اسرائیلی وزیرخارجہ کا عرب امارات کے بعد ایک اور مسلم ملک کا دورہ

وزیر خارجہ یائر لپید اسرائیلی سفارت خانے کا افتتاح کریں گے اور تاریخی یہودی عبادت گاہ کا دورہ بھی کریں گے

یائر لپید نے جون کو پہلے عرب ملک متحدہ عرب امارات کا دورہ کیا تھا، فوٹو: فائل

ABBOTTABAD:
اسرائیلی وزیر خارجہ یائر لپید متحدہ عرب امارات کے بعد ایک اور مسلم ملک مراکش کے سرکاری دورے پر پہنچ گئے۔

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق اسرائیلی وزیرخارجہ یائر لپید آج اپنے دورہ مراکش کا آغاز کر رہے ہیں۔ گزشتہ برس دسمبر میں دونوں ممالک کے درمیان سفارتی تعلقات کی بحالی کے بعد اعلیٰ سطح کا یہ پہلا دورہ ہے۔

وزیر خارجہ یائر لپید اپنے ہم منصب ناصر بوریطہ سے ملاقات کریں گے اور مراکش کے دارالحکومت رباط میں اسرائیلی سفارت خانے کا افتتاح بھی کریں گے جس کے بعد وہ کیسا بلانکا کی تاریخی یہودی عبادت گاہ ''ٹیمپل بیت ایل'' بھی جائیں گے۔

یہ خبر پڑھیں : مراکش نے اسرائیل کو تسلیم کرلیا

خیال رہے کہ اسرائیل اور مراکش کے درمیان سفارتی تعلقات گزشتہ برس دسمبر میں سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ثالثی کے نتیجے میں ایک معاہدے کے تحت بحال ہوئے تھے جس کی بنا پر امریکا نے مغربی صحارہ کے علاقے پر مراکش کی حاکمیت کو تسلیم کیا تھا۔


مراکش اسرائیل کو تسلیم کرنے والا چوتھا عرب ملک ہے اور اس سے قبل متحدہ عرب امارات، بحرین اور سوڈان بھی اسرائیل کے ساتھ سفارتی اور تجارتی تعلقات بحال اور سفری پابندیاں ختم کرچکے تھے۔



ایک روز قبل اسرائیلی وزیر خارجہ یائر لپید نے دورے سے متعلق اپنی ٹویٹ میں لکھا تھا کہ '' کل ہم ایک تاریخی دورے کے لیے مراکش جائیں گے۔ رباط میں اسرائیلی نمائندہ دفتر کا افتتاح کریں گے اور کیسابلانکا جائیں گے۔ دونوں ریاستوں کے عوام کے درمیان امن بحال کریں گے۔ میں دلیری اور دور اندیشی کا مظاہرہ کرنے پر شاہ محمد ششم کا شکریہ ادا کرتا ہوں۔ ان کی ٹیم کے ساتھ مل کر معاشی، سیاحتی اور ثقافتی تعاون پیدا کریں گے جو دونوں ممالک کے درمیان گہرے تاریخی تعلقات کا اظہار کرتا ہے''۔

واضح رہے کہ مراکش اور اسرائیل کے درمیان تعلقات 1990 تک برقرار رہے تھے تاہم اس کے بعد فلسطین میں بڑھتے ہوئے اسرائیلی مظالم پر تعلقات منقطع ہوگئے تھے جو تقریباً ایک دہائی بعد دوبارہ بحال ہوئے ہیں۔

 
Load Next Story