پیش کی جانے والی نئی تجاویز کی مخالفت کی گئی تو پھر بھارت آئی سی سی کے کسی بھی ایونٹ میں شریک نہیں ہوگا۔

ہنگامی اجلاس کے بعد سامنے آنے والی پریس ریلیز میں تین پوائنٹس واضح کیے گئے ہیں، کمیٹی نے متنازع تجاویز کی رسمی منظوری دیتے ہوئے انھیں کرکٹ کے انتہائی بہترین مفاد میں قرار دیا۔ آئی سی سی ایونٹس سے متعلق دوسرے ممبر بورڈز کو دیے جانے والے پیغام میں کہا گیاکہ کمیٹی نے بی سی سی آئی کے عہدیداران کو آئی سی سی ایونٹس میں شرکت اورٹورنامنٹس کی میزبانی کے حوالے سے کسی بھی معاہدے پر دستخط صرف انٹرنیشنل کونسل کے ایگزیکٹیو بورڈ کی جانب سے نئے ڈرافٹ کی منظوری کی صورت میں ہی کرنے کا کہا ہے۔ اس کے ساتھ کمیٹی نے بورڈ عہدیداران کو یہ اختیار دیاکہ وہ پاکستان سمیت تمام دوسرے فل ممبر بورڈز کے ساتھ باہمی سیریز کے لیے معاہدوں پر دستخط کریں ۔




دلچسپ بات یہ ہے کہ نئے ڈرافٹ میں صرف انگلینڈ اور آسٹریلیا کے ساتھ 8 فل ممبرز کے ساتھ باہمی معاہدوں کی پاسداری ظاہر کی گئی، بھارت کی جانب سے ایسی کوئی یقین دہانی نہ کرانے سے چھوٹے بورڈز میں یہ خوف پیدا ہوا کہیں وہ ان سے کھیلنا ہی نہ چھوڑ دے جبکہ وہ اسی کے ساتھ ہونے والے مقابلوں میں زیادہ آمدنی حاصل کرتے ہیں، مگر اب ورکنگ کمیٹی کی منظوری کے بعد بھارتی بورڈ نے تمام 10 فل ممبرز کے ساتھ معاہدوں کا اشارہ دے دیا ہے۔ بھارتی کرکٹ بورڈ نے یہ راستہ بہرحال چھوڑاکہ ان تجاویز پر بحث کی گنجائش موجود ہے، اس سلسلے میں ایک بی سی سی آئی آفیشل کا کہنا ہے کہ ہم نے یہ کبھی نہیں کہا کہ یہ تجاویز پتھر پر لکھی تحریر ہیں، یہ فی الحال ایک ڈرافٹ اور بورڈز اس پر بحث کرسکتے ہیں،آئی سی سی بورڈ میٹنگ میں بھی اس پر بات ہوسکتی ہے۔

ورکنگ کمیٹی کے اجلاس میں آئی پی ایل کے چیف ایگزیکٹیو سندر رامن نے 'پوزیشن پیپر' کی تفصیلات سے ممبران کو آگاہ کیا، اس کے فوائد گنواتے ہوئے انھوں نے بتایا کہ آئی سی سی کی کمائی سے بی سی سی آئی کو 21 فیصد حصہ ملے گا، ایف ٹی پی کی قید سے آزاد ہونے کے بعد باہمی سیریزپر بات چیت اپنی مرضی سے کی جائیگی، نئے اسٹرکچر سے بھارت کو زیادہ انٹرنیشنل کرکٹ کی میزبانی کا موقع ملے گا جس سے دولت کی ریل پیل اور ٹیسٹ کرکٹ کو دوسرے اسٹیڈیمزمیں بھی کھیلا جاسکے گا، ہر 2 برس بعد ایک انٹرنیشنل ٹورنامنٹ کی میزبانی بھی ملے گی۔
Load Next Story