مصر کی سرحد پر سرنگ سے 3 فلسطینی نوجوانوں کی لاشیں برآمد
مصر کی سرحدی فوج نے سرنگ میں زہریلی گیس پھینکی تھی، حماس
ان سرنگوں سے اسلحہ و دیگر ساز و سامان کی ترسیل کی جاتی ہے، فوٹو: فائل
مصر کی سرحد پر سرنگ سے 3 فلسطینی نوجوانوں کی لاشیں ملی ہیں جو مبینہ طور پر بارڈر فورس کی جانب سے سرنگ میں زہریلی گیس بھرنے کے باعث ہلاک ہوگئے۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق غزہ سے مصر میں نکلنے والی ایک سرنگ سے 3 فلسطینی نوجوانوں کی لاشیں برآمد ہوئی ہیں۔ حماس نے ہلاکتوں کا الزام مصر پر عائد کیا ہے۔
ترجمان حماس نے کہا ہے کہ مصر کی سرحدی فوج نے زیر زمین سرنگ میں زہریلی گیس پھینکی جس کے نتیجے میں سرنگ میں موجود تین نوجوان ہلاک ہوگئے۔ حماس کے علاوہ دیگر مزاحمتی گروپوں نے بھی واقعے کی تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔
مصر نے سرنگ میں فلطینی نوجوانوں کی ہلاکت پر تاحال کوئی بیان جاری نہیں کیا۔
واضح رہے کہ غزہ کی پٹی میں 2007 سے ایسی سرنگوں کو مصر سے اسلحہ اور دیگر سامان اسمگل کرنے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے اور دو برسوں سے مصری دستے اکثر ایسی سرنگوں کو تباہ کر دیتے ہیں۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق غزہ سے مصر میں نکلنے والی ایک سرنگ سے 3 فلسطینی نوجوانوں کی لاشیں برآمد ہوئی ہیں۔ حماس نے ہلاکتوں کا الزام مصر پر عائد کیا ہے۔
ترجمان حماس نے کہا ہے کہ مصر کی سرحدی فوج نے زیر زمین سرنگ میں زہریلی گیس پھینکی جس کے نتیجے میں سرنگ میں موجود تین نوجوان ہلاک ہوگئے۔ حماس کے علاوہ دیگر مزاحمتی گروپوں نے بھی واقعے کی تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔
مصر نے سرنگ میں فلطینی نوجوانوں کی ہلاکت پر تاحال کوئی بیان جاری نہیں کیا۔
واضح رہے کہ غزہ کی پٹی میں 2007 سے ایسی سرنگوں کو مصر سے اسلحہ اور دیگر سامان اسمگل کرنے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے اور دو برسوں سے مصری دستے اکثر ایسی سرنگوں کو تباہ کر دیتے ہیں۔