بلدیاتی آرڈیننس صوبائی معاملہ ہے تحفظات دور کرینگے رحمن ملک
اسلام آباد، کراچی،کوئٹہ، ڈیرہ اسماعیل خان میں دہشتگردی کا خطرہ ہے، سیکیورٹی سخت کر دی
اسلام آباد، کراچی،کوئٹہ، ڈیرہ اسماعیل خان میں دہشتگردی کا خطرہ ہے، سیکیورٹی سخت کر دی، فوٹو : فائل
وفاقی وزیر داخلہ رحمان ملک نے کہا ہے کہ کراچی میں بھی بھارتی قونصل خانہ کھلنا چاہیے۔
تاکہ ویزا کے حصول میں لوگوں کو آسانی ہو، بلدیاتی آرڈیننس صوبائی معاملہ ہے اور اس حوالے سے اتحادیوں کے تحفظات جلد دور کر لیے جائینگے، انتخابات وقت پر ہونگے اور ہمارے کارنامہ کسی سے ڈھکے چھپے نہیں ہیں، سندھ میں پیپلز پارٹی اور متحدہ قومی موومنٹ کو مینڈیٹ حاصل ہے اور ایم کیو ایم کے قائد کا اس حوالے سے گذشتہ روز کے بیان کا خیر مقدم کرتے ہیں۔
ان خیالات کا اظہار انھوں نے اتوار کی شب کراچی آمد کے موقع پر ائیر پورٹ پر میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے کیا، رحمن ملک نے کہا کہ وہ کراچی ایئر پورٹ حکام کے ساتھ اجلاس میں شرکت کے لیے آئیں ہیں، انھوں نے کہا کہ پاک بھارت دوستی سب کے مفاد میں ہے اور مجھے امید ہے کہ من موہن سنگھ جلد پاکستان کا دورہ کریں گے، صحافیوں کے سوالات کے جواب دیتے ہوئے وفاقی وزیر داخلہ نے کہا کہ بلدیاتی آرڈیننس صوبائی معاملہ ہے اور اس سلسلے میں تمام اختلافات کو دور کرلیا جائے گا، انھوں نے کہا کہ پاکستان کا پرچم جلانے والے آج ٹرین مارچ کر رہے ہیں۔
ٹرین مارچ کوئی اچھی بات ہے لیکن عوام ان پرچم جلانے والوں کو بھی اچھی طرح جانتی ہے، انھوں نے کہا کہ میں کل بھی کہتا تھا کہ انتخابات وقت پر ہونگے اور آج بھی کہتا ہوں کی انتخابات اپنے مقررہ وقت پر ہی ہونگے، کراچی کے حالات پر انھوں نے کہا کہ یہاں کے حالات میں بہتری آرہی ہے اور ادارے کام کررہے ہیں ،رحمن ملک نے کہا کہ کراچی کے حالات کی خرابی میں ملک دشمن عناصر کا ہاتھ ہے، انھوں نے کہا کہ لیاری ہو یا کراچی کا کوئی بھی حصہ جہاں بھی جرائم پیشہ عناصر ہونگے وہاں ٹارگٹڈ آپریشن کا سلسلہ جاری ہے اور جاری رہے گا۔
انھوں نے کہا کہ سندھ میں پیپلز پارٹی اور ایم کیو ایم کو مینڈیٹ حاصل ہے اور اس حوالے سے متحدہ کے قائد الطاف حسین کے بیان کو سراہتا ہوں، پاک بھارت وزیر خارجہ مذاکرات میں ویزوں میں آسانیوں پر سوال پر انھوں نے کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان دوستی سے دونوں ممالک کے عوام کو فائدہ پہنچے گا ، انھوں نے کہا کہ کراچی میں بھارتی سفارتخانہ کھلنا چاہیے
تاکہ کراچی کے عوام کو ویزوں کے حصول میں آسانی ہو۔ علاوہ ازیں وفاقی وزیر داخلہ رحمان ملک نے کہا ہے کہ اسلام آباد، کراچی،کوئٹہ اور ڈیرہ اسماعیل خان میں دہشتگردی کا خطرہ ہے، ان شہروں سمیت ملک کے مختلف حصوں میں دہشتگرد حملوں کی اطلاعات پر سیکیورٹی مزید سخت کردی گئی ہے۔
تاکہ ویزا کے حصول میں لوگوں کو آسانی ہو، بلدیاتی آرڈیننس صوبائی معاملہ ہے اور اس حوالے سے اتحادیوں کے تحفظات جلد دور کر لیے جائینگے، انتخابات وقت پر ہونگے اور ہمارے کارنامہ کسی سے ڈھکے چھپے نہیں ہیں، سندھ میں پیپلز پارٹی اور متحدہ قومی موومنٹ کو مینڈیٹ حاصل ہے اور ایم کیو ایم کے قائد کا اس حوالے سے گذشتہ روز کے بیان کا خیر مقدم کرتے ہیں۔
ان خیالات کا اظہار انھوں نے اتوار کی شب کراچی آمد کے موقع پر ائیر پورٹ پر میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے کیا، رحمن ملک نے کہا کہ وہ کراچی ایئر پورٹ حکام کے ساتھ اجلاس میں شرکت کے لیے آئیں ہیں، انھوں نے کہا کہ پاک بھارت دوستی سب کے مفاد میں ہے اور مجھے امید ہے کہ من موہن سنگھ جلد پاکستان کا دورہ کریں گے، صحافیوں کے سوالات کے جواب دیتے ہوئے وفاقی وزیر داخلہ نے کہا کہ بلدیاتی آرڈیننس صوبائی معاملہ ہے اور اس سلسلے میں تمام اختلافات کو دور کرلیا جائے گا، انھوں نے کہا کہ پاکستان کا پرچم جلانے والے آج ٹرین مارچ کر رہے ہیں۔
ٹرین مارچ کوئی اچھی بات ہے لیکن عوام ان پرچم جلانے والوں کو بھی اچھی طرح جانتی ہے، انھوں نے کہا کہ میں کل بھی کہتا تھا کہ انتخابات وقت پر ہونگے اور آج بھی کہتا ہوں کی انتخابات اپنے مقررہ وقت پر ہی ہونگے، کراچی کے حالات پر انھوں نے کہا کہ یہاں کے حالات میں بہتری آرہی ہے اور ادارے کام کررہے ہیں ،رحمن ملک نے کہا کہ کراچی کے حالات کی خرابی میں ملک دشمن عناصر کا ہاتھ ہے، انھوں نے کہا کہ لیاری ہو یا کراچی کا کوئی بھی حصہ جہاں بھی جرائم پیشہ عناصر ہونگے وہاں ٹارگٹڈ آپریشن کا سلسلہ جاری ہے اور جاری رہے گا۔
انھوں نے کہا کہ سندھ میں پیپلز پارٹی اور ایم کیو ایم کو مینڈیٹ حاصل ہے اور اس حوالے سے متحدہ کے قائد الطاف حسین کے بیان کو سراہتا ہوں، پاک بھارت وزیر خارجہ مذاکرات میں ویزوں میں آسانیوں پر سوال پر انھوں نے کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان دوستی سے دونوں ممالک کے عوام کو فائدہ پہنچے گا ، انھوں نے کہا کہ کراچی میں بھارتی سفارتخانہ کھلنا چاہیے
تاکہ کراچی کے عوام کو ویزوں کے حصول میں آسانی ہو۔ علاوہ ازیں وفاقی وزیر داخلہ رحمان ملک نے کہا ہے کہ اسلام آباد، کراچی،کوئٹہ اور ڈیرہ اسماعیل خان میں دہشتگردی کا خطرہ ہے، ان شہروں سمیت ملک کے مختلف حصوں میں دہشتگرد حملوں کی اطلاعات پر سیکیورٹی مزید سخت کردی گئی ہے۔