امریکا نے پہلے اسامہ کا ٹھکانہ تباہ کرنے کا منصوبہ بنایا تھا
2ہزار پائونڈ وزنی 32بم ڈیڑھ منٹ میں ٹھکانے کو 30فٹ گہرے گڑھے میں بدل دیتے
2ہزار پائونڈ وزنی 32بم ڈیڑھ منٹ میں ٹھکانے کو 30فٹ گہرے گڑھے میں بدل دیتے فوٹو فائل
امریکا نے پہلے بی ۔ ٹوسپرٹ بمبار طیاروں کے ذریعے ایبٹ آباد میں اسامہ بن لادن کے مشتبہ ٹھکانے کو نیست ونابود کرنے کا پروگرام بنایا تھا۔
تاہم بعد ازاں امریکی فوج کے خصوصی کمانڈوز کے ذریعے القاعدہ کے سربراہ کو قتل کرنے کے لیے خفیہ کارروائی کا طریقہ کار اختیار کیا۔یہ بات ایبٹ آباد آپریشن کی روئیداد قلمبند کرنے والے مبینہ امریکی نیوی کے سیل کمانڈو نے ''نو ایزی ڈے'' کے نام سے لکھی گئی اپنی کتاب میں کہی،کتاب میں کہا گیا ہے کہ صدر اوباما اور ان کے مشیروں نے آخری لمحے تک جب تک حتمی منظوری کے حکم نامے پر دستخط نہیں کیے گئے تھے اسامہ بن لادن کے خلاف آپریشن کے لیے مختلف طریقہ ہائے کار پر غور ہوتا رہا۔
مصنف کے مطابق وائٹ ہاس میں اس تجویز پر بھی غور ہوتا رہا کہ آپریشن کے لیے ایئرفورس استعمال کی جائے جس کے ذریعے بھرپور بمباری کرتے ہوئےB-2سپرٹ بمبار طیاروں کے ذریعے ایبٹ آباد میں اسامہ بن لادن کے مبینہ کمپانڈ کو سمارٹ بموں کے ذریعے تباہ کیا جائے،امریکی وزیر دفاع رابرٹ گیٹس بھی اس تجویز کی حمایت کر رہے تھے کیونکہ اس طرح امریکی فوج کو پاکستان سے دور رکھا جاسکتا تھا اور اس طرح یہ مشن کسی خودمختار ملک پر حملے سے خاصا مختلف ہوتا۔
ان کے مطابق اس کارروائی کے لیے دوہزار پائونڈ کے32بموں کی ضرورت پڑتی۔مصنف امریکی کمانڈو کے مطابق اس طرح پورا معاملہ ایک ڈیڑھ منٹ میں ختم ہوجاتا اور بم 30فٹ گہرائی تک ہر چیز کو ایک گڑھے میں بدل دیتا تاہم اس سے عام شہریوں کے جانی نقصان کا خدشہ زیادہ تھا اور پھر بعد ازاں اس قدر تباہی ہوتی اور وہاں موجود لوگوں کی شناخت ناممکن ہوجاتی، مصنف کے مطابق اسی لیے نیول سیل کمانڈوز کے ذریعے ایبٹ آباد میں اسامہ بن لادن کے خلاف خفیہ کارروائی کا طریقہ کار اختیار کیا گیا۔
تاہم بعد ازاں امریکی فوج کے خصوصی کمانڈوز کے ذریعے القاعدہ کے سربراہ کو قتل کرنے کے لیے خفیہ کارروائی کا طریقہ کار اختیار کیا۔یہ بات ایبٹ آباد آپریشن کی روئیداد قلمبند کرنے والے مبینہ امریکی نیوی کے سیل کمانڈو نے ''نو ایزی ڈے'' کے نام سے لکھی گئی اپنی کتاب میں کہی،کتاب میں کہا گیا ہے کہ صدر اوباما اور ان کے مشیروں نے آخری لمحے تک جب تک حتمی منظوری کے حکم نامے پر دستخط نہیں کیے گئے تھے اسامہ بن لادن کے خلاف آپریشن کے لیے مختلف طریقہ ہائے کار پر غور ہوتا رہا۔
مصنف کے مطابق وائٹ ہاس میں اس تجویز پر بھی غور ہوتا رہا کہ آپریشن کے لیے ایئرفورس استعمال کی جائے جس کے ذریعے بھرپور بمباری کرتے ہوئےB-2سپرٹ بمبار طیاروں کے ذریعے ایبٹ آباد میں اسامہ بن لادن کے مبینہ کمپانڈ کو سمارٹ بموں کے ذریعے تباہ کیا جائے،امریکی وزیر دفاع رابرٹ گیٹس بھی اس تجویز کی حمایت کر رہے تھے کیونکہ اس طرح امریکی فوج کو پاکستان سے دور رکھا جاسکتا تھا اور اس طرح یہ مشن کسی خودمختار ملک پر حملے سے خاصا مختلف ہوتا۔
ان کے مطابق اس کارروائی کے لیے دوہزار پائونڈ کے32بموں کی ضرورت پڑتی۔مصنف امریکی کمانڈو کے مطابق اس طرح پورا معاملہ ایک ڈیڑھ منٹ میں ختم ہوجاتا اور بم 30فٹ گہرائی تک ہر چیز کو ایک گڑھے میں بدل دیتا تاہم اس سے عام شہریوں کے جانی نقصان کا خدشہ زیادہ تھا اور پھر بعد ازاں اس قدر تباہی ہوتی اور وہاں موجود لوگوں کی شناخت ناممکن ہوجاتی، مصنف کے مطابق اسی لیے نیول سیل کمانڈوز کے ذریعے ایبٹ آباد میں اسامہ بن لادن کے خلاف خفیہ کارروائی کا طریقہ کار اختیار کیا گیا۔