داسو میں چینی انجینئرز پر حملہ اور جوہر ٹاؤن دھماکے کی کڑیاں ملنے لگیں
دونوں حملوں کی ٹیم کا تعلق بھارتی حفیہ ایجنسی را سے ثابت ہونے لگا
دونوں حملوں کی ٹیم کا تعلق بھارتی حفیہ ایجنسی را سے ثابت ہونے لگا
داسو میں چینی انجینئرز پر حملہ اور جوہر ٹاؤن دھماکے کی کڑیاں ملنے لگیں۔
ذرائع کے مطابق دونوں حملوں کی ٹیم کا تعلق بھارتی حفیہ ایجنسی را سے ثابت ہو رہا ہے۔ داسو حملے میں ملوث ہونے کے شبے میں لاہور سے دو مشتبہ افراد کو حراست میں لے لیا گیا۔
یہ بھی پڑھیں: داسو ڈیم کے عملے کی بس کو حادثہ؛ 9 چینی باشندوں سمیت 13 افراد جاں بحق
گرفتار دو سگے بھائیوں کا تعلق کوئٹہ سے ہے ، دونوں پندرہ سال سے ڈیفینس پی بلاک میں رہائش رکھے ہوئے تھے۔ داسو حملے میں استعمال ہونے والی گاڑی لاہور میں مقیم شخص کی ملکیت تھی۔
یہ بھی پڑھیں: لاہور کے علاقے جوہر ٹاؤن میں دھماکے سے 4 افراد جاں بحق، متعدد زخمی
14 جولائی کو خیبر پختونخواہ کے اپر کوہستان کے علاقے داسو میں بس کے ساتھ پیش آنے والے واقعے میں 9 چینی انجینئرز، دو ایف سی اہلکار اور لیبر سمیت 13 افراد جاں بحق اور متعدد زخمی ہوئے تھے۔ منصوبے پر کام کرنے والے چینی ماہرین، مقامی مزدور اور ایف سی اہلکار داسو ڈیم کی سائٹ جارہے تھے کہ ان کی بس خوفناک دھماکے سے دریا میں جاگری۔ وفاقی وزیر اطلاعات فواد چودھری نے اس واقعے میں بارودی مواد کے شواہد منظر عام پر آنے اور دہشت گردی یا تخریب کے عنصر کے حوالے سے ٹویٹ کیا تھا۔
ذرائع کے مطابق دونوں حملوں کی ٹیم کا تعلق بھارتی حفیہ ایجنسی را سے ثابت ہو رہا ہے۔ داسو حملے میں ملوث ہونے کے شبے میں لاہور سے دو مشتبہ افراد کو حراست میں لے لیا گیا۔
یہ بھی پڑھیں: داسو ڈیم کے عملے کی بس کو حادثہ؛ 9 چینی باشندوں سمیت 13 افراد جاں بحق
گرفتار دو سگے بھائیوں کا تعلق کوئٹہ سے ہے ، دونوں پندرہ سال سے ڈیفینس پی بلاک میں رہائش رکھے ہوئے تھے۔ داسو حملے میں استعمال ہونے والی گاڑی لاہور میں مقیم شخص کی ملکیت تھی۔
یہ بھی پڑھیں: لاہور کے علاقے جوہر ٹاؤن میں دھماکے سے 4 افراد جاں بحق، متعدد زخمی
14 جولائی کو خیبر پختونخواہ کے اپر کوہستان کے علاقے داسو میں بس کے ساتھ پیش آنے والے واقعے میں 9 چینی انجینئرز، دو ایف سی اہلکار اور لیبر سمیت 13 افراد جاں بحق اور متعدد زخمی ہوئے تھے۔ منصوبے پر کام کرنے والے چینی ماہرین، مقامی مزدور اور ایف سی اہلکار داسو ڈیم کی سائٹ جارہے تھے کہ ان کی بس خوفناک دھماکے سے دریا میں جاگری۔ وفاقی وزیر اطلاعات فواد چودھری نے اس واقعے میں بارودی مواد کے شواہد منظر عام پر آنے اور دہشت گردی یا تخریب کے عنصر کے حوالے سے ٹویٹ کیا تھا۔